Daily Mashriq

سانحہ ساہیوال پر حکومتی غیرذمہ دارانہ رویہ

سانحہ ساہیوال پر حکومتی غیرذمہ دارانہ رویہ

سانحہ ساہیوال کی تمام تر تفصیلات میڈیا پر آچکی ہیں جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں، ان تفصیلات اور ویڈیوز کو دیکھ کر ادنیٰ عقل کا مالک انسان بھی نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ قصوروار کون ہے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کے علاوہ سارے پاکستان کو معلوم ہے کہ سانحہ ساہیوال کے اصل ذمہ داران کون ہیں۔ قوم کے سامنے حقائق آجانے کے باوجود بھی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے بار بار مؤقف تبدیل کیا گیا آخر کیوں؟وزیراعظم عمران خان نے قطر کے دورہ پر روانہ ہونے سے پہلے ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے قوم کو یقین دلایا ہے کہ ساہیوال سانحہ کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے اس سانحہ کے بعد سامنے آنے والے ردعمل اور غم وغصہ کو بھی قابل فہم اور جائز قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی میڈیا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے نتائج اخذ کرنے اور الزام تراشی سے گریز کریں۔ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کی کارروائی سے سب کو اندازہ ہو جائے گا کہ تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے پاکستان کی حکومت کس طرح سابقہ حکومتوں سے مختلف ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اگر اپنے کہے پر عمل نہ کروا سکے اور وزیراعظم کی باتوں کی روشنی میں سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے بعد انہیں مروجہ قانون کے تحت سزائیں نہ دلوائی جاسکیں تو یہ صورتحال پنجاب حکومت کے علاوہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کیلئے مشکل ثابت ہوگی۔وزیراعظم نے گزشتہ دو دنوں میں اگرچہ ٹویٹ پیغامات کے ذریعے قوم کا ''دکھ درد'' بانٹنے کی کوشش کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اس سانحہ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی لیکن وزیراعظم کا یہ رویہ کسی طرح بھی ماضی کے سربراہان حکومت کے طرز عمل سے مختلف نہیں ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے کسی بھی المناک سانحہ کے بعد اسی قسم کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ الفاظ کی شدت اور جذبات کی فراوانی کے اعتبار سے عمران خان کے بیانات ماضی میں کئے گئے وعدوں سے مختلف قرار نہیں دئیے جاسکتے۔ سانحہ ساہیوال کے لواحقین کے علاوہ پوری قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب تھی کہ وزیراعظم خود لاہور آکر پسماندگان سے ملتے اور یتیم ہو جانے والے کمسن بچوں کے سر پر دست شفقت رکھتے لیکن وزیراعظم کو اپنی گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے یہ موقع نہیں مل سکا۔ اب وہ دو روز کیلئے قطر روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی واپسی تک تعزیت اور اظہار ہمدردی کرنے کیلئے بہت دیر ہو چکی ہوگی۔اس وقت پورا پاکستان ساہیوال میں بیدردی سے مارے جانے والے ماں باپ اور ان کی تیرہ سالہ بچی کی المناک موت پر آنسو بہا رہا ہے۔ پوری دنیا میں آباد پاکستانی زندہ بچنے والے تین معصوم بچوں کی ذہنی اور جذباتی کیفیت اور مستقبل کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر نئے اور پرانے پاکستان کی بحث چھیڑی جائے گی اور عملی طور پر صوبائی وزیر قانون کی عاقبت نااندیش اور سفاکانہ گفتگو سننے کو ملے گی تو اس سے عوام کے جذبات مشتعل ہوں گے اور انہیں یقین ہونے لگے گا کہ نیا اور پرانا پاکستان صرف نعروں کی حد تک موجود ہے تاکہ سیاست کرتے ہوئے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاسکیں۔ سانحہ ساہیوال کو حکومت کیساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی سیاسی معاملہ بنانے کی پوری کوشش کی ہے جو ہنوز جاری ہے۔

کسی ریاستی ادارے کی کارروائی کے بعد جو محکمانہ جے آئی ٹی بنتی ہے وہ اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ راجہ بشارت کی باتوں نے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ جے آئی ٹی کل کیا بتانے والی ہے۔ جب صوبائی حکومت کا نمائندہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال میں سی ٹی ڈی کے ایک دہشت ناک فعل کو جائز قرار دے رہا ہے تو جے آئی ٹی کون سے نئے شواہد کی بنیاد پر اس ٹیم کو قصوروار ٹھہرائے گی۔ راجہ بشارت کی پریس کانفرنس کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ پر حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ وزیراعظم اگر واقعی ساہیوال سانحہ کے متاثرین سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اپنی پارٹی کو اس بحران سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں دوحہ سے اسلام آباد جانے کی بجائے لاہور آ کر خود اس معاملہ کی نگرانی کرنی چاہئے۔ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور سچ سامنے لانے کی کوشش کی جائے۔ اس معاملہ کو سیاسی بنانے اور سیاسی ہاتھوں میں رکھنے سے اس کا بوجھ بھی ملک کے سیاسی لیڈروں ہی کو اُٹھانا پڑے گا۔ ریاست کا شہریوں کیساتھ ماں جیسا سلوک ہونا چاہئے، ریاست کو ہر صورت شہریوں کا مفاد عزیز ہونا چاہئے، مہذب معاشروں میں شہریوں کے مفاد کو ہی مقدم رکھا جاتا ہے اس لئے موجودہ حکومت کو بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا اس کے علاوہ اپنایا گیا ہر راستہ تباہی کی طرف جائے گا جس کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔

متعلقہ خبریں