Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اپنی کتاب ’’اصلاح النساء ‘‘ تاریخ کی بدترین عورتوں کے بارے لکھتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں ’’صدوف ‘‘ نامی ایک کافر عورت تھی ، اس کا چال چلن اچھانہ تھا اور ایسی ہی ایک اور عورت بھی تھی اور ان کے گھر بکریاں وغیرہ دودھ کے جانور بہت سے تھے ۔ حضرت صالح ؑ کے معجزے سے خدا تعالیٰ نے پتھر سے اونٹنی نکالی اور گائوں میں زیادہ پانی ایک ہی کنوئیں میں تھا ، سب جانور وں کو اسی سے پانی پلایا کرتے تھے ، جب سے یہ اونٹنی پیدا ہوئی ، خدا تعالیٰ کے حکم سے اس طرح باری مقرر ہوگئی کہ ایک دن تو سب جانوروں کے پانی پینے کے واسطے رہے اورایک دن فقط یہ اونٹنی پیا کرے ، چونکہ وہ اونٹنی بہت زبر دست تھی ، اتنا پانی پی جاتی تھی کہ اس کی باری کے دن میں دوسرے جانوروں کے لیے نہیں بچتا تھا ، یہ بات سب کافروں کو کونا گو ار تھی ، اس میں ایک قصہ یہ ہوگیا کہ ان دونوں عورتوں نے جن کا یہ ذکر ہو رہا ہے ، ایسے ہی دو بد بخت مرد بھی تھے ، ان سے شکایت کی کہ ہمارے گھر زیادہ جانور ہیں اور ایک دن سب کو پیاسا رہنا پڑتا ہے ، اس کا کچھ علاج کردو وہ دونوں مرد اپنے ساتھ اور ساتھیوں کو لے کر اونٹنی کے راستے میں چھپ کر بیٹھگئے ، وہ اونٹنی پانی پینے جارہی تھی ، جب ان کے برابر پہنچی ، سب نے نکل کر تلوار سے حملہ کیا اور اس کے پائوں کاٹ ڈالے ، اونٹنی گر گئی ، پھر انہوں نے تلواروں سے بالکل اس کا کام تمام کر ڈالا ، ا س پرحق تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور پہلے دن سب کافروں کا منہ زرد ہوگیا اور دوسرے دن سرخ ہوگیا اور تیسرے دن کالا پڑ گیا اور چوتھے دن شروع میں بڑے زور سے ہالن آیا اور آسمان سے آگ برسنا شروع ہوئی ، پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ایسے زور سے ایک چیخ ماری کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اورجان نکل گئی اور آگ سے سب کی لاشیں راکھ ہوگئیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کانام واعلہ تھا ، وہ آپ ؑ پر ایمان نہیں لائی ، حضرت نوح ؑ کا بیٹا بھی کافر تھا ۔ جب طوفان نوح شروع ہوا اور زمین سے پانی ابلنے لگا تو حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کو کشتی میں سوار کرنے لگے ۔ اپنے بیٹے کو اور اس عورت (بیوی) کو بھی ہر چند سمجھا یا کہ ایمان قبول کر کے کشتی میں جائو ، مگر نہ تو ایمان قبول کیا اور نہ کشتی میں آئے ، بلکہ انہیں طوفان ہی کایقین نہ تھا ، اس لیے حضرت نوح ؑ پر ہنستے تھے ۔ غرض جب طوفان بڑھا ، اسی میں دونوں ڈوب گئے ۔ سلمیٰ بنت مالک پہلے ہمارے نبی ؐ کے زمانے میںمسلمان ہوگئی تھی ، حضور ؐ فرما گئے تھے کہ یہ مسلمان نہیں رہے گی ، چنانچہ ایسا ہی ہو ا ۔ جب حضورؐ وصال فرما گئے، اس کو حکومت کا خبط سوجھا اور دین سے پھر گئی ، بہت سے گمراہ آدمی اس کی حکومت میں گئے ۔ آخر مسلمانوں کا لشکر وہاں پہنچا اور اس عورت کا اور اس کے ساتھیوں کا تلوار سے خاتمہ کیا ۔ جیسے مال کی محبت بری چیز ہے ، اسی طرح سردار بننے کی بھی ہوس آدمی کو غارت کرتی ہے ۔ اس عورت کی دنیا اور دین دونوں خراب ہوئے ۔

متعلقہ خبریں