Daily Mashriq

بغل میں چھری‘ منہ میں رام رام

بغل میں چھری‘ منہ میں رام رام

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے کام نہیں کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز بھارتی ٹی وی ’’ٹائمز نائو‘‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں نریندر مودی نے کہا کہ ہم پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے کام نہیں کر رہے بلکہ ہم دہشت گردی کے خلاف دنیا کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا ملک دہائیوں سے دہشت گردی سے متاثر ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان نے بہت زیادہ لڑ لیا اب ہمیں غربت اور بیماریوں سے لڑنے کے لئے ایک ساتھ ملنا چاہئے۔ بھارتی وزیر اعظم کے بیان کے مندرجات کو اگر ہندوئوں سے جڑے محاورے بغل میں چھری منہ میں رام رام کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جائے تو محولہ محاورہ اس پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب سے رجوع کیاجائے تو بھارتی وزیر اعظم کے بیان کی حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے والا بھارت اپنے گریبان میں جھانکے اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کاکھلا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی سلامتی کونسل میں بھارتی مندوب کے بیان کا جواب دے رہی تھیں جس میں بھارت نے پاکستان پر اسی قسم کے الزامات عائد کئے تھے جیسے کہ بھارتی پردھان منتری نے اپنے محولہ انٹرویو میں لگائے ہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ 17برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان میں طاقت سے کام نہیں چلے اتحادی ملک الزام تراشی کی بجائے افغانستان پر توجہ دیں۔ افغانستان کا 40فیصد حصہ کابل کے کنٹرول میں نہیں اس صورت میں باہر سے تخریب کاری کی کیا ضرورت ہے۔ کابل اس کے پارٹنر بشمول واشنگٹن الزام تراشی کے بجائے افغانستان میں درپیش چیلنجز پر توجہ دیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے بیان کے بعد نریندر مودی کے الزامات محض ہوا میں فائر کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں بلکہ الٹا بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب اترتا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک جانب بھارت دنیا کو یہ تاثر دے رہاہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے اور خود دہشت گردی کا شکار ہے مگر دوسری جانب وہ پاکستان کے اندر اپنے جاسوسوں کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف ہے اور بلوچستان کی علیحدگی کے لئے بھاری فنڈنگ کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسندوں کی نہ صرف افغان سرزمین پر قائم تخریب کاری کیمپوں میں تربیت کررہا ہے بلکہ اس سلسلے میں حالیہ مہینوں میں ’’فری بلوچستان‘‘ موومنٹ کی جانب سے سویٹزر لینڈ‘ برطانیہ‘ ہالینڈ اور دیگر کئی ملکوں میں پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے کی ہر طرح مالی امداد کے حوالے سے تمام تر اشارے بھارت ہی کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں اور پاکستان کے احتجاج کے بعد یہ پروپیگنڈہ بند کیا گیا۔ اس صورت میں نریندر مودی کے دعوئوں کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ جہاں تک بھارت کا بقول مودی کے دہشت گردی سے متاثر ہونے کے دعوئوں کا تعلق ہے ان کی حقیقت بھی مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کشمیریوں کے خلاف تو ایک طرف عام نہتے کشمیری عوام بشمول بزرگ‘ خواتین اور بچوں کو جس طرح بھارتی افواج بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اس سے بڑی ریاستی دہشت گردی اور کونسی ہوسکتی ہے ‘ پاکستان کے ساتھ مل کر غربت اور بیماریوں کے خلاف لڑنے کے دعوے خوش آئند ضرور ہیں مگر بھارت جس طرح خطے کو طویل عرصے سے بارود کے ڈھیر اکٹھے کرکے خطرات سے دوچار کر رہا ہے اور حال ہی میں اس نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دورہ بھارت کے دوران اربوں کے اسلحے کے سودے طے کئے۔ اگر اسے امن کی اتنی ہی خواہش ہے تو پھر اسلحہ کے ڈھیر لگانے کا کیا جواز ہے۔ ادھر دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے جو تازہ گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں گھس کر کارروائی کرسکتے ہیں تو اسے کس کھاتے میں رکھا جائے۔ بھارتی رہنمائوں کو بڑا زعم ہے کہ وہ پاکستان کو خدانخواستہ صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں اس لئے گزشتہ برس بھی اس کے سپہ سالار نے پاکستان میں گھس کر حملہ کرنے کا شوشہ چھوڑا تھا جس کی اصلیت کے بارے میں پاکستان کے فوجی حکام نے دنیا پر واضح کردیا تھا کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی ہو نہیں سکتا اور ابھی چند روز پہلے بھی بھارت کے موجودہ آرمی چیف نے ایک بار پھر دھمکی آمیز بیان دیا تو اس کا بھی پاکستان کی جانب سے مسکت جواب دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھارت پر واضح کردیا تھا کہ ہمارا جوہری پروگرام مشرق کی جانب سے ہونے والے کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لئے ہے۔ اس لئے بھارتی حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کو کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ اگرچہ نریندر مودی کی اس خواہش کا پاکستان بھی خیر مقدم کرتا ہے کہ بہت لڑ لیا اب غربت اور بیماریوں کے خلاف مل کر لڑنا چاہئے مگر یہ تب ممکن ہے جب بھارت پاکستان کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں ختم کرے‘ کشمیر کا تنازعہ پر امن طریقے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے ورنہ بھارتی ذہنیت سے پوری دنیا واقف ہے۔

اداریہ