دل ناداں تجھے ہوا کیاہے

دل ناداں تجھے ہوا کیاہے

دل ناداں کو جو روگ لاحق ہے اس کا بھی ذکر کریں گے،پہلے بتاتے چلیں کہ مستقبل قریب میں تو خیر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مستقبل بعید میں بھی دل ناداں کے اس مسلسل درد کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ وہ جو پشتو کے کسی شاعر نے زلف پیچاں کے زہریلے سانپ کے ڈسنے پر کہا تھا۔ کہ اس کا علاج کسی سپیرے کے پاس بھی نہیں۔ ہمارے دل کے روگ کے علاج سے اگر حکیم لقمان بھی آج زندہ ہوتے تو انکار کردیتے۔ کچھ عوارض جسمانی ہوتے ہیں جن کا علاج ایلو پیتھی' ہومیو پیتھی' طب یونانی' طب اسلامی کے نسخوں میں مل جاتا ہے۔ ہمارے سینے میں 70 سال سے دھڑکنے والے دل کو کیا بیماری ہے۔ہم پورے وثوق سے بتا رہے ہیں کہ اس کا ہمارے ذاتی مسئلے سے ہر گز کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بفضل تعالیٰ ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ ہے ہی نہیںلینڈ لارڈ نہیں کہ اپنی جائیداد کو بچانے کا خدشہ ہو۔ ہماری ساری جائیداد ہماری کھوپڑی میں محفوظ ہے۔ بزرگ شہری کے طور پر سرکار نے جو گزارہ الائونس مقرر کر رکھا ہے اس میں وہ جو پشتو محاورے میں کہتے ' شیطان کے کان بہرے اس میں گزر بسر ہو رہی ہے۔ ہم صبح جب غم روز گار کے لئے نہیں صرف دل پشوری یا پھر دل مردانی کی غرض سے ہلکے پھلکے خوشگوار موڈ میں گھر سے نکلتے ہیں تو پہلے اس نوجوان کو دیکھ کر دل کو ایک دھچکا سالگتا ہے جو موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے لیکن اس کی نگاہیں روڈ پر ہونے کی بجائے ہاتھ میں پکڑے موبائل فون کی سکرین پر جمی ہوتی ہیں اور وہ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل کوسنبھالے دوسرے ہاتھ سے اپنے موبائل فون پر پیغام رسانی کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔ دل ناداں سوچتا ہے کہ اس پیغام رسانی سے اگر نوجوان کی زندگی اور موت کا کوئی مسئلہ وابستہ تھا تو وہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے اپنی موٹر سائیکل کو روڈ کے کنارے کھڑی کرکے سکون سے اس مسئلے کو نمٹا سکتا تھا۔ آپ یقین کریں ہم نے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنے گھر کے گیٹ سے برآمد ہونے کے بعد گھر والوں سے پوچھنے لگتے ہیں آج کیا پکانا ہے۔ بھنڈی لائوں یا پھر آلو۔ ایسے ہی ایک صاحب کو جب ہم نے جو بیچ سڑک پر کھڑے تھے ایک بار نہیں مسلسل ہارن بجا کر ان کو توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنی گاڑی کی کھڑکی سے سر نکالتے ہوئے بڑے خونخوار لہجے میں کہا' دیکھتے نہیں فون پر ضروری سوال جواب کر رہا ہوں۔ ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لئے ہمارے دوست عبدالسبحان خان جو طریقہ تجویز کرتے ہیں وہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ فشار خون میں کچھ تیزی ضرور پیدا ہوجاتی لیکن صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ آگے جا کر چوراہے پر گاڑیوں کی لمبی قطار میں خاموشی کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انتظار کا سلسلہ جب زیادہ طویل ہو جاتا ہے تو قریب کھڑے گدھا گاڑی والے سے پوچھتے ہیں یہ ٹریفک کیوں جام ہے بھائی' کیا کسی نے گیس کے کم پریشر یا لوڈشیڈنگ پر احتجاجاً روڈ تو بلاک نہیں کیا۔ معلوم کرکے آتا ہوں' آپ میرے اس گدھے پر نظر رکھیں۔ واپس آنے پر بتاتا ہے ٹریفک والے نے گوبھیوں سے بھری ایک ڈاٹسن کو سڑک پر روک رکھا ہے اور ڈرائیور سے گفت و شنید میں مصروف ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ نچا نچا کر باتیں کر رہے ہیں' سوچتے ہیں اگر اس روڈ پر گوبھی لاد کر گاڑی گزارنے پر پابندی ہے تو کیا اس گاڑی کے چالان کرنے سے تمام شہر کی ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ہم کو کم و بیش روزانہ اس قسم کے بے شمار واقعات سے پالا پڑتا ہے۔ شہر کے ہر چوراہے پر گوبھی ' آلو اور کدو سے بھری گاڑیاں روکی جاتی ہیں۔ سڑک پر ٹریفک جام ہوتا ہے' ٹریفک وارڈن ہاتھ میں چالان بک تھامے ڈرائیور سے طویل بحث مباحثے میں مصروف ہوتا ہے۔ اس کی بغل سے سبزیوں سے بھری گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں لیکن اس نے صرف اس ایک گاڑی کو چالان کرنے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہوتا ہے۔ اس ایک آدھ چالانوں سے ٹریفک قوانین کی خلاف وزی کا مسئلہ جوں کا توں قائم رہتا ہے۔ اس میں کوئی بہتری پیدا نہیں ہوتی۔ مسئلہ تب حل ہوتا ہے جب کوئی کام ایک مربوط سسٹم کے تحت کیا جائے۔ ایسے نظارے دیکھنے کے بعد فشار خون مزید تیز ہو جاتا ہے۔ سبزی منڈی میں عشق کے مزید امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں پر ہر دکاندار کی سبزی کا نرخ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ ایک ریڑھی والا اپنی بغل میں کھڑے دوسرے ریڑھی والے سے ٹماٹر اور آلو کے نرخ کم یا زیادہ بتائے گا جب آپ قیمتوں میں اس واضح فرق کی وجہ پوچھتے ہیں تو ان سب کا ایک ہی جواب ہوتا ہے ' دا خو صیب د ھر چا خپل خپل نرخ وی۔ 

یہ تو اپنے اپنے نرخ کی بات ہوتی ہے۔ سوچتے ہیں کہ کیا شہر کی انتظامیہ میں کوئی پرائس کمیٹی نہیں۔ اگر ہے تو وہ بازار میں اشیاء صرف کی قیمتوں کی نگرانی کیوں نہیں کرتی۔ سبزی منڈی میں اندھیر نگری کا یہ سماں دیکھ کر فشار خون کو قابو میں رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جاتا ہے۔ صبر کے گھونٹ کے ساتھ صاف پانی کا ایک گلاس ڈھونڈ کر پینا پڑتا ہے۔ صاف پانی پر یاد آیا دو ایک روز پہلے پنجاب میں صاف پانی کے کسی منصوبے میں کروڑوں روپے کے گھپلے کی خبر پڑھی' افسوس ہوا۔ اب بازار میں زندگی بخش پانی کے نام سے بوتل خریدتے وقت خدشہ رہتا ہے کہ اس میں بھی کہیں گھپلے والا پانی نہ بھر دیاگیا ہو۔ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ ہم صبح کے اوقات میں نہایت ہی خوشگوارموڈ میں دل مردانی کے لئے گھر سے نکلتے ہیں' واپسی پر ہمارا فشار خون قابو میں نہیں ہوتا۔ یقین جانئے اس میں کوئی مسئلہ بھی ہمارا ذاتی نہیں ہوتا۔ بس دل ناداں کو کچھ زیادہ کڑھنے کی عادت ہوگئی ہے اور اس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔

اداریہ