مسلمان دہشت گرد نہیں

مسلمان دہشت گرد نہیں

ٹرمپ نے امریکہ کے صدر کے عہدے کاحلف اٹھا لیاہے ۔ نومنتخب صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ امریکہ نے ما ضی میں اپنے دفاع کے بجائے دوسرے ممالک کے دفاع پر پیسے خرچ کئے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ میں لوگوں کو نو کریاں دیں گے اور اسلامی دہشت گر دی کو سختی سے کچلنے کے لئے ایک بین الاقوامی فوج بنائی جائے گی۔اگر امریکہ کے نو منتخب صدر کی حالیہ تقریر کو دیکھا جائے تو اسکا ابتدائی حصہ مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہے مگر در حقیقت امریکہ خود دنیاکا امن تہ وبالاکر رہا ہے۔ عراق پر حملے کے لئے جواز پیش کیا جا رہا تھا کہ اس کے پاس جو ہری ہتھیار ہیں مگر وہاں پر نہ تو جو ہری اور نہ ہی کیمیاوی ہتھیار ملے۔ دراصل اس قسم کے الزامات کا مقصد افغا نستان اور عراق کے وسائل پر قبضہ کر نا تھا۔ اگرایک طر ف عراق میں تیل اور گیس کے بے تحا شاذخا ئر ہیں تو دوسری طرف افغانستان میں تیل ، گیس ، یو رینیم اور لیتھیم کے علاوہ پاکستان اور اس کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت ہے۔ جہاں پر نا جائزقبضہ کر کے وہ ایران ، پاکستان ، وسطی ایشیائی ریاستوںاور چین کو قابو کرنا چاہتا ہے۔ لیبیا میں چپقلش پیدا کر کے وہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کو ششیں کی جارہی ہیں۔ امریکہ نے افغا نستان میں 3لاکھ اور عراق میں تقریبا ً 10 لاکھ بے گناہ شہری قتل کئے۔ عراق میں امریکہ کی مدا خلت کے بعد 60فی صد لوگ بے روز گا ری اور 40فی صد سخت غذائی قلت کا شکارہیں۔ دہشت گر دی اور انتہا پسندی تو امریکہ پو ری دنیا میں کر رہا ہے۔اگر پو ری دنیا کے دفاعی اخراجات پر نظر ڈالی جائے تو وہ تقریباً 1676 ارب ڈالر ہے جس میں صرف امریکہ کے دفاعی اخراجات 700 ارب ڈالرہیں ۔ جو پوری دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔ دفاع پر اتنے اخراجات امریکہ کی جنگی پالیسی کا ہے۔اگر امریکہ جنگی جنون کی اس پالیسی کوترک کرتا اور اس رقم کو انسانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر لیتا تو اس وقت دنیا میں کوئی غریب نہ ہوتا۔ امریکہ نے گو ئٹے کال پر 1954، انڈو نیشیاء پر 1955، کانگو پر 1964، کیوبا پر 1960، ویت نام پر 1975، لبنان پر 1984، عراق پر 1991 اور افغانستان پر 2001 میں بلا جواز حملہ کر کے مطلق العنانی کا ثبوت دیا۔ جہاں تک ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے بجائے دوسرے ممالک کے دفاع پر خرچ کرتے رہے ۔ امریکہ نے روس کو ٹکڑے کرنے کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جبکہ پاکستان کی تمام جانی اور مالی قر بانیوں کے با وجود امریکہ کی امداد کچھ بھی نہیں۔ پاکستان کے معرض وجود آنے سے اب تک امریکہ پاکستان کو کل41.926ارب ڈالر امداد دے چکا ہے جس میں 34 ارب ڈالر اقتصادی امداد اور 9 ارب ڈالر فوجی امداد ہے۔جبکہ اسکے بر عکس امریکہ کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو 70 ارب ڈالرکا نُقصان ہوا اور ہزاروں بے گناہ لوگ اس جنگ میں شہید ہوئے ۔امریکہ دوسرے ممالک کو استعمال کرکے اپنے مفادات حا صل کرنا چاہتا ہے۔امریکہ کی نظریں ایران کے تیل ذخائر پر لگی ہوئی ہیں۔ایران کے تیل پر قبضہ کرنے سے پہلے امریکہ نے سعودی عرب کے تقریباً 300 بلین بیرل تیل، عراق کے 150 بلین بیرل تیل، متحدہ عرب امارات کے 100 بلین بیرل تیل، کویت کے 100 بلین بیرل تیل پر خلیج جنگ اور دوسرے کئی بہانوں سے قبضہ کر چکاہے۔ا ب ا مریکہ کی نظریں ایران کے 126 بلین بیرل تیل ذخائر، 940 ٹریلین مکعب فٹ گیس اور 2 ہزار ملین شارٹ ٹن کوئلے کے ذخائرپر لگی ہوئی ہیں۔ ایران دنیا میںتیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔امریکہ اس تیل کا17 فیصد ضروریات سعودی عرب، 15 فیصد عراق،6فیصد نائجیریا اور باقی دوسرے ممالک سے پورا کرتا ہے۔ابھی پوری دنیا میں تیل کے ذخائر 800بلین بیرل ہیں۔ عالمی تیل کے اس استعمال میںتقریباً 50 فی صد تیل امریکہ استعما ل کر رہا ہے۔امریکہ میں تیل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس کی کو شش ہوگی کہ وہ اپنے تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کے بنانے کی آڑ میں ایران پر حملہ کردے اورا یران کے تیل ، گیس اور کوئلے کے بے تحاشا ذخائر پر قبضہ کیا جائے۔مشہور تا ریخ دان، ماہر اقتصادیات، صحافی تین کتابوں کے مصنف، ڈیمو کریٹک پا رٹی کے ممبر ویبسٹر ٹراپلی نے ایک ٹاک شو میں افغانستان اور دہشت گر دی کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اصل میں دہشت گر دی کیخلاف جنگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر نے کے لئے شروع کی ہے اور امریکہ کی کو شش ہے کہ افغانستان جنگ کو پاکستان میں منتقل کیا جائے ۔پیو جو ایک عالمی سروے اور ریسرچ ادارہ ہے کا کہنا ہے کہ امریکہ خلیج کے تیل پر اس جنگ کی وجہ سے قابوکرنا اور دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اب ٹرمپ کو مُثبت سوچنا چاہئے۔ طاقت اور زور کا استعمال ٹرمپ سے پہلے امریکہ کے اور صدور کر چکے ہیں مگر اُسکا نتیجہ صفر نکلاہے۔

اداریہ