Daily Mashriq


شام کا مستقبل

شام کا مستقبل

قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس اور ترکی کی مشترکہ کاوشوں سے شام کے مستقبل بارے میں منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں روس،ترکی ایران ،سعودی عرب اور امریکاسمیت شام میں لڑنے والی اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔جب کہ شامی خانہ جنگی میں شریک فرانس،جرمنی سمیت دیگر مغربی طاقتوں کو تاحال اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔تقریباً گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ترکی اور روس اس کانفرنس کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔اس سلسلے میں شامی تنازعے کے تینوں اہم کردار یعنی روس ایران اور ترکی کئی بار ملاقات کرچکے ہیں۔2012ئ، 2014ء اور 2015ء میں منعقد ہونے والی جنیوااور ریاض کانفرنس کے بعد شامی تنازعے کے حل کے لیے یہ چوتھی بڑی کانفرنس ہے۔کانفرنس کا مقصد شام میں مستقل جنگ بندی اور پرامن سیاسی حل نکالنا ہے۔ روس، ایران، ترکی بشارالاسد اور اقوام متحدہ سمیت دیگر کئی طاقتیں پرامید ہیں کہ اس کانفرنس سے شام میں جاری گزشتہ چھ سالہ خانہ جنگی رک جائے گی۔قازقستان کے صدرنورسلطان نزاربایوف کے مطابق انہیں خوشی ہے کہ ان کا ملک شام میں جاری انسانیت کش مظالم ختم کروانے کے لیے اہم کردارادا کررہاہے۔ کانفرنس کے منتظمین کے مطابق نومنتخب ٹرمپ انتظامیہ کو بھی کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق آستانہ کانفرنس شام کے مستقبل کے بارے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی8فروری کوہونے والی چوتھی جنیوا کانفرنس کے لیے اہم پیش خیمہ ثابت ہوگی۔کیا واقعی آستانہ کانفرنس چھ سالہ شامی خانہ جنگی ختم کرواسکتی ہے؟یہ انتہائی اہم سوال ہے۔اس کے لیے شامی خانہ جنگی کے حل کے لیے ماضی میں کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔2011ء میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کو رکوانے کے لیے اب تک تقریباً20 کے قریب چھوٹی بڑی بین الاقوامی کانفرنسیں ہوچکی ہیں۔جن میں اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی تین جنیوا کانفرنسیں اورویانا، ریاض، ماسکو، انقرہ، تہران،پیرس،میونخ،دمشق وغیرہ میں شامی حکومت اور اپوزیشن اور ان کے حلیفوں کے ساتھ کی جانے والی اہم ملاقاتیں شامل ہیں۔شامی خانہ جنگی کے حل کے لیے ماضی میں کی جانے والی کوششوں کے بعد دسمبر2016کے آخر میں حلب میں خانہ جنگی کے بعدترکی اور روس نے قازقستان کے شہر آستانہ میں امن کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔روس اور ترکی اس کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔اس سلسلے میں 11جنوری کو ترکی میں روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے اہم ملاقات اور 12جنوری کو روسی صدر نے ترک صدر اورقازقستان کے صدر سے ٹیلی فونک بات چیت بھی کی ہے۔بنیادی طورپرآستانہ کانفرنس میں روس، ترکی، ایران، شام اور دیگر شامی اپوزیشن اورجہادی جماعتوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔جن میں سے چند بڑی جماعتوں کے علاوہ درجن بھرچھوٹی جماعتوں نے بھی مستقل سیزفائر کی شرط پرشرکت کی حامی بھی بھرلی۔ترکی کی طرف سے سعودی عرب کو بھی شامل کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔جس پر ایران نے روس اور ترکی سے سخت احتجاج کرکے سعودی عرب کو شامل نہ کرنے کی شرط عائد کررکھی ہے۔یہ کانفرنس شامی خانہ جنگی کے حل میں نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں ؟حتمی طور پر اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔البتہ شامی خانہ جنگی کے حل کے لیے ماضی میں کی جانے والی کوششوں کو سامنے رکھنے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ گزشتہ 20 کے قریب امن کانفرنسوں کی طرح اس کانفرنس سے بھی کوئی مثبت نتیجہ برآمدہونا مشکل ہے۔اس کی بنیادی وجوہات میں شام میں لڑنے والے گروہوں کے مفادات اور نظریات میں تفاوت،بشارالاسد کا حکومت سے الگ نہ ہونا ،ایران کی ترکی اورسعودی عرب کے ساتھ انڈرسٹیڈنگ کا نہ ہونا ہے۔اس کے علاوہ روس امریکا اور یورپی طاقتوں کی ایک دوسرے پر بالادستی قائم کرنے کے لیے باہمی کشمکش بھی اس کانفرنس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کانفرنس کے دونوں ذمہ دار ترکی اور روس کے درمیان اگرچہ تعلقات باوجود کئی حادثات کے مضبوط ہورہے ہیں۔لیکن محض ان دونوں کی کوششوں سے عالمی طاقتوں کو سمجھا کر شام سے نکالنا اور داعش کو ختم کرنا محال نہیں تو مشکل ضرورہے۔اگر روس،ترکی اور ایران بشار کے ہٹانے پر متفق ہوجائیں تو پھر نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف کمزور ہوجائے گا،بلکہ ان کے ساتھ داعش ایسی شدت پسند تنظیموں کا قلع قمع کرنا بھی آسان ہوجائے گا۔لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟جب روس،ایران اور شامی حکومت کو چار سال کی مزاحمت کے بعد حلب ایسے بڑے شہر پر کامیابی بھی مل چکی ہو اور روس کو شامی حکومت کی جانب سے بحیرہ اسود تک اپنے بحری اڈوں کو وسیع کرنے اور ایران کو عراق کی طرح شام میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی اجازت بھی مل چکی ہو۔اس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ بشارالاسد اور ایران کے مابین رواں سال17جنوری کو ہونے والے تازہ معاہدوں میںایران کو حلب اور دیگر شہروں میں کنسٹرکشن،گیس اور تیل کے ذخائر اور دیگر زراعی اراضی کی دیکھ بھال سونپ دی گئی ہے۔اس سے پہلے ایران پچھلے پانچ سالوں میںبشارحکومت کو لگ بھگ چھ بلین ڈالرز کے قرضوں کے عوض شامی پٹرولیم اورگیس کی صنعتوں کو اپنی گرفت میں لے چکاہے۔

متعلقہ خبریں