Daily Mashriq

بازی الٹی نہ جاسکی

بازی الٹی نہ جاسکی

رچ میں سینٹ کے انتخابات ہونے کو ہیں جبکہ مئی میں مو جودہ اسمبلیاں اپنی مدت پو ری کر رہی ہیں جس کے بعد عام انتخابات کا ڈول ڈالا جائے گا ویسے گزشتہ عام انتخابات کے ساتھ ہی سیاسی شطرنج بازی کی بساط بچھا دی گئی تھی مگر کوئی بھی بازی الٹی نہ جا سکی۔ اللہ اللہ کرکے مسلم لیگ کی حکو مت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے تاہم بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا ہے تاہم لا ہو ر میں اپو زیشن کا جلسہ جو ما ڈل ٹاؤن کے سانحہ اور زینب بی بی کے سفاکانہ قتل پر احتجاج کے نا م پر منعقد کر ایا گیا تھا اس نے ایسی تما م قوتوں کو مایوس کردیا جو کسی اور وہم و گما ن میں تھیں ۔ لا ہو ر کا جلسہ جو کہنے کو مسلم لیگ ن کے خلا ف سیا سی طاقت کا بھر پور مظاہر ہ تھا مگر دراصل مسلم لیگ کے اقتدار کو گہنانا بھی تھا ، اس کے ساتھ ہی اپو زیشن کی دو بڑ ی جما عتو ں کو ایک پلیٹ فار م پر لا نے کی سعی بھی تھی جو عمر ان خان کی انا پر ستی کی نذر ہو گئی۔ اب انتخابات کے لیے اس جلسے نے مسلم لیگ ن کو ایک نئی جہت دید ی ہے کہ عام خیال یہ پا یا جا رہا تھا کہ دو بڑی سیا سی قوتوں پی پی پی اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے کے قریب لا نا مقصود ہے مگر عین وقت پر عمر ان خان نے اپنے اور آصف زرداری کے درمیان لکیر کھینچ دی اس لیے یہ خواب پورا نہ ہو سکا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی کو بند گلی میں دھکیلا جا تا ہے تو خود بھی اس میں پھنستا ہے یہ ہی حال پی ٹی آئی کا ہو رہا ہے ، نئے انتخابات میں اب یہ صورت واضح ہو چکی ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی اڑان تنہا ہی اڑ نا ہو گی ۔ جمعیت العلما ئے اسلا م ف جس کے ساتھ عمر ان خان کی شر وع دن سے ہی ان بن رہی اس کی طر ف سے ایک بڑ اخد شہ ابھر نے لگا ہے جمعیت العلما ئے اسلا م جس نے بلو چستان میں اپنی حلیف جماعت مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیا اور مسلم لیگ کی حکومت ڈھا نے میں ساتھ دیا ہے اس کے بارے میں اند یشہ ہے کہ بلو چستان والا کھیل اب صوبہ کے پی کے میں کھیلنے کے بارے میں غور ہو رہا ہے ، جمعیت کے رہنما مو لا نا فضل الرّحما ن زیر ک سیاست دان ہیں اگر کہا جا ئے کہ سیا سی جو ڑ توڑ میں وہ آصف زرداری سے بھی دوچا ر ہا تھ آگے ہیں تو غلط نہ ہو گا ان کے بارے میں تازہ اطلا ع ہے کہ مو صوف نے حال ہی میں آصف زرداری سے ملا قات کی اس کے ساتھ ہی وہ شہبا ز شریف سے بھی ملے ہیں۔ مو لا نا فضل الر ّحمان وفاق میں مسلم لیگ ن کے حلیف ہونے کے با وجود اس سے اس امر پر شا کی ہیں کہ سیاسی اتحا د کے ذریعے پی ٹی آئی کو صوبہ میںحکومت سازی سے روکا جا سکتا تھا مگر مسلم لیگ نے ان کی بات نہ ما نی اور پی ٹی آئی کو حکومت بنا نے کا مو قعہ فراہم کیا۔ پی ٹی آئی حلقے مولا نا فضل الرّحما ن کی آصف زرداری اور شہبا ز شریف سے ملا قات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور محسو س کر رہے ہیں کہ کہیں صوبہ کے پی کے میں ان کے ساتھ بلوچستان جیسا گڑبڑ گھوٹالا نہ ہو جا ئے ۔آصف زرداری منجھے سیا ست دان ہیں‘ طاہر القادری عمران خان او رآصف زرداری کو ایک منج پر لا نے میں کامیاب نہ ہو سکے تو آصف زرداری نے سیاسی بلوغت کے ذریعے یہ کھیل کھیلا کہ مال روڈ کے شو میں پہلے ہی قابل ذکر کر سیا ں خالی پڑ ی تھیں جلسہ سے اپنا مقصد حاصل کر نے کے بعد مزید کر سیا ں خالی کر اگئے جب اسٹیج پر عمر ان خا ن چڑھے تو ڈھیر ساری خالی کرسیاں دیکھ کر ان کو جھٹکا سا لگا اور اس پا رلیمنٹ پر لعن طعن بھیجنے لگے جس سے اب تک وہ تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں اور اس کے رکن ہو نے کے نا تے دیگر مراعات بھی سمیٹ رہے ہیں ، ہا ں البتہ اسمبلی کے اجلا سوں میں شرکت نہ ہونے کے برابر ہے ، انصاف کا تو تقاضا یہ ہے کہ جب آپ کا م ہی نہیں کرتے تو تنخواہ وصول کرنے کے بھی حقدار نہیں ٹھہرتے اور اگر وصول کر تے ہیں تو اس کا حق بھی ادا کر نا فرض ہے ورنہ صادق امین ہو نے پر بٹہ لگتا ہے۔ بات ہو رہی تھی مو لا نا فضل الرّحمان کی جنہوں نے ایک طر ف ایم ایم اے کو دوبارہ اپنے پا ؤں پر کھڑا کر کے ایک طر ف پی ٹی آئی کی ایک ایسی حلیف جماعت کو ان سے دور کر دیا جس کے سربراہ دن رات یہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کا پی ٹی آئی کے ساتھ سیکر ٹریٹ کے گیٹ کے اندر تک اتحاد ہے گویا جما عت اسلا می کے ساتھ گیٹ سے باہر کے اتحاد کے امکا ن معد وم ہوگئے ہیں اب مولانا صاحب کا دوسر ا قدم پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی طر ف پڑ ا ہے تاکہ عام انتخابات میں اتحاد نہ سہی ساجھا کر لیا جا ئے۔ پی پی پی سند ھ میں ایک بڑی قوت ہے جس کے بارے میں کوئی شبہ نہیںہے جہا ں تک پنجا ب کا تعلق ہے تو حالیہ ضمنی انتخابات اور لا ہور کے شو نے مہر ثبت کر دی ہے کہ مسلم لیگ ن کی گڈی کا ٹنا آسان نہیں ہے بلکہ ان سے مسلم لیگ ن والو ں کے اعتما د میں مزید اضا فہ ہو ا ہے ۔ سانحہ ما ڈل ٹاؤن کی لا شو ں پر طاہر القادری کی سیاست بیٹھتی نظر آرہی ہے ، جہاںتک سیا سی جو ڑ توڑ کا تعلق ہے تویہ بات یقینی ہے کہ تحریک انصاف اور پی پی پی میں اتحا د کا امکا ن نہیں پا یا جا تا تاہم مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی اصل پو زیشن سینٹ کے انتخابات کے بعد ہی سامنے آئے گی مگر اس کے بارے میں بھی خدشا ت کا اظہا ر کیا جا رہا ہے کہ اتحاد ہو بھی پائے گا یا نہیں تاہم یہ ماننے کی بات ہے کہ مسلم لیگ ن نے بلوچستان میںاپنے وزیر اعلیٰ کی قربانی دے کر بلوچستان اسمبلی کو بچالیا اور سینٹ کے انتخابات کی راہ کھو ٹی ہو نے سے بھی بچ گئی۔ اس میں مولا نا فضل الرّحما ن کی سیا ست کا تجر بہ بھی کا ر گر رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیر اعلیٰ کے خلا ف عدم اعتما د کی تحریک کی حما یت کر کے بلو چستان اسمبلی کے ٹوٹنے کے امکا نات ختم کر دیئے ۔البتہ جیسا کہ کھیل نظر آرہا ہے کہ جمعیت کے پی کے میں تحریک انصا ف کی حکومت کے خلا ف تحریک عدم اعتما د کی کا وشو ں میں اگر کا میا ب ہوگئی تو سینٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف گھا ٹے کا شکار ہو جا ئے گی ۔

اداریہ