پاکستان دشمنی اور کیا ہے؟

پاکستان دشمنی اور کیا ہے؟

خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام افغان مہاجرین کیلئے قائم سکولوں میں پاکستان مخالف نصاب کے انکشاف سے کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے اگرچہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کی جانب سے نصاب تعلیم میں کی گئی تبدیلی کی وضاحت طلب کر لی گئی ہے ، اخباری اطلاعات کے مطابق افغان مہاجرین کے کیمپوں میں کمیونٹی پرائمری سکول قائم کئے گئے ہیں جن کا سلیبس صوبائی اور وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر تبدیل کر دیا گیا ہے ، وفاقی حکومت کی جانب سے نصاب کی تبدیلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے یواین ایچ سی آر سے وضاحت طلب کر لی ہے ، سلیبس میں پاکستان کی پالیسی اور نظریئے کے خلاف تبدیلیاں کی گئی ہیں ، معاشرتی علوم کی کتاب میں گلگت بلتستان اور متنازع کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھا یا گیا ہے جبکہ پاک افغان بارڈر کو ڈیورنڈ لائن بتایا گیا ہے ، اوربھارت کو افغانستان کا قریبی دوست ملک لکھا گیا ہے ۔ انگلش کی کتاب میںافغانستان کا جھنڈا ہرصفحے پر موجود ہے ، وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت کی وساطت سے یو این ایچ سی آر سے وضاحت طلب کرلی ہے ، اخباری اطلاعات میں دستیاب معلومات پر یو این ایچ سی آر سے صرف وضاحت طلب کرنا نرم سے نرم لہجے میں پاکستانی قوم کے نقطئہ نظر سے قابل برداشت نہیں ہے بلکہ اس صورتحال پر شدید احتجاج کرنا لازم تھا ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک گہری سازش ہے جس کی کڑیاں نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ کشیدہ صورتحال میں پیوست نظر آتی ہیں بلکہ اس کے پیچھے بھارت کے مذموم مقاصد بھی نظر آتے ہیں ، اور اس بات میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ یہ سازش بھارتی لابی کے زیر نگرانی تیار کر کے اسے عملی صورت دی گئی ہے ، کیونکہ جب سے سی پیک منصوبہ شروع ہوا ہے تب سے بھارت کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اس لئے افغان مہاجرین بچوں کے ذہنوں میں جو زہر بھرا جا رہا ہے ا س کے نتائج آنے والے ادوار میں ان بچوں کے جوان ہونے کی صورت میں پاک افغان تعلقات کے حوالے سے خاصے منفی اثرات مرتب کریں گے اور وہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو افغانستان کے دوست کی حیثیت سے اس کے موقف کو درست تسلیم کر یں گے ، جبکہ پاکستان کے خلاف ان بچوں کے ذہنوں میں تشکیک اور منفی تاثرات پیدا کر کے جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کے نتائج خطرناک نکلیں گے ، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں رہائش رکھتے ہوئے اگر ان افغان بچوں کے ذہنوں کو یوں پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں تیار کیا جائے گا تو اس کی ذمہ داری نہ صرف بھارتی لابی کے زیر اثر افغان ماہرین تعلیم پر عایدہوتی ہے جو پاکستان دشمنی میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یوا ین ایچ سی آر کے متعلقہ حکام بھی اس سازش میں برابر کے شریک ہیں ، حالانکہ انہیں غیر جانبدار ہونا چاہیئے تھا ، اور نصاب میں تبدیلی سے پاکستانی حکام کو بے خبر رکھ کر یو این ایچ سی آر نے بھی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے جس پر نہ صرف احتجا ج لازمی ہوجاتا ہے بلکہ اب جس قدر جلد ممکن ہو یہاں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو مزید وقت دیئے واپس وطن روانہ کر دینا چاہیئے کیونکہ اپنی سر زمین پر پاکستان کو انہیں مزید قیام کی اجازت دے کر اپنی آستینوں میں سانپ پالنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیئے ۔
شمشان گھاٹ کی ضرورت
بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے واضح اعلان کے بعد کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مسلمانوں کے برابر حقوق دیئے جائیں گے اور وہ اپنی مذہبی رسومات میں آزاد ہوں گے خیبرپختونخوا اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت پشاور میں شمشان گھاٹ کی عدم موجود گی پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے خصوصاً ہندو ، سکھ ، بالمیکی اور دوسرے اقلیتی گروہوں کو اپنے مُردوں کی آخری رسومات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ، اور اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز بھی ایک ہندو سر پنچ کو انتقال کے بعد ہندو مذہب کے مطابق جلانے کی بجائے بہ امر مجبوری دفن کرنا پڑا ۔ حالانکہ پشاور میں پنج تیرتھ کے مقام پر قدیم زمانے سے شمشان گھاٹ موجود تھا جو قیام پاکستان کے بعد بھی اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتاتھا ، لیکن وہاں بعد میں فش فارم کے قیام اور گڑ منڈی کیلئے اوقاف کی زمین فراہم کرنے کے بعد شمشان گھاٹ ختم کردیا گیا ، اگرچہ اقلیتوں کو اپنے مذہبی رسومات کے مطابق اپنے مُردوں کو جلانے کیلئے متبادل شمشان گھاٹ کی فراہمی ضروری تھی لیکن اس معاملے میں ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ، اس لئے محکمہ اوقاف کو اس حوالے سے ضروری اقدام پر سنجید گی کے ساتھ توجہ دینی چاہیئے اور کسی دوسرے مقام پر شمشان گھاٹ قائم کرکے ہندو اور سکھ برادریوں کو سہولت مہیا کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں