پاڑہ چنار میں انتہا پسندوں کا حملہ

پاڑہ چنار میں انتہا پسندوں کا حملہ

ہفتہ کے روز پاڑہ چنار کی سبزی منڈی میں بم دھماکہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جس میں 24عزیز پاکستانی شہید ہوئے ۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ اس واردات میں 51افراد زخمی ہوئے ۔ اللہ پاک انہیں صحت عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے۔ پھلوںکے کریٹ میں چھپائے ہوئے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کی اس بزدلانہ کارروائی کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے جو یہ ظاہر کرنے کی کوشش نظر آتی ہے کہ فاٹا میں دو سال تک جاری رہنے والے آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے باوجود تحریک طالبان پاکستان فعال ہے۔ لیکن یہ خام خیالی ہے۔ اس بہیمانہ واردات اور تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے محض یہ ثابت ہوتا ہے کہ فاٹا میں کامیاب آپریشن ضرب عضب کے بعد تحریک طالبان کے کچھ عناصر اور ان کے سہولت کار ملک کے مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں اور جہاں جب موقع ملے وہ نہتے عام لوگوں کے قتل و غارت گری کی وارداتیں کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے عناصر دھڑلے سے بیانات جاری کرتے تھے۔ پاک فوج کے کاروانوں پر حملے کرتے اور سیکورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر حملہ آور ہوتے تھے حتیٰ کہ انہوں نے راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا جس میں حملہ آور مارے گئے ۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے نہ صرف ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کیا گیا بلکہ ان کے عقوبت خانوں ' تربیت گاہوں اور اسلحہ خانوں کو مسمار کیا گیا ۔ ساری دنیا نے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کو سراہا ہے۔ اور بلاشبہ آپریشن ضرب عضب گوریلا جنگجوؤں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین کارروائی تھی۔ پاڑہ چنار کا ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی دلیل ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے نتائج کو پائیدار بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے جس نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی اس پر عمل درآمد کیا جائے اور تحریک طالبان پاکستان کے بچے کھچے منتشر عناصر کی تلاش اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سارے ملک میں کومبنگ آپریشن پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ آج کے دور میں رابطہ کرنے کی بہت آسانیاں ہیں۔ آپریشن ضرب عضب فوج نے کیا اور تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی کمان کو منتشر کردیا اور ان کے مراکز کو تاراج کردیا۔ لیکن ان کے بچے کھچے عناصر کو ان کے خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا کام محض فوج کا نہیں ہے۔ اس کے لیے عام شہریوں' مقامی قیادت ' امن وامان کے ذمہ دار مقامی اداروں میں ارتباط ضروری ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان سریع الرفتار رابطے اور انتہا پسندوں کے بارے میں معلومات کا فوری تبادلہ بہت ضروری ہے۔ بسوں کے اڈوں پر اس مفہوم کی عبارتوں والے بورڈ لٹکا دینا کافی نہیں ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کوئی لاوارث سامان دیکھیں تو فلاںنمبر پر ٹیلی فون کر دیں۔ ایسی اطلاعات موصول کرنے والوں کا ہمہ وقت ٹیلی فون سننے کے لیے موجود ہونا اور بروقت کارروائی کرنا بھی ضروری ہے خواہ وہ اطلاعات غلط ہی ثابت کیوں نہ ہوں۔ ایسی اطلاعات فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں ۔ یہ مقامی نمائندے یا ان کے حامی تقریباً ہر گھر سے واقف ہوتے ہیں کہ وہاں کون رہتا ہے۔ اس کا ذریعہ معاش کیا ہے اور اس کے تعلقات کیسے لوگوں سے ہیں ۔ یہ اگر اجنبیوں پر نظر رکھیں اور اطلاع فراہم کرنے پر ان کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں تو بہت سی اہم معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حاصل ہو سکتی ہیں۔ یہ کام محض انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری سمجھ کر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انتہا پسندی سے نجات ہر شہری کی ضرورت ہے اس لیے مقامی قیادت کو مقامی انتظامیہ کو دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے مستعد رہنا چاہیے۔ انتہا پسند ایک واردات کے بعد دوسری کے درمیان کافی وقفہ دینے لگے ہیں جس کا ایک مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ایک واردات سے پیدا ہونے والے غم و غصہ پر صبر کر لیں اور زندگی کے معمولات میں پھر سے لاپروائی کو چلن بنا لیں۔ لیکن مقامی قیادت اور مقامی انتظامیہ کو انتہا پسندی کے ممکنہ واقعات کے حوالے سے مستعد رہنا چاہیے اور عام لوگوں کو مستعد رکھنا چاہیے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاڑہ چنار بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج ہر محاذ پردہشت گردوں کو شکست دے گی اور انہیں دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ لیکن انتہا پسندی ایسا عفریت ہے جس کا اگر چھوٹا سا حصہ بھی نظر انداز ہو جائے تو یہ سرطان کی طرح پھیل سکتا ہے۔ جنرل باجوہ اس سلسلے میں پیش قدمی کر رہے ہیں انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پربات کی ہے، انہیں پاک افغان سرحدی انتظام میں تعاون کرنے کے لیے کہا ہے اور افغانستان کے ساتھ انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے جو ایک بار اس سے پہلے بھی پیش کی جا چکی ہے۔ لیکن صدر اشرف غنی کی رضامندی کے باوجود افغانستان کی خفیہ کار ایجنسی نے معاہدہ پر دستخط ہونے سے محض ایک دن پہلے ایسے انتظام سے انکار کردیا تھا۔ گمان غالب یہ ہے کہ اب یہ تجویز صدر اشرف غنی کے ان الزامات کے بعد پیش کی گئی ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے علاقے سے جا کر افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا تھاکہ افغانستان میں بم دھماکے کرنے والے پاکستان کے علاقے میں آزادانہ پھرتے دیکھے گئے ہیں۔ اگر افغان خفیہ کار ادارے یہ جانتے ہیں کہ کون افغانستان میں بم دھماکے کرتا ہے جو پاکستان کے علاقے میں آزادانہ گھومتا پھرتا نظر آتا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے خفیہ کار اداروں سے رابطہ کریں اور ایسے افراد کی نشاندہی کریںتاکہ ان پر گرفت کی جا سکے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان دونوں کے دشمن ہیں۔ اس لیے اگر دونوں ملکوںکے خفیہ ادارے آپس میں تعاون کریں تو افغان انٹیلی جنس اہل کار بھی پاکستانی حکام کو بروقت اطلاع دے سکتے ہیں کہ انتہا پسندوں کے کون سے عناصر دہشت گردی کی کارروائی کے لیے خفیہ طور پر پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی طرف مائل ہیں۔ لیکن دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان جنہیں دہشت گردی کے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کوئی معاہدہ نہیں۔ پاکستان ایسے معاہدے کی تجویز پیش کر چکا ہے لیکن جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے اس کا مثبت جواب نہیں آیا جو افغانستان کی پالیسی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کے لیے پاکستان کو سفارت کاری کے ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس کے تبادلہ کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پاک افغان سرحدی انتظام اور بھی ضروری ہے جس کے لیے دونوں ملکوں کی اڑھائی سو کلومیٹر سرحد پر پاکستان گیارہ ایسے راستے قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جن سے دونوں ملکوںکے درمیان قانونی سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کی سہولت ہو اور باقی طویل سرحد پر آمدورفت پر پابندی عائد کر دی جائے۔ یہ تجویز افغانستان کے بھی مفاد میںہے جس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گرد جا کر افغانستان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس لیے افغانستان کی طرف سے تو اس تجویز کی نہ صرف حمایت بلکہ انتظام میں تعاون کی توقع ہونی چاہیے تھی لیکن افغانستان نے اس کا بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ تاہم پاکستان نے اپنے طور پر اس منصوبے پر کام شروع کیا ہوا ہے تاکہ فرار ہوکر افغانستان جانے والے انتہا پسند دوبارہ خفیہ طور پر پاکستان نہ آ سکیں اور یہاں پھر دہشت گردی کے ٹھکانے نہ بنا سکیں۔ افغانستان کی طرف سے متذکرہ بالا دونوں تجویزوں کا مثبت جواب نہ آنے پر پاکستان کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ سارے ملک میں جلد از جلد کومبنگ آپریشن شروع کیا جائے۔ اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں ' ان کے خفیہ ٹھکانوں ' اسلحہ خانوں کا سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اداریہ