Daily Mashriq

محرومیاں، پانی ضیاع کیخلاف مہم اوربیروزگار انجینئرز

محرومیاں، پانی ضیاع کیخلاف مہم اوربیروزگار انجینئرز

قارئین کی جانب سے خدمت خلق کے اس کالم میں برقی پیغامات کیساتھ کبھی کبھار بذریعہ ڈاک بھی مسائل اور تجاویز کی وصولی ہوتی ہے۔ آج کا خط محمد صدیق، مجبور خٹک تخت نصرتی کرک کی طرف سے موصول ہوا ہے۔ موصوف کا اس کالم میں غالباً دوسری یا تیسری شرکت ہے۔ ان کے خط کے مندرجات یہ ہیں، باجی آپ نے خدمت خلق کا جو سلسلہ بذریعہ ہفتہ وار کالم شروع کیا ہے یہ نہایت ہی قابل تعریف ہے کیونکہ اس کالم کے ذریعے عوام الناس کے روزمرہ کے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے اور کبھی کبھار بعض مسائل اس کالم کی وجہ سے حل بھی ہوتے ہیں۔ تو مسائل کی اس زنجیر میں ایک اور کڑی کا اضافہ کرتے ہوئے میں آپ کے کالم کی وساطت سے اس جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ایک طرف محکمہ تعلیم میں پروفیشنل ڈگریاں ختم کر دی گئی ہیں اور دوسری طرف این ٹی ایس یا ایٹا کے کارندے خرید وفروخت میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے بہت سے فارغ تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طرف محکمہ تعلیم میں یونین کونسل کی سطح پر پی ایس ٹی کی سلیکشن ہوتی ہے لیکن جب کوئی معلم ریٹائرڈ ہوتا ہے تو اسے دوسری یونین کونسل میں تبدیل کروا کر ایک یونین کا حق دوسری یونین کو دیا جاتا ہے، اس پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ باجی! عرض یہ ہے کہ ہمارے ضلع کرک میں سرکاری ملازمت کے سوا نہ کوئی کارخانہ ہے اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ معاش ہے، آپ خود سوچئے اگر اس طرح کی پالیسیاں بنتی رہیں تو جلد یا بدیر کرک بھی ڈیرہ بگٹی بن جائے گا لیکن دعا ہے کہ ایسا نہ ہو۔ مالک کائنات ہم سب پر رحم فرمائے بھائی! کبھی بھی ملک وقوم کے حوالے سے ایسی بات نہ کرنا اور نہ سوچنا کہ وحدت ملک وقوم اور وحدت المسلمین بارے کوئی تکلیف دہ جملہ سرزد ہو جائے۔ ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کی صورتحال ہو یا شمالی وزیرستان وقبائلی اضلاع کرک ہو یا تورغر چترال ہو یا ٹانک، آپ جس علاقے میں بھی ہوں یہاں تک کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی آپ کو محرومیاں ملیں گی، ناانصافیاں ہوتی ہوں گی۔ مجھے ناانصافی کیخلاف آواز بلند کرنے کی قیمت چکانے کا ذاتی تجربہ ہے لیکن شکایات کو شکایات اور مطالبات تک ہی رکھنا چاہئے ان کی آڑ میں جو لوگ مختلف ایجنڈے پر کارفرما ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک آپ کی نشاندہی کردہ معاملے اور تجاویز کا تعلق ہے وہ واضح اور درست ہیں جن پر متعلقہ حکام کی توجہ نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں۔

ایک قاری نے ضلعی انتظامیہ اور ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پی ڈی اے بھی حیات آباد میں خاص طور پر پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے اپنے انسپکٹروں کو سخت ہدایات جاری کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی اے انسپکٹرز نشاندہی کے باوجود گھروں سے پانی سڑکوں پر آنے اور سڑکوں پر گاڑیاں دھوکر پوری سڑک کو تالاب بنا دینے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں انہوں نے حیات آباد کی مارکیٹوں میں گوشت کی قیمتوں پر صارفین اور قصائیوں کی آئے روز کی تکرار کے خاتمے کیلئے سبزی اور گوشت کی دکانوں میں نرخنامہ کے مطابق فروخت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی تجویز دی ہے۔ قارئین کی جانب سے اکثر اوقات تنقید اور حکومت کی بے حسی کا رونا رویا جاتا ہے جو معروضی صورتحال میں غلط نہیں، مجھے اس سے ذاتی طور پر بھی اطمینان ہوا کہ پشاور میں پانی کے ضیاع کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ یہ سرگرمی اور مہم وقتی نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ اکثر اوقات سرکاری عمال کی کارروائیاں دباؤ کے سامنے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ جیسا کہ مسجد مہابت خان کی سیل شدہ دکانیں دوسرے ہی دن تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی شوکت علی نے جا کر کھلوا دیں اور مسجد مہابت خان کی مرمت اور تحفظ کیلئے اقدامات ہوا میں اُڑا دیئے گئے۔ ایک نوجوان الیکٹریکل انجینئر اپنے ہم پیشہ پچاس ہزار انجینئروں کی بیروزگاری کی طرف توجہ دلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے لیکر میڈیا تک سبھی ڈاکٹروں کے مسائل تو اُجا گر کرتے ہیں اور ان کے مسائل کا حل بھی نکالا جاتا ہے۔ انجینئرز بھی اس معاشرے کے قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان ہیں ان کی بیروزگاری پر خاموشی کیوں؟ اولاً یہ کہ ڈاکٹروں کے مسائل کے حل پر کوئی خاص توجہ کسی جانب سے نہیں دی جاتی ہاں ڈاکٹر متحرک ہو کر جب احتجاج کرتے ہیں تو میڈیا کا ان کی طرف متوجہ ہونا فطری امر ہے اس سے حکومت پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ بہرحال ہماری انجینئروں سے بھی پوری پوری ہمدردی ہے ان کے مسائل بھی ہمارے ہی نوجوانوں کے مسائل ہیں۔ بیروزگار صرف انجینئرز ہی نہیں پورے ملک میں بیروزگاری ہے، انجینئروں کیلئے تو پھر بھی موقع ہے کہ وہ اپنے فن کو چھوٹے موٹے منصوبوں کیلئے بروئے کار لا کر خود روزگار پیدا کرسکتے ہیں، عام نوجوانوں کے پاس تو یہ موقع بھی نہیں۔ جو نوجوان انجینئرنگ کی نشستوں سے رہ جاتے ہیں وہ رقم لگا کر پرائیویٹ انجینئرنگ تو کر لیتے ہیں لیکن جاب مارکیٹ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اس لئے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ جو رقم انجینئرنگ کی تعلیم پر صرف کی جائے اگر اس سے ڈپلومہ کرکے کاروبار اور خود روزگاری پر خرچ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ بہرحال ہر نوجوان کو تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع کا جائزہ لیکر فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نوجوان انجینئروں کی بیروزگاری کے مسئلے پر توجہ دے اور نوجوانوں کیلئے مواقع روزگار کی زیادہ سے زیادہ مساعی کی جائیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں