Daily Mashriq


بھوک

بھوک

کی جنگ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گی ہر صبح کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ آج کیا پکے گا کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ آج کچھ نہیں پکاتے ایک دن فاقہ ہی سہی۔ دراصل ضرورت ہی ایسی ہے کہ اس سے کسی کو انکار کی جرات نہیں ہے ۔ پیٹ کی جنگ کا ہی شاخسانہ ہے کہ ہر چھوٹا بڑا دن چڑھتے ہی بھاگ دوڑ میں لگ جاتا ہے۔صبح سویرے کوڑے کے ڈھیروں میں ہاتھ مارتے معصوم بچے جو سارا دن چند روپوں کی خا طر شہر کے گلی کوچوں میں منڈلاتے رہتے ہیں۔ننھی سی جان اور کاندھے پر کوڑے کا بہت بڑا تھیلا۔ کبھی کبھی تو ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان کوڑے کے ڈھیروں پر سے اٹھایا ہوا کھانا نوش جاں کر رہے ہیں۔ شدید سردیوں میں نہروں کی صفائی کرنے والے مزدور یا گرمی کے موسم میں جھلسادینے والی دھوپ میں سڑک کنارے پتھر کوٹتے ہوئے پتھر کے انسان!ہماری زبانوں میں بھی پیٹ کا لفظ مختلف حوالوں سے جگہ پا چکا ہے۔ جیسے پیٹ پوجا کرنا، یہ ایسا برتن ہے جسے بھرا نہیں جاسکتا، خوب کھائیے اور پھر چند گھنٹوں بعد پیٹ کے نہاں خانوں سے صدائے احتجاج بلند ہوتی سنائی دے گی کہ بھائی کچھ ہماری فکر بھی ہے یا نہیں۔ آنتوں کا قل ھواللہ پڑھنا تو بہت مشہور ہے جب بھوک اپنی آخری حدوں کو چھونے لگے تو یار لوگ کہتے ہیں باقی باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے کچھ کھا پی لیا جائے تو بہتر ہے یار آنتیں قل ھواللہ پڑھنے لگی ہیں۔ بھوک اور پیٹ لازم و ملزوم ہیں اس لیے جب بھی بھوک کی بات ہوتی ہے تو پیٹ کا لفظ استعمال ہو ہی جاتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پیٹ بڑا کثیرالمعنی لفظ ہے بھوک کے علاوہ بھی پیٹ کے بہت سے حوالے ہیں۔ لیکن بہتر ہوگا کہ آج بھوک کے حوالے سے بات کر لی جائے۔جو بندہ کھانے پر جان دے یا یوں کہیے کہ کھانا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہو تو اس کے لیے کہتے ہیں کہ فلاں بندہ تو پیٹ کا کتا ہے ایسے لوگ جب کسی تقریب میں کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو ان کی جون بدل جاتی ہے آستین چڑھا کھانے پر ایسا حملہ کرتے ہیں کہ کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں۔ یہ بھوک سے آگے کا مقام ہے اسے مقام ہوس یا لالچ کہتے ہیں، یہ وہ مقام ہے کہ پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن آنکھ نہیں بھرتی۔اگر کوئی بحالت مجبوری کم کھائے تو اس کے لیے کہتے ہیں کہ اس نے پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو پالا۔ پیٹ مارنا بھی پیٹ کاٹنا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جب کوئی اپنی بھوک کو دبا کر کسی اور مقصد کے لیے روپیہ پیسہ استعمال کرتا ہے تو اسے پیٹ مارنا کہتے ہیں۔ہمارے ایک مہربان مہمان کو کھانا کھلانے سے بہت اجتناب برتتے ہیں اگر عین کھانے کے وقت مہمان تشریف لے آئے تو وہ جلدی سے چائے کا بول دیتے ہیں ۔ مہمان چائے کی ایک پیالی پی کر رخصت مانگتا ہے تو یہ اسے بھولے سے بھی نہیں کہتے کہ جناب کھانا تو کھاتے جائیے۔ ہم انہیں تنگ کرنے کے لیے کہتے ہیں یار کھانے کا وقت تھا کھانا کھلا دیتے تو کون سی قیامت آجاتی۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مہمان کھانے کے وقت آجائے تو اسے پیٹ کی مار دینے کو دل چاہتا ہے۔دراصل پیٹ اور بھوک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بھوک لگے اور پیٹ بھر کا کھانا میسر آجائے تو کہتے ہیں کہ پیٹ کی آگ بجھ گئی ہے لیکن ستم ظریفی کی حد تو یہ ہے کہ یہ آگ تھوڑی دیر کے بعد پھر جل اٹھتی ہے۔ویسے بسیارخوروںیا خوش خوراک لوگوں کے حوالے سے ایک بات بہت واضح ہے کہ یہ بڑے بے ضرر سے لوگ ہوتے ہیں انہیں کھانے پینے سے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اور پھر پیٹ کی بھوک کا ذمہ تو خالق کائنات نے لے رکھا ہے کسی نہ کسی طرح سب کو رزق ملتا ہی رہتا ہے۔ ڈر لگتا ہے ان لوگوں سے جو کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے ان کی بھوک دوسری قسم کی ہوتی ہے۔ ان کی بھوک اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ کچھ مال و دولت کی بھوک رکھتے ہیں دولت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی بھوک میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔اس بھوک کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس بھوک کے شکار کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اس کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہوتی ہے۔ جو ایک مرتبہ منہ کو لگ جائے تو پھر پیاس اور بڑھا دیتا ہے ۔ اسے پینے والا پیتا جاتا ہے اور اس کی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ نمکین اور کھارے پانی کی زیادتی اسے مار ڈالتی ہے۔ہمارے ارد گرد ایسے کتنے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس اللہ کا دیا بہت ہوتا ہے لیکن ان کی بھوک نہیں مٹتی۔ ان کی سات پشتیں بھی ان کے اثاثے ختم نہیں کرسکتیں۔ لیکن ان کے شب و روز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کہ بیس فیکٹریوں کو بڑھا کر چالیس فیکٹریاں کیسے بنائی جائیں۔ بسیار خور کا سارا زور تو اپنے سامنے پڑی ہوئی چیزوں پر ہوتا ہے لیکن یہ جو دوسری قسم کی بھوک ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے دوسروں کو نقصان ضرور پہنچتا ہے ۔ اپنے اثاثے بڑھانے کے لیے دوسروں کا حق ضرور مارنا پڑتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں