Daily Mashriq

پولیو وائرس کا مرکز شاہین مسلم ٹاؤن توجہ کا متقاضی ہے

پولیو وائرس کا مرکز شاہین مسلم ٹاؤن توجہ کا متقاضی ہے

مشرق ٹی وی کی جانب سے شہریوں کے مسائل سامنے لانے اور متعلقہ حکام کو موقع پر آکر جواب دہی اور وضاحت کا پلیٹ فارم مہیا کیا جا رہا ہے۔ اس کا شہریوں کیساتھ حکام کیلئے بھی اطمینان کا باعث ہونا اسلئے فطری امر ہے کہ اس فورم میں آمنے سامنے مکالمہ ہوتا ہے اور بہت سارے سوالات کے جوابات اور وضاحت برموقع ملتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ ایک ایسا مناسب فورم اور پلیٹ فارم ہے جہاں شہری اور حکام دونوں ذمہ داری کیساتھ بولنے اور خوہ مخواہ کی شکایات اور مبالغہ آرائی سے اس لئے گریز کرتے ہیں کہ ایک جگ دیکھ اور سن رہا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق ٹی وی اور روزنامہ مشرق شہریوں اور حکام کے درمیان اپنے پروگراموں اور اشاعت کے ذریعے جس طرح رابطہ پل کا کردار ادا کر رہا ہے اس سے اعلیٰ حکام کو صورتحال سے باآسانی آگاہی ہوتی ہے۔ ان دنوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر صحت جس طرح تھانوں اور ہسپتالوں کے دورے سے صورتحال سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اس طرح کے دوروں کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن ان دوروں پر جتنا وقت صرف ہوتا ہے وہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ادارہ مشرق کی ان کاوشوں سے ایک ہی نشست میں مختلف النوع مسائل سامنے آتے ہیں جن کا یقیناً برموقع اور دیگر اعلیٰ حکام کی سطح پر نوٹس لینا فطری امر ہے۔ اس قسم کی ایک اور سعی کے طور پر شاہین مسلم ٹاؤن میں مشرق فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں شکایات اور ازالہ شکایات کے حوالے سے سامنے آنے والی مختصر روداد کے مطابق شاہین مسلم ٹاؤن کے مکینوں نے شاہین مسلم ٹاؤن میں نکاسی وآبنوشی کے ناقص نظام کو پولیو اور ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کا بڑا سبب قرار دیا ہے۔ مکینوں کو شکایت ہے کہ یہاں کے پانی میں پولیو وائرس پایا گیا مگر روک تھام کیلئے اقدامات اس لئے تسلی بخش نہیں کہ نالیوں کا گندہ پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ یہاںچالیس سال سے زنگ آلود پائپ لائنز سے لوگ پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، بعض ٹیوب ویلز سے ریتیلا پانی آتا ہے جبکہ حکام نے اس کی وضاحت اور صورتحال پر یہ موقف دیا کہ کافی بوسیدہ پائپ تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ نئے ڈرین، نئی پائپ لائنز بچھانے کیلئے یونیسیف سے جلد معاہدہ ہو جائیگا۔ علاقے کے مکینوں کی ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ مضرصحت اشیاء کی فیکٹریاں بچوں کو زہر بیچ رہی ہیں لیکن انتظامیہ فیکٹریوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ہیں۔ شاہین مسلم ٹاؤن میں دیگر علاقوں کی طرح اتائیوں کی بھرمار ہے، جگہ جگہ کھلے مین ہول انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہیں، علاقے کے مکینوں کو شکایت ہے کہ دویوسیز کے درمیان علاقہ بوستان آباد نمبر1 کے مسائل سننے کو کوئی تیار نہیں۔ یہاں بوائز وگرلز ہائی سکول ہیں اور نہ ڈسپنسری، پرائمری سکولوں کی حالت خستہ ہے۔ یہاں1700طالبات کیلئے گرلز پرائمری سکول میںصرف 9کمرے ہیں،گلبہار گرلز سکول میں یہاں کے بچوں کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ بچیوں سے سکول کے واش رومز صاف کرائے جاتے ہیں، شکایات پر شنوائی نہیں ہوئی، ڈسپنسری نہ ہونے سے مشکلات ہیں۔ علاقے میں منشیات کی کھلے عام فروخت اور نشیوں کے ڈیرے ہیں۔ آئس اور منشیات کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے جبکہ ایس ایچ او کا موقف ہے کہ آئس بیچنے والوں کوگرفتار کیا گیا ہے، لیکن قانون سازی تک پولیس بھی بے بس ہے۔ شاہین مسلم ٹاؤن کے مکینوں کے بہت سارے مسائل دیگر شہری علاقوں کے مسائل سے زیادہ مختلف نہیں البتہ شاہین مسلم ٹاؤن پولیو وائرس کا گڑھ بن چکا ہے جہاں ہر معائنے پر نالیوں میں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے۔ اور باربار کوششوں کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جاتا، جہاں پولیو وائرس پایا جائے وہ صرف اس علاقے کے بچوں کیلئے ہی خطرے کا باعث نہیں ہوتا بلکہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی ناکامی اور دیگر علاقوں تک اس موذی مرض کی رسائی کا بھی باعث بنتا ہے۔ یہاں کے پانی میں پولیو کا وائرس پایا جانا خاص طور پر خطرے کی گھنٹی ہے جس پر انسداد پولیو کے ماہرین، اداروں اور حکومتی عہدیداروں کو سرجوڑ کر بیٹھنے اور اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ یہ سنگین مسئلہ کافی عرصے سے علاقے میں سامنے آرہا ہے لیکن اس کے باوجود علاقے میں صاف آبنوشی کا انتظام، بوسیدہ وزنگ آلودہ پائیپوں کی تبدیلی، نکاسی آب کے زمین دوز نظام وضع کرنے اور علاقے میں صحت وصفائی کا انتظام بہتر بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا، جس کے باعث یہ علاقہ انسداد پولیو کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو پولیو کیخلاف کوششوں کی ناکامی اور علاقے کے بچوں سمیت صوبے کے دیگر بچوں یہاں تک کہ پورے ملک اور افغانستان تک کے بچوں کیلئے خطرے کا باعث ہے۔ عطائیوں کی بھرمار، کھلے مین ہولز، سکول وڈسپنسریز کی خستہ حالی بھی حکام کیلئے توجہ کا باعث امور ہیں۔ علاقے میں منشیات فروشی اور نشے میں مبتلا افراد کی بھرمار کی شکایت اور پولیس کا موقف دونوں قابل غور اقدامات کے حامل معاملات ہیں، جس کا حکام کو جائزہ لینے اور اصلاح احوال کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں