ایک اپیل۔۔ایک امید

ایک اپیل۔۔ایک امید

میرا پیارا ملک ‘ یہ میرے مستقبل کا امین‘ یہ میری محبت‘ یہ میرے خوابوں کا منبع و مرکز‘ یہ میرا ملک جس کی محبت میں‘ میں اپنی جان دے سکتی ہوں‘ جس کی محبت میں میں ہر مشکل مرحلے سے گزر سکتی ہوں‘ جس کے لئے میں اپنے مفادات کی قربانی دے سکتی ہوں تاکہ میرا ملک ہر روز پہلے سے زیادہ بہتر ہوسکے۔ یہ میرا ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا اور میں اپنی سمت کھو بیٹھی ہوں۔ یہ میرا ملک تھا تو اس کی محبت میں‘ میں کسی بھی دشوار گزار راستے سے یہ سوچ کر گزر جاتی تھی کہ اس کی منزل میرے ملک کی سنہری صبح ہے۔ میں اپنے ملک سے محبت کرتی تھی کیونکہ میں اپنے ملک سے ہوں۔ یہ میری پہچان ہے‘ میرے بچوں کا مستقبل ہے۔ میں نے اپنے ملک سے محبت کی‘ کیونکہ اس محبت کی کھٹنائیوں میں میرے بچوں کا حسین مستقبل پنہاں تھا۔ لیکن میں پریشان ہوں‘ میرے خواب مضمحل اور پژمردہ ہیں۔ میں الم کی کیفیت سے مسلسل نبرد آزما ہوں اور یہ رنج مجھے پچھاڑ رہا ہے۔ مجھ پر حاوی ہو رہا ہے۔ میں ڈوبتی چلی جا رہی ہوں۔ یہ میرا ملک تھا جو میرے خوابوں کا امین تھا۔ اب میرے ملک کی سڑکوں پر بڑے آرام سے منشیات فروخت کی جاتی ہیں اور انہیں گرفتار کرنے والا کوئی نہیں۔ اب میرے ملک کے جوانوں کو ہر قسم کے نشے کا عادی بنا یا جا رہا ہے اور ان کے لئے کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں۔ وہ لوگ اپنے ہاتھوں میں موت لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں اس ملک کے حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ نہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہم سب جانتے ہیں لیکن ہم میں سے کسی میں اتحاد کی وہ طاقت نہیں جو ہمیں دشمنوں سے مقابلے کے لئے تیار کرسکے۔

ملک میں بے شمار ادارے موجود ہیں جن کا کام منشیات کی فروخت کو نا ممکن بنانا ہے۔ ایک اینٹی نارکوٹکس فورس ہے جس کا کمال یہ ہے کہ یہ لوگ ہی اکثر منشیات فروشوں کی پشت پناہی کا الزام اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ میں ایک عرصے سے اس حوالے سے لکھنا چاہتی تھی لیکن خاموش ہو جاتی لیکن آج کے اخبار میں ایک تصویر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک مقامی اخبار کے صفحہ نمبر9 پر ایک تصویر اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں اسلام آباد میں کوکین کی سر عام فروخت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیاگیا ہے۔ ایک تصویر ہے جو دل دہلا دینے والی ہے۔ ایک موٹر سائیکل سوار شخص ہیلمٹ پہنے سر عام کوکین فروخت کر رہا ہے اور اسی تصویر میں ان سیٹ اس رپورٹر کے ہاتھوں کی تصویر ہے جس نے کوکین کی پڑیا پکڑ رکھی ہے۔ یہ رپورٹ اس اہم صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس نے ہماری زندگیوں میں غیر یقینی کی کیفیت کو مستقل کر دیا ہے۔ ہم لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے مسلسل خوفزدہ رہتے ہیں کیونکہ اب تو اخباروں کے رپورٹر بھی ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہلکے والی کوکین 12 ہزار روپے جبکہ اچھے والی 22ہزار روپے میں ہر جگہ دستیاب ہے۔ اس کاروبار میں ملوث لوگوں کو نہ انتظامیہ کا خوف ہے اور نہ ہی انہیں پولیس سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو بارسوخ‘ با اثر لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ میں ایک صاحب کو جانتی ہوں جو ایک عرصے تک اینٹی نارکوٹکس فورس میں شامل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے نہایت افسوس سے بتایا کہ اکثریت تو ان معاملات میں مجرموں کے ساتھ ملی ہوتی ہے۔ کوئی ایماندار شخص اس صورتحال میں کہاں تک چل سکتا ہے۔ میں سوچتی رہی کہ ہم کیسے بے بس لوگ ہیں۔ اگر وہ لوگ جو اس ساری صورتحال میں طاقتور ہونے چاہئیں وہ خود کو بے بس تصور کر رہے ہیں توعام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ یہ درست ہے کہ طالب علموں کو تعلیمی اداروں اور سڑکوں پر یہ نشہ دستیاب ہے اور کوئی روک تھام نہیں۔ میں اسلام آباد میں ان جگہوں کے حوالے سے جانتی ہوں جہاں نشہ فروخت ہو رہا ہے لیکن میں اس سب کا کوئی سرا نہیں پاتی۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے جوان بچے اس زہر کو حاصل کرنے کے لئے مائوں کو خوفزدہ کرکے بھی ان سے پیسے لیتے ہیں۔ میں ایک ایسی بیوہ ماں کو جانتی ہوں جو ایک بیورو کریٹ کی بیوی رہی ہیں جن کے شوہر کی نیک نامی آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ ان کا اکلوتا بیٹا اس لعنت میں مبتلا ہوچکا ہے اور مسلسل علاج کے باوجود بھی وہ اس عذاب سے جان چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ وہ جب بھی واپس لوٹتا ہے اس کے ارد گرد نشے کی ایسی فراوانی ہے کہ وہ دوبارہ اسی علت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس ماں کی بے بسی مجھے اپنی بے بسی محسوس ہوتی ہے کیونکہ میرا اپنا بیٹا جوان ہے۔ میں جانتی ہوں کہ بچے کا بگاڑ ماں کو کس حد تک پریشان اور پژمردہ کردیتاہے۔ لیکن کوئی امید ہی نہیں۔ کوئی شخص کوئی ادارہ بھی نہیں جہاں اطلاع دی جاسکے۔ وہ ایک بار مجھے کہنے لگیں ‘ اب وہ لڑکے گھر تک آجاتے ہیں لیکن میں نہیں جانتی کہ کس کو اطلاع دوں‘ کس سے شکایت کروں۔ پولیس والوں کو کہوں گی تو وہ میرے گھر کاراستہ دیکھ لیں گے اور کسی اور جگہ سے مجھے آگاہی ہی نہیں۔ اسی سلسلے میں اینٹی نارکوٹکس ادارے میں ایک صاحب سے بات کرنے کے لئے کسی کو کہا تو ایک نئی فسردہ کہانی سننے کو ملی۔ میں ان کی آنکھوں کا سوال نہیں بھولتی اور ہر بار جب میں اپنے بیٹے کو دیکھتی ہوں تو مجھے یہ غم آگھیرتا ہے کہ میری جیسی ایک ماں اس عذاب کا شکار ہے۔ نہ وہ کچھ کرسکتی ہے ‘ نہ میں اس کے لئے کچھ کرسکتی ہوں۔ میرا یہ کالم ایک اپیل ہے۔ اگر میں کسی سے اس بچے اور اس کی ماں کے حوالے سے رابطہ کرسکوں جو کسی مثبت امید کا منبع ہوسکے تو مجھے بتائیے۔ شاید کہ کچھ ہوسکے‘ کوئی امید پیدا کی جاسکے‘شاید کسی کا بھلا ہوسکے۔ ورنہ میرے ملک کے کل سے میرا اعتبار اٹھ رہا ہے۔

اداریہ