Daily Mashriq

ایک اور '' نقیب محسود'' کیس

ایک اور '' نقیب محسود'' کیس

رزومرہ پیش آنے والے کچھ واقعات عوام کو مبہوت کر دینے کا باعث بنتے ہیں اور وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ غم اور خوف کی چادر پورے سماج پر تن جاتی ہے۔ پھر سماج تادیر اس کے اثرات میں ہوتا ہے۔ انہی میں کوئی ایسا ہی کوئی واقعہ سماج اور سوچ کا دھارا ہی بدل دیتا ہے۔ ریاست کیخلاف جذبات کا لاوہ ایک دھماکے سے پھٹ پڑتا ہے تب بہت سی قوتیں حالات کا فائدہ اُٹھانے کیلئے آگے بڑھتی ہیں۔ بشریٰ زیدی کیس کراچی کی سماجی اور سیاسی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا تھا۔ تیزرفتار بس کے باعث کچلی جانے والی طالبہ بشریٰ زیدی کی موت اور نام کراچی کی سیاسی اور سماجی حرکیات کو بدلنے کی بنیاد بنا تھا۔ لال مسجد واقعہ آپریشن بھی ایسا ہی واقعہ تھا جس نے مدتوں تک ہماری سماجی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ آپریشن کے مرکزی کردار عبدالرشید غازی کی پیش گوئی کے عین مطابق آپریشن کے بعد ملک میں خودکش حملوں کا سیلاب سا آگیا تھا۔ کراچی میں ایک بے گناہ اور فنکارانہ مزاج کے حامل نوجوان نقیب محسود کا قتل بھی انہی واقعات میں شامل ہے۔ یہ واقعہ پی ٹی ایم کی سیاست کا بشریٰ زیدی کیس بنا اور کیس میں انصاف میں تاخیر ریاست کیلئے ہاتھوں سے دی گئی وہ گرہ بن گئی ہے جسے دانتوں سے کھولنا بھی آسان نہیں رہا۔ اس کیس میں ایک نوجوان بے تقصیر مارا گیا اور اس کی موت کا انداز اور لہو کا بہاؤ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے اور اس مظلومانہ قتل نے ہمارے سماج کو جس انداز سے ہلا دیا ہے کہ اب حالات سنبھالے نہیں سنبھل رہے اب ایک ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ ساہیوال کے ایک گھرانے کیساتھ پیش آیا جب پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے جوانوں نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے چار افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ ان میں میاں بیوی ایک بچی اور ایک گاڑی چلانے والا ذیشان نامی شخص شامل تھا۔ یہی کہانی کا مرکزی کردار بھی قرار پایا۔ تین بچے اس وحشیانہ کارروائی میں زندہ بچ گئے۔ گرد وپیش سے بے نیاز سہمی ہوئی معصوم بچیوں کے ہاتھوں میں دودھ کی بوتلیں اس بات کا پتا دے رہی تھیں کہ دھرتی پر ایک اور بڑی ناانصافی خون ِناحق بہنے کی صورت میں ہوگئی ہے۔یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا فوری نوٹس لیکر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اصل صورتحال جان کر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ اس حوالے سے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔ مقتولین کے ورثاء ظلم کیخلاف ماتم کناں ہیں۔ اس دوران دو قسم کی ایف آئی آر درج کی گئیں، ابتدائی ایف آئی آر میں مرنے والوں کو دہشتگردوں کا ساتھی قرار دیا گیا تھا جبکہ تحقیقات کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر سی ٹی ڈی کے نامعلوم اہلکاروں کیخلاف در ج کی گئی۔ مقتولین کے ورثا کا اصرار ہے کہ وہ بے گناہ تھے جبکہ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کا موقف ہے کہ ایک حساس ادارے نے اطلاع دی تھی کہ داعش کے دہشتگرد ایک فیملی کی آڑ میں بارودی مواد گوجرانوالہ منتقل کر رہے ہیں۔ اسی اطلاع پر کارروائی کی گئی، اگر پولیس اہلکاروں کا یہ موقف درست مان لیا جائے کہ دہشتگرد ایک خاندان کو کور کے طور پر استعمال کر رہے تھے تو بھی گاڑی پر یوں اندھا دھند فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اگر گاڑی میں دہشتگرد تھے تو انہوں نے جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی؟ اگر موٹر سائیکل پر دہشتگردوں کا گروہ سفر کر رہا تھا تو وہ کہاں چلے گئے۔ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے گاڑی کی بجائے موٹر سائیکل کو نشانہ بنانے میں کیوں تساہل سے کام لیا۔ اس کیس میں اصل کہانی جو بھی ہے مگر سی ٹی ڈی اہلکاروں سے بھاری غلطی سرزد ہوئی ہے، انہوں نے ایک دو نہیں ہر شخص پر کئی کئی گولیاں برسا کر دم لیا۔ ہم دنیا کے مقبوضہ علاقوں میں ظلم کے واقعات پر منقا زیرپا ہو جاتے ہیں مگر اپنے سماج میں ہونے والی یہ درندگی ٹھنڈے پیٹوں کیوں کر برداشت کر سکتے ہیں۔ پنجاب پولیس تو ایسے پولیس مقابلوں کیلئے بدنام تھی مگر سی ٹی ڈی تو زیادہ چنیدہ اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل فورس ہے جسے دہشتگردی سے نمٹنے کے نام پر کھڑا کیا گیا ہے اور ظاہر ہے اس پر قوم کے بے تحاشا وسائل صرف ہوئے ہوں گے۔ اس فورس سے اس قدر غیر پیشہ ورانہ روئیے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ ہمارے سول اداروں کی صلاحیت اور کارکردگی کے آگے موٹا سا سوالیہ نشان ہے اگر دہشتگردوں کے کسی گروہ نے ایک خاندان کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی بھی تھی تو مہارت کس چڑیا کا نام ہوتا ہے۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی مہارت تو یہ ہوتی کہ وہ بے گناہ بچوں اور خاتون کو زندہ بچا لیتے اور دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے مگر یہاں تو اُلٹی گنگا بہا دی گئی۔ مبینہ دہشتگرد تو سلیمانی ٹوپیاں پہن کر کہیں نکل گئے مگر بے خبری میں مبینہ ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال ہونے والے بے گناہ مار دئیے گئے۔ ساہیوال کا واقعہ موجود ہ حکومت اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اس واقعے میں غفلت اور غلطی ہوئی ہے اس میں قطعی دورائے نہیں اور جرم کے مرتکب افراد کو قانون کی دست برد سے بچانے کیلئے کوئی محکمانہ تعصب، پیٹی بھائی بندی کا اصول، مورال گر جانے کا افسانہ حائل ہوا اور یہ کیس مٹی پاؤ طرز کی کسی لیپاپوتی کی نذر ہوا تو یہ حادثے سے بڑا سانحہ ہوگا۔ فرار ہونے والے دہشتگردوں کی تلاش اور جے آئی ٹی کی رپورٹس کا انتظار کئے بغیر غفلت اور غلطی بلکہ ظلم کے مرتکب افراد کو کسی تعصب اور رعایت کے بغیر قانون کے حوالے کر دینا چاہئے اور انصاف ہوتا ہوا نظر آناچاہئے۔

متعلقہ خبریں