Daily Mashriq

ان تمام سے انتظامی عہدے واپس لئے جائیں

ان تمام سے انتظامی عہدے واپس لئے جائیں

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور سمیت انتظامی کیڈر کے متعدد ڈی ایچ اوز اور ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سمیت گریڈ بیس اور انیس کے سینئر ڈاکٹرز کا نان پریکٹس الاؤنس اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی مد میں لاکھوں روپے ماہوار کی وصولی کے باوجود بھی نجی کلینکس چلانے کے الزامات کی تصدیق کے بعد ان کیخلاف جلد سے جلد اور قانون کے مطابق کارروائی میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق مذکورہ افسران ڈیوٹی اوقات سے قبل ہی دفاتر چھوڑ کر کلینکس کا رخ کر لیتے ہیں جس کے بعد ان کا ماتحت عملہ دفاتر چلاتے ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے ڈاکٹرز سے حلف نامے لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اسے افسران نے ناکام بنا دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا نرم سے نرم رویہ ہونا چاہئے کہ ان تمام ڈاکٹروں جو ہسپتالوں اور محکمہ صحت میں انتظامی عہدوں پر تعینات ہیں اور پابندی کے باوجود کلینک چلاتے رہے ہیں ان سے نان پریکٹسنگ اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی مد میں وصول شدہ رقم کی ریکوری کی جائے اور ان کو فوراً انتظامی عہدوں سے ہٹا کر آئندہ انہیں انتظامی عہدے نہ دینے کو یقینی بنایا جائے۔ اگرچہ اس حکمنامے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا یہ پہلہ واقعہ نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے لیکن کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں سے ابتداء ہونی چاہئے۔ انتظامی عہدوں پر تعینات ڈاکٹروں کیلئے بیک وقت دفاتر اور کلینکس چلانا ممکن نہیں اسی طرح ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں سمیت جامعات اور دیگر اداروں میں بھی دو دو تین تین عہدوں اور اضافی چارج رکھنے والے بااثر افراد سے عہدے خالی کروائے جائیں اور ان کو ایک ہی عہدہ برقرار رکھنے کا پابند بنایا جائے تاکہ ہسپتالوں، جامعات اور سرکاری دفاتر کے امور بہتر انداز سے چلائے جا سکیں اور حقدار افراد کو بھی انتظامی عہدے مل سکیں۔

صرف حاکم پشاور کے دفتر کے احاطے کی دیوار کی تزئین کیوں؟

خیبر روڈ پشاور پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دیوار کو سرکاری محکموں اور دہشتگردی سے متاثرہ اور تاریخی عمارتوں کی پورٹریٹس سے سجا دینے سے ڈپٹی کمشنر آفس کی دیوار بالمقابل کورکمانڈر ہاؤس کی چاردیواری سے بھی شاندار ہو گئی ہے۔ ہمارے تئیں شہر کی ایک مرکزی شاہراہ پر سرکاری عمارت کی بیرونی دیوار کی تزئین وآرائش احسن اقدام ہے لیکن دیوار کے دونوں طرف کی سرکاری عمارتوں کی پرانی چاردیواری کے درمیان ایک دیوار کو سجانے سے ٹاٹ پر مخمل کا پیوند جیسا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ حاکم پشاور کے دفتر کی چاردیواری کو خاص طور پر سجانے کی بجائے خیبر روڈ پر سارے سرکاری عمارتوں کی دیوروں کی مرمت وبحالی اور تزئین کر کے یکساں اور خوشگوار تاثر دیا جاتا۔ ایسا لگتا ہے کہ حاکم پشاور کے دفتر کی عمارت کیلئے کہیں خاص طور پر فنڈ کا بندوبست کیا گیا ہے یہ دیوار دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر کے احاطے کی دیواروں کا منہ چڑا رہی ہے اور ساتھ ہی اس سے انتظامی افسران کی قوت واختیار اور دوسرے اسی گریڈ یا پھر اس سے بھی سینئرگریڈ کے سرکاری افسران میں تفریق اور کم مائیگی کے تاثر کا باعث ہے۔ لہٰذا وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خیبر روڈ پر سارے سرکاری عمارتوں کی دیواروں کی تزئین ومرمت کیلئے فنڈز فراہم کر کے اس امتیاز اور تفریق کا خاتمہ کروائیں جو صرف ایک دیوار کی تزئین وآرائش سے صاف اور واضح دکھائی دیتا ہے۔

دینی مدارس کے طلبہ کیلئے خوش آئند پروگرام

دینی مدرسہ جامعہ عثمانیہ پشاور میں سہ روزہ آرٹ اینڈ فوڈز فیسٹول کا انعقاد اس بناء پر خوش آئند اور قابل ذکر امر ہے کیونکہ دینی مدارس کے طلبہ کو اس طرح کی تفریحی وآگاہی کے مواقع کم ہی دیئے جاتے ہیں بلکہ اگر قرار دیا جائے کہ یہ اپنی نوعیت کا شاید پہلا پروگرام تھا تو غلط نہ ہوگا۔ دینی مدارس کے طلباء کی نصابی سرگرمیاں اور سخت تدریسی ماحول کوئی پوشیدہ امر نہیں جس کے اثرات ان کی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں اور اس کے مظاہر کے باعث دینی مدارس کے پورے ماحول کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو موقع ملتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے طلباء کو اس قسم کے مشاغل میں شرکت کا موقع دینے سے ان میں شعور وآگہی کیساتھ ساتھ اپنے ثقافت سے لگاؤ بھی پیدا ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دیگر دینی مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کرام اپنے اپنے مدارس میں اس قسم کے شرعی حدود اور تقاضوں کے اندر رہتے ہوئے تفریحی اور ثقافتی پروگراموں کا انتظام کرنے پر توجہ دیں گے۔ اس طرح سے ان طلباء کو اپنی تہذیب وثقافت اور اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے تفریح اور ثقافت سے روشناس ہونے کے مواقع ملیں گے۔ صوبائی محکمہ ثقافت کو دینی مدارس میں اس قسم کے پروگراموں کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لینی چاہئے اور مدرسہ کے منتظمین کیساتھ اس ضمن میں ہر ممکن تعاون یقینی بنانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں