Daily Mashriq


اقوام متحدہ کا نیا امتحان

اقوام متحدہ کا نیا امتحان

ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران ہی وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیٹرس سے ملاقات کی ہے ۔جاپان سے تعلق رکھنے والے بان کی مون کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب برازیل سے تعلق رکھنے والے مسٹر انٹونیو نے حال ہی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں ۔ڈیوس میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت آبی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے ۔جس کے جواب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کی حساسیت سے آگاہ ہیں اور اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے ۔وزیر اعظم نوازشریف نے بجا طور پر عالمی ادارے کے سربراہ کی توجہ خطے کے دو اہم اور سلگتے ہوئے مسائل کی جانب مبذول کرائی ہے ۔حقیقت میں مسئلہ ایک ہی ہے باقی اس کی پرتیں اور جہتیں ہیں اور وہ ہے مسئلہ کشمیر ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ساری بداعتمادی ،کشیدگی اور کشمکش سردو گرم جنگوں کا محرک کشمیر ہی ہے ۔یہی بداعتمادی پھیل کر اقتصادی ،سفارتی ،سیاسی شعبوں تک پھیل جاتی ہے ۔سیاچن اور پانی سمیت تمام مسائل نے اسی ایک مسئلے سے جنم لیا ہے ۔مسٹر انٹونیو نے ایک ایسے وقت میں عالمی ادارے کی سربراہی کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں جب دنیا شدید کشمکش کی زد میں ہے اور امریکہ اور روس و چین کے غیر محسوس طور پر تشکیل پانے والے بلاکوں کے درمیان سر دجنگ کی کیفیت دوبارہ پیدا ہو رہی ہے ۔دنیا جنگ وجدل اور فتنہ وفساد سے بھر دی گئی ہے اور اچھے بھلے مضبوط ملکوں کے سول سٹرکچر کو برباد کرکے انہیں خانہ جنگی کا شکار بنا دیا گیا ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ اس انجام سے دوچار ہونے والے تمام ملک مسلمان ہی ہیں۔ایک طرف جہاں مسلمان ملک اور معاشرے اقوام متحدہ کے کردار سے نالاں اور ناراض ہیں وہیں کئی دوسرے ممالک روس اور چین کی صورت میں اقوام متحدہ میں اُبھرنے والے ڈیٹرنس کے باعث مایوس ہیں جن میں امریکہ اور اس کے دو شہ بالے بھارت اور اسرائیل شامل ہیں ۔اسرائیل فلسطینیوں کے حق میں ایک قرار داد پاس کرنے پر اس ادارے سے خفاہے بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت نہ ملنے پر ناراض ہے اور امریکہ ان دونوں کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہے ۔اسی لئے ان حلقوں میں اب ایک نئے عالمی ادارے کے حق میں آوازیں اُٹھنے لگی ہیں ۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس ادارے کو گپ شپ کی جگہ قرار دے چکے ہیں ۔چین کی طرف سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کے ویٹو ہوجانے کے بعد کئی بھارتی دانشور مغضوب الغضب دکھائی دئیے ۔بھارت کے بہت سے دانشوروں نے نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ اقوام متحدہ کے متبادل ایک نئے فورم کی بنیاد رکھ دی جائے ۔یہ کہنا اور سوچنا تو شاید آسان ہو مگر عملی طور پر اس جانب پیش رفت ناقابل عمل ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر پیغام میں اقوام متحدہ کو گپ شپ کی جگہ قرار دینے کے بعد کچھ انہی خیالات کا اظہار نائب صدر کی سابق امیدوار سارہ پیلن نے بھی کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کو بائے بائے کہہ دینا چاہئے ۔چند برس پرانی بات ہے کہ اقوام متحدہ کا یہی ادارہ امریکہ کا پسندیدہ تھا ۔یہ وہ دور تھا جب دنیاسوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد ایک قطبی ہو کر رہ گئی تھی ۔سوویت یونین سکڑ کر روس بن گیا تھا اور اپنے ماضی کے زخم سہلارہاتھا ۔چین اپنی اقتصادیات کو نہایت خاموشی سے مضبوط بنا رہا تھا ۔یورپ اپنی عظمت رفتہ کو بھول کر امریکہ کی ہمنوائی اور خود سپردگی اختیار کر چکا تھا دنیا کی قابل ذکر اور عالمی حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھنے والی طاقتوں کا حال یہ تھا ۔دنیا میں طاقت کا توازن قصہ ٔ پارینہ بن چکا تھا ۔ اس مدت میں اقوام متحدہ کا ادارہ یونی پولر دنیا کی واحد سپر پاور کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بن کر دہشت گردی کے نام پر قراردادوںپر قراردادیں منظور کر کے اسے دوسرے ملکوں کے اقتدار اعلیٰ کو پامال کرنے کے لائسنس دیتا تھا ۔اب جبکہ کچھ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کروٹ کے بعد منظر تبدیل ہونے لگا ہے اور ڈھائی عشرے سے عدم توازن کا شکار عالمی نظام میں دوسرا پول اُبھرنے سے توازن پیدا ہونے کے آثار آ نے لگے ہیں تو امریکہ اور بھارت اس ادارے سے خفا خفا دکھائی دینے لگے ہیں۔ روس اور چین نے ان طاقتوں کی خواہشات کے آگے سپیڈ بریکر لگانا شروع کئے تو اب اس ادارے کی افادیت سے ہی انکار کیا جا رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے نومنتخب سیکرٹری جنرل انٹونیوگیٹرس کو نئے حالات کو تسلیم نہ کرنے والی اس سوچ سے پالا پڑنے جا رہا ہے ۔ مسلم دنیا کا ہی حوصلہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اس آبادی کے دو قدیم مسائل کشمیر اور فلسطین کے بارے میں کوئی عملی پیش رفت نہیں کی ۔دونوں مقامات پر کبھی لفظوں سے کام لیا اور کبھی لفظ بھی یاد نہ رہے ۔مسلمانوں پر کہاں کہاں اور کون کون سی قیامتیں گزر گئیں اور اقوام متحدہ کا ادارہ مہر بہ لب رہا مگر اس کے باجود مسلم دنیا میں اقوام متحدہ کے ادارے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی سوچ کہیں بھی پیدا نہیں ہوئی ۔مسئلہ کشمیر کو انہتر سال ہو چکے ہیں ۔اس عرصے میں کشمیریوں نے آگ اور خون کے بے شمار دریا عبور کئے اقوام متحدہ کسی بھی موقع پر سرگرم کردار ادا نہ کر سکا ۔اب میاںنوازشریف کی طرف اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل سے کشمیر جیسے مسائل کے حل میں کردار کی خواہش بھی مبصرین کے دفاتر میں پیش کی جانی والی قراردادوں جیسی ہے ۔اب بدلتے ہوئے عالمی منظر میں عالمی ادارے کو کچھ مسائل پر متحرک کردار کی طرف لوٹنا پڑے گا بصورت دیگر مسلم دنیا بھی اس ادارے کی افادیت سے انکاری ہوجائے گی اور عین ممکن ہے کہ اس کا حشر بھی لیگ آف نیشنز جیسا ہوجائے۔

متعلقہ خبریں