Daily Mashriq


وقوعہ اور واقعہ میں فرق

وقوعہ اور واقعہ میں فرق

سوشل میڈیا کے حوالے سے ہماری نسل کے بھلے بہت سے تحفظات ہوں اس سے سماجی زندگی کو لاحق خطرات کو بھی در خوراعتنا نہیں سمجھا جاسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ سوشل میڈیا ایک بہت شفاف آئینہ بھی ہے جو سماج کے مکروہ اور غلیظ چہرے کوسات پردوں میں بھی باہر کھینچ لاتا ہے اور اس چہرے کے ایک داغ کومحدب عدسے کی طرح پوری قطعیت کے ساتھ اس کا اصل وجود بخش دیتی ہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات میں اپنی بات کے ثبوت میں پیش کرسکتا ہوں ۔شہر قصورزینب کا واقعہ عام صورتوں میں ایک عام سے واردات ہی تھی لیکن سوشل میڈیا پر زینب کی گلابی شرٹ اور معصوم مسکراہٹ والی تصویر نے ہلچل مچادی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان کی بیٹی بن گئی ۔ہر اسمارٹ فون میں زینب کی تصویر آگئی ۔ہر کوئی اس واردات پر تبصرہ کرنے لگا۔ ہر کوئی زینب کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگااور زینب پر کیا جانے والا ظلم پورے سماج پر ہوا ظلم تصور ہونے لگا۔یوں ایوان اقتدار کو نیند سے جاگنا پڑا اور ایک چھوٹی اورروٹین کی ایف آئی آر ملک کی اہم خبر بن گئی ۔ ملکی و عالمی چینل سب اسی خبر پر تبصرہ کرنے لگے ۔ دوسرا واقعہ بلکہ جسے وقوعہ کہنا چاہیئے وہ کراچی کا ہے ۔ نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے کی خبرہے کہ جس میں اداروں کی جانب سے اولاً اسے دہشت گرد قرار دیا گیالیکن جونہی اس خوش شکل اور خوش لباس نقیب کی رنگوں اور سٹائل میں لپٹی تصاویر سوشل میڈیا پر لگیں تو سوشل میڈیا پر جیسے آگ لگ گئی ۔سوشل میڈیا کا صارف نقیب اللہ کی موت کو کسی طور بھی پولیس مقابلے میں مرنے والے کسی دہشت گرد کی موت تصور نہیں کرپارہاتھا ۔ جس کی وجہ سوشل میڈیا کا وہ سینس ہے کہ جو نقیب اللہ کی تصاویر سے خود بخود پھوٹ رہا تھا ۔فوٹو گرافی کا شوقین نقیب اللہ وجاہت اور سٹائل کا امتزاج تھا۔ اس پر تیز رنگ جچتے تھے۔ مگرا فسوس کہ اس کے نام کے ساتھ محسود لکھا تھا کہ جو ماضی میں صرف اور صرف بدامنی کے لیے پیش کیا گیا۔ راؤ انوار نے بھی اسی نام کے شک کی گنجائش نکال کر ایک معصوم کو قتل کیا ہوگا۔ راؤ کے کیا مقاصد تھے اور اس نے کیوں خون ناحق سے اپنے ہاتھ رنگے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ہوا یہ کہ اس ماورائے عدالت قتل کا شورسوشل میڈیا تک پہنچا اور سوشل میڈیا سے بات الیکٹرانک میڈیا تک پہنچی اور پھر راؤانوار جیسے طاقت ور پولیس افسر کوگھر بیٹھنا پڑا ۔ شاید بات یہاں تک بھی نہ رکے بلکہ کراچی کے بہت سے انتظامی معاملات کی وجہ آنے والے دنوں میں نقیب اللہ کا یہی واقعہ ہوسکتا ہے ۔ گویاآج کی دنیا میں سوشل میڈیا کسی بھی دوسرے میڈیا سے زیادہ طاقتور ہونے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ اگر یہ واقعات ماضی میں ہوئے ہوتے تو ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے کسی نہ کسی طرح ان دونوں کیسوں کو دبا ہی دیتے اور چند دنوں تک خبر گرم رہنے کے بعد خودبخود اپنی موت مرجاتی ۔ سوشل میڈیا کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر خبر کو فالو کیا جاتا ہے اور اس کے منطقی انجام تک بات چلتی رہتی ہے ۔ ہم جس سماجی زندگی کو کھو چکے ہیں سوشل میڈیا نے اس گیپ کو ایک نئے اور وسیع سماج کی صورت دی ہے ۔ اب اسی سماج میں ہم نے جینا ہے ۔ جس میں اچھی اور بری دونوں باتیں موجود ہیں ۔ صارف پر منحصر ہے کہ وہ اس جدید سماج کے کس کونے میں جاکر بیٹھتا ہے ۔ ماضی میں جس طرح حجروں میں مختلف ٹولیاں اپنی اپنی پسند کے مشغلوں میں مصروف ہوتیں ۔ کوئی سیاست پر گفتگو کررہاہے تو کوئی کھیلوں پر تبصرے کررہا ہے توکوئی شعر وشاعری کی باتیں کررہاہے تو کوئی تاش کی بازی لگا رہا ہے ۔لیکن جب کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہوتا تھا تو سب منڈلیاں ایک ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے پر تدبر کرتیں ۔ اب یہی کام سوشل میڈیا کررہا ہے ۔ اب یہاں جھوٹ اور منافقت کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سوشل میڈیا ایک ایسا میدان ہے کہ جہاں ہر کوئی اپنی بات کہنے کا حق رکھتا ہے ۔ جہاں ہر کسی کورسائی حاصل ہے ۔ کوئی بات چھپائی نہیں جاسکتی ۔ جھوٹ کہنے والا تو یہاں سخت بدنام ہے ۔ کیونکہ ہر بات ریکارڈ پر موجود ہے ۔ سوشل میڈیا کو اسی لیے سوشل کہتے ہیں کہ پورا سماج اس میں شامل ہوجاتا ہے ۔ دن بہ دن اس پر صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور پوری دنیا اپنے اپنے گیجڈز کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آچکی ہے ۔ ٹرمپ کی مثال لے لیجئے کہ اس کی بھونڈی ٹوئیٹس کوپوری دنیا اوربالخصوص انہی کے ہم وطنوں نے کیسے آڑے ہاتھوں لیا۔ آج کے جدید دور میں بہت سی باتوں پر رائے سوشل میڈیا پر ہی بنتی ہے ۔ یہاں سب سے بڑ ا اور کڑا امتحان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا دکھائی دیتا ہے ۔ جو پہلے عوامی رائے بنانے میں بلاشرکت غیرے حکمرانی کیا کرتا تھا لیکن اب یہی میڈیا سوشل میڈیا کا محتاج ہوچکا ہے کیونکہ اگر وہ سوشل میڈیا کے مخالف چلتا ہے تو اسے شدید تنقید کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ جب دنیا بدلتی ہے تو سب کو اپنا آ پ بدلنا پڑتاہے اور جو نہیں بدلتا وہ ختم ہوجاتا ہے ۔ ہمارا سسٹم جو دقیانوسی انداز سے چل رہا ہے ۔ جو سٹے ٹسکو کا شکار ہے ۔جس کی وجہ سے ہم ترقی کی جانب بڑھ ہی نہیں پاتے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سوشل میڈیا کی ہر خبر ہر واقعہ پر نظر ہے تو کیا ہمارا روایتی سسٹم برقرار رہ سکتا ہے ؟اگر نہیں تو ارباب اختیار کو اس پر سوچنا ضرور پڑے گا۔ اور اگر نہ سوچا گیا تو سوشل میڈیا اپنے موبائل فون سے باہر آنے کی قوت بھی رکھتا ہے اور وہ بہت خطرناک دن ہوسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں