Daily Mashriq


نصاب و نظام تعلیم اور معاشرے کی اخلاقیات

نصاب و نظام تعلیم اور معاشرے کی اخلاقیات

یہ دنیا انسان کے لئے دارالامتحان کے طور پر تخلیق کی گئی ہے۔خالق کائنات نے اس کائنات کی تخلیق اتنی دلچسپ ،رنگا رنگ پراسرار اور حکمت بھری انداز میں کی ہے کہ سائنس کی کمال حد تک ترقی نے بھی ابھی اس حد تک رسائی حاصل نہیں کی ہے جس کے لئے یہ دنیا تخلیق کی گئی ہے۔اس سلسلے میں اگرچہ معلوم تاریخ کے مطابق متعدد نظریات رائج رہے ہیں لیکن مغرب میں سائنس کی ترقی یافتہ علوم کے منظر عام کے بعد یہ بات مسلمہ طور پرتسلیم کی گئی ہے کہ اس دنیا کا نظام ایک لگے بندھے قانون کے تحت چل رہا ہے اور چلانے کے پیچھے خالق کائنات کا امر ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ماننے والے اللہ کی تدبیر اور قدرت کہتے ہیں اور سائنس دان اور ان کے ماننے والے نیچرل لاز یا قوانین فطرت کہتے ہیں۔دنیا میں جب تک مسلمان غالب رہے ، سائنسی علوم اور ایجادات ایک طرف مسلمان کے ایمان میں اضافہ کا سبب بنتے رہے اور دوسری طرف زندگی کے امور کو آسان و پرُ آسائش بنانے کے کام آتے رہے ۔ مسلمان سائنسدان کے سامنے جب کبھی علوم و تحقیق کے ذریعے اللہ کی قدرت کے اسرار آشکارہ ہو کر سامنے آتے تو صاحبِ ایمان کی حیثیت سے اُن کی زبان سے بے اختیار ''سبحان تیری قدرت '' کی صدابلند ہوتی ۔ دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ مسلمان سائنسدان نے نیچرل سائنز کے علوم بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا نے کے لئے استعمال کیا یعنی ان علوم کو نفع بخش بنا کر دنیا کے سارے انسانوں کے سامنے پیش کیا ۔ سپین میں مسلمانوں کی حکومت قائم نہ ہوتی تو شاید مغرب تک سائنس کی یہ روشنی نہ پہنچتی۔ مسلمانوں کے ہاں علوم و تحقیق ، تجسس اور علم کے حوالے سے جائز سوالات اور اُن کے جوابات نے مارٹن لو تھر جیسے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ اپنے پادریوں کے غیر منطقی مذہبی اصول و احکام کو چیلنج کرے جس سے مغرب میںعلمی انقلاب آیا اور سائنس علوم کو معراج ملا لیکن وہاں بڑا سانحہ یہ ہوا کہ سائنس جتنی ترقی کے مراحل و مدارج طے کرتا گیا اُتنا انسان اللہ سے کٹتا چلا گیا یہاں تک کار ل مارکس ، سیگمنڈ فراٹیڈ اور چارلس ڈارون نے یورپ کے انسا ن کو اپنے خالق ، رازق اور مالک سے کاٹ کر نیول سائنز کی ترقی کے ذریعے حاصل کردہ علوم کے زعم میں اپنی عقل وفہم کو خدا کا درجہ دے بیٹھے ۔ جس کے مظاہراس یورپ سے امریکہ تک اور مشرق بعید میں جاپان و جنوبی کوریا اور چین تک انسان و انسانیت کے سامنے ہیں کہ انسان کو بظاہر زندگی کو عیش ونعم کے ساتھ گزار نے کے بھر پور مواقع حاصل ہیں ۔لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر انسان سخت مصائب و تکالیف اور ذہنی ، فکری اور جسمانی آلام سے دوچار ہے ۔ بے ہنگم بڑھتی آبادی ، گرین گیسز اور ماحولیات ، گلوبل وارمنگ اور سب سے بڑھ کر سونا ، چاندی ، ڈالر ، پائونڈ اور یورو کے کاغذات کے حصول نے انسان کی زندگی کے لازمی و لا بدی ضروریات پانی ، خوراک ، ادویہ ، ہوا اور امن و سلامتی اور انسانی بھائی چارے کے معاملات کو اتنا گمبھیر اور پیچیدہ بنادیاہے کہ اب سائنس کے بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کیا جائے ۔سائنسی علوم کی ترقی نے انسان کو اتنا مادہ پرست اورہوس پرست بنادیا ہے کہ دنیا کے زیادہ سے زیادہ مادی ذرائع و وسائل کو اپنے زیر قبضہ لانے کیلئے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی خون ریزی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ لیکن سب سے بڑا المیہ امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ ہوا۔ اگر ا مت مسلمہ اپنے مشن اور فرائض منصبی کو بھولنے نہ پاتی تو وہ ساری دنیا کو ''خیر'' کی دعوت دیتی اور برائیوں (سائنسی علوم کے غلط استعمال اور سیاسی و معاشی غلط نظاموں کے نفاذ) سے منع کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی۔ جس طرح آج امریکہ دنیا بھر میں اپنے زعم میں عالمی نظام کی ''اصلاح'' کے لئے ہاتھ مارتا رہتا ہے۔امت مسلمہ نیچرل سائنسز کو شجر ممنوعہ سمجھ کر اسے مغرب کے حوالے کر گئی لیکن ساتھ ہی سوشل سائنسز کو بھی بھول گئی اور اس کا سب سے بڑا بحران اخلاقیات کے ''زوال'' کی صورت میں نکلا۔ اس لحاظ سے پاکستان بہت گھاٹے میں رہا کیونکہ پاکستان نے نیچر سائنسز میں اتنی ترقی پھر بھی جیسے تیسے کرلی کہ ایٹمی قوت بن گیا۔ لیکن ہمارے تعلیمی اداروں بالخصوص سکول' کالج اور جامعات کے سوشل سائنسز کے اساتذہ اور سکالرز بری طرح ناکام ہوئے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے مدارس نے کم از کم یہ کامیابی ضرور حاصل کر لی کہ ان کے طلباء میں وہ خامیاں نہیں ہوتیں جو جامعات و سکولوں کے طلباء میں سائنسی علوم کی ترقی کے سبب پیدا ہوئی ہیں۔ مدارس کے طلباء اخلاقیات اور آداب زندگی میں بلا شک و شبہ بہترین ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی ہمارے علماء اور سوشل سائنسز کے ماہرین اس لحاظ سے بری طرح ناکام ہیں کہ ہمارے ہاں معاشرتی اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔ کیا ہمارے نصاب اور نظام تعلیم میں ایسا کوئی علمی مواد ہے جو فارغ التحصیل طلبہ کو معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ انسان کی طرح اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کرے۔ کیا ہمارے اساتذہ اور علماء نے معاشرے کے عام اور خاص لوگوں کے لئے کوئی قابل مطالعہ (Read able) علمی مواد تیار کرکے مارکیٹ میں پہنچا دیا ہے۔ جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ پھر جب حال یہ ہے تو اگر ساتویں آٹھویں جماعت کا طالب علم اپنی ٹیچر سے عشق میں مبتلا ہو کر خودکشی کا ارتکاب کرتا ہے تو ہمیں حیرانگی کیوں ہوتی ہے۔ اخلاقی انقلاب' علمی انقلاب ہی کے ذریعے ممکن ہے اور یہ ا ساتذہ' علماء اور نصاب و نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں کا کام ہے۔

متعلقہ خبریں