Daily Mashriq

افغانستان میں امن اور اس کی حفاظت

افغانستان میں امن اور اس کی حفاظت

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے امن مذاکرات پیر کے روز دوحہ میں دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ اس کیساتھ ہی یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ اسی روز طالبان نے میدان شہر، کابل میں افغان حکومت کی سیکورٹی ایجنسی پر خودکش حملہ کیا، جس میں بعض اطلاعات کے مطابق سیکورٹی ایجنسی کے 126اہلکار مارے گئے اور 30زخمی ہوئے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ ایک طرف امریکہ کیساتھ طالبان کے امن مذاکرات جاری ہیں دوسری طرف طالبان کے حملوں میں شدت نظر آ رہی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان ایک مضبوط پوزیشن سے مذاکرات میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی گزشتہ روز کابل میں کہا تھا کہ امریکہ مذاکرات کیساتھ ساتھ فوجی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکی نمائندے نے کسی قدر لچک کا اشارہ دیا اور کہا تھا میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ امریکہ امن چاہتا ہے۔ امن کی خاطر ہم تمام افغان فریقین کی جائز فکرمندیوں کو ایسے پراسس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جس کے نتیجہ میں افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے اور علاقائی ممالک کے جائز مفادات کا احاطہ کیا جائے اور یہ کہ امریکہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ طالبان کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے افغانستان میں لشکرکشی کے خاتمے اور مستقبل میں افغانستان کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کے ایجنڈے کو تسلیم کئے جانے کے بعد امریکی نمائندوں سے آج مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ ابوظہبی میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کیلئے پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ کہا گیا تھا کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی ہوگا تاہم اس اگلے دور کی راہ میں رکاوٹ اس وقت پیدا ہو گئی تھی جب طالبان نے کابل حکومت کے وفد کو مذاکرات میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس دوران طالبان اصرار کرتے رہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لے اور طالبان کے قیدی رہا کر دے۔ اسی دوران کابل سے صدر اشرف غنی کا ایک بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ وہ (اشرف غنی) پاکستان سے مذاکرات کریں تو وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ تاہم یہ پاکستان کو طالبان کیساتھ فریق بنانے کی کوشش تھی جبکہ طالبان خود اپنی آزاد حیثیت کیساتھ مذاکرات میں شریک ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان پر امریکہ کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ البتہ دوحہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل امریکہ کے نمائندہ خصوصی ذلمے خلیل زاد نے پاکستان میں چار روز قیام کیا تھا اور سیاسی اور فوجی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تھیں۔ طالبان امریکہ مذاکرات پاکستان کی طرف سے سہولت کاری کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، طالبان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ ان کے نمائندوں کے بیرونی سفر پر سے پابندی اُٹھا لی جائے لیکن ترجمان کے حالیہ بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا، ترجمان نے جس ایجنڈے کا ذکر کیا ہے اس میں ایک طرف کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مداخلت ختم کرے یعنی اپنی فوجیں نکال لے، اس کیساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان کو مستقبل میں دوسرے ممالک کیخلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ اگر اس کا مقصد امریکی فوج کی مکمل واپسی ہے تو دوسرے مطالبے کا مخاطب کون ہے؟ پاکستان مستحکم افغانستان کی خاطر فوری طور پر امریکی فوج کی مکمل واپسی کا حامی نہیں ہے۔ درج بالا تمام بیانات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مذاکرات کا پھیلاؤ کہاں تک وسیع یا محدود ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کی طرف سے امن کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کیلئے یہ ضروری ہونا چاہئے کہ بیک وقت فوجی دباؤ اور مذاکرات کی پالیسی کو ماضی کا حصہ بناتے ہوئے دونوں فریق امن کی شرائط وحالات کی طرف توجہ دیں۔ طالبان افغانستان میں اتنی مقبولیت اور میدان جنگ میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو شکست نہیں دے سکے۔ افغانستان میں جنگ کی صورتحال کسی نہ کسی شکل میں گزشتہ 40سال سے جاری ہے۔ سوویت روس کو بھی افغانستان میں شکست نہیں ہوئی تھی بلکہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام اس کی فوجیں واپس ہوئی تھیں۔ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جب امریکہ نے یک طرفہ طور پر افغانستان سے واپسی اختیار کی تھی تو افغانستان ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہو گیا تھا۔ آج بھی اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ توقع کہ طالبان اور کابل حکومت کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر کسی معاہدے کو یقینی بنا لیا جائے گا، پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ ایسے کسی معاہدے پر عمل درآمد بعید قیاس ہوگا۔ دوسری طرف افغانستان میں عدم استحکام سے براہ راست افغانستان کے تمام قریبی ہمسائے متاثر ہوں گے جن کی سرحدیں افغانستان کیساتھ ملتی ہیں، اس لئے ان کی تشویش کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ افغانستان میں کسی پراسس کے تحت قائم ہونے والے امن کی حفاظت ضروری شمار کی جانی چاہئے اس کیلئے یہ لازم ہوگا کہ امن کی حفاظت کیلئے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک بین الاقوامی انتظام تشکیل دیا جائے اور اس میں ان ممالک کی تشویش اور ذمہ داری کو اہلیت دی جائے جن کی سرحدیں افغانستان کیساتھ ملتی ہیں۔ ایک طویل المدت ماسٹر پلان کے تحت افغانستان میں تعمیر وترقی کا پروگرام شروع کیا جائے اور مختلف عناصر کو اسلحہ سے دست برداری پر آمادہ کیا جائے تاکہ افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔ کسی ایک فریق کی فتح یا شکست افغان مسئلے کا حل ہے نہ مستقل امن کی ضمانت، اس لئے بین الاقوامی انتظام کے تحت افغانستان میں امن قائم کرنے اور اس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں