موبائل ٹاورز کے لئے قانون سازی کی ضرورت

موبائل ٹاورز کے لئے قانون سازی کی ضرورت

ٹی اے کے پاکستان میں رجسٹرڈ موبائل فونز کی تعداد 14.3 کروڑ ہے۔ سائنس دانوں نے موبائل فون ٹاور یعنی کھمبوں کے جو نُقصانات بیان کئے ہیں وہ بے شمار ہیں۔ ہا ورڈ او ربو سٹن یو نیو ر سٹیوں کے 100 سائنس دانوں اور 7 ممالک کے فزکس کے 33 ماہرین نے موبائل فون ٹاورز یعنی کھمبوں سے نکلنے والی شعاعوں کو مضر صحت قرار دیا ہے۔کینسر پر تحقیق کی بین الااقوامی ایجنسی کے مطابق موبائل فون کے کھمبے سے انتہائی طا قت ورشعائیں خارج ہوتی ہیں جن سے اُن لوگوں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جو موبائل فون کے کھمبے کے 50 میٹر کے علاقے میں رہائش پذیرہیں۔

کھمبوں سے برقی مقنا طیسی اور مائیکرو ویو شعاعوں کے نکلنے سے جانور، شہد کی مکھیاں اور کیڑے مکوڑے ختم ہوتے ہیں۔ریسرچ کے مطابق 919 کیسوں میں سے 593 میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ موبائل فون ٹاور سے نکلنے والی شعاعوں کی وجہ سے اس مخلوق کو انتہائی نُقصان پہنچ رہا ہے۔فرانس کے سائنس دانوں کے مطابق موبائل فون کھمبوں کے سامنے 100 میٹر تک کے فا صلے تک کوئی جاندار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ٹا ور سے نکلنے والی شعائیں جانداروں کے لئے نُقصان دہ ہیں۔پہاڑی علاقوں میں ان ٹا ورز سے جو شعائیں خارج ہوتی ہیں اُسکی رینج 2 کلومیٹر تک ہے جبکہ میدانی علاقوں میں ان مضر صحت شعائوں کی رینج 45 میل تک ٹریول یعنی حرکت کرتی ہے۔ موبائل فون کے کھمبوں سے شعائیں اینٹ اور لوہے کی دیواروں میں آسانی سے گھس جاتی ہیں۔ یہ شعاعیں 1900 میگا ہرٹز سے نکلتی ہیں جو خطر ناک حد تک زیادہ ہے۔بر طانیہ کے سائنس دانوں نے موبائل فونز کے کھمبوں پر اپنے تحقیقی مقالوں میں لکھا ہے کہ یہ شعاعیں 1 مربع کلومیٹرفاصلے تک جاندار اشیاء کو نُقصان پہنچا سکتی ہیں۔
فرانس کے مشہور سائنس دان پروفیسر راجر سین ٹی نی اور سپین کے پروفیسر انرک نا ویرو نے اپنے تحقیقی مقالوں میں لکھا ہے کہ موبائل فون کے ٹاورز300سے 400 میٹر تک نصف قطر میں مختلف جاندار وں میں بیماری کے آثار پائے جاتے ہیں۔سپین میں موبائل کمپنیوں نے اپنے کھمبے اس لئے اُتار ے ،کیونکہ وہاں پر تھوڑے عرصے میں کا فی لوگ بر قی مقنا طیسی مائیکرو ویو شعاعوں سے متا ثر ہوئے۔نیوز ی لینڈ میں موبائل کھمبوں کو تعلیمی اداروں کے قریب ممنوع قرار دیا گیا ہے۔یونیورسٹی آف ویانا کے ما حولیاتی ادارے کے پروفیسر کُنڈی کے مطابق موبائل ٹاور کے آس پاس جو لوگ رہتے ہیں وہاں پر ہائی بلڈ پریشر ، دل کے امراض ، سٹروک کی بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔اندرا پراشتا آپالو ہسپتال نیو دہلی کے کینسر کے سرجن پروفیسر سامیر کائول کہتے ہیں کہ بچے جنکی کھو پڑی کمزور اور باریک ہو تی ہے اس پر موبائل ٹا ور کی شعائوں کے ز یادہ اثرات پڑتے ہیں۔کینسر تحقیق سے متعلق عالمی ادا رے (IARC)کے مطابق موبائل فونز کھمبوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں زیادہ حد تک یہ امکان ہے کہ یہ جانداروں میں دماغ کے کینسر کا سبب بنتی ہیں۔عالمی ادارہ انٹر فون نے 13 ممالک کے افراد پر 10 سال تک تحقیق کی اور ان میں جو لوگ 2 گھنٹے موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں اُن میں 5117 افراد کے دماغ میں رسولی ہوئی۔ جر منی ، آسٹریا، برازیل اور اسرائیل میں 5 سے 10 سال کے عرصے میں کینسر زدہ افراد میں ا ضافہ ہوا۔ دہلی ہائی کورٹ نے آبادی والے علاقوں میں موبائل ٹا ور کا سختی سے نو ٹس لیا اور حکم دیا کہ رہائشی علاقوں سے موبائل ٹاور فو ری ہٹائے جائیں۔بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے موبائل کھمبوں کے منفی اثرات معلوم کرنے کے لیے وزارتی کمیٹی بنائی تھی۔ وزارتی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں سابق بھا رتی وزیر اعظم نے حکم دیا تھا کہ رہائشی علاقوں اور پبلک مقامات پر موبائل فون ٹاور نہ لگائے جا ئیں اور جو پہلے سے لگے ہیں وہ فی الفور ہٹائے جائیں۔کینیڈا کے رچرڈ ھل نے 12جون ، 2012 میں اپیل دائر کی تھی جس میںڈاکٹر جارج کیر یو کی ایک کتاب Cell Phone Hazards in The Wirless ageکا حوالہ دے کر کہا گیا کہ موبا ئل کمپنیاں جوان اور نو عمر بچوں کو موبائل ٹاور کی شعائوں سے نشانہ بنا رہی ہیں ۔ ان شعاعوں سے بچوںکے دماغ، کمزور مدافعتی اور حساس اعصابی نظام اور خلیوں کو نُقصان پہنچتا ہے۔دسمبر 2010 میں بمبئی انجینئرنگ یونیورسٹی کے پروفیسر نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ موبائل فون ٹا ور کی مضر صحت شعاعوں کی وجہ سے نزدیک رہنے والے لوگوں میں بے خوابی سر درد ،سر چکرانے ، جو ڑوں کے درد ، دل کے پیچیدہ امراض، قوت یا دداشت کی کمی، لوگوں کے چلنے پھرنے میں کمی، ڈی این اے میں توڑ پھوڑ اور کینسر جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ فلو ریڈا میں اُن علاقوں میں پراپرٹی کی قدر و قیمت3 فی صد نیچے چلی گئی جہاں پر موبائل ٹا ور لگے ہوئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ موبائل فون ٹاور (کھمبوں) کو آبادی والے علاقوں سے ہٹائیں ۔ اسکے لئے صوبائی اور قومی سطح پر قانوں سازی کی جائے۔ وطن عزیز میں90 فی صد موبائل ٹاور آبادی والے علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ بد قسمتی سے جب دنیا میں ہیپا ٹائٹس اور کینسر میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ پاکستان میں اس میں اضا فہ ہورہا ہے۔

اداریہ