Daily Mashriq

پی ایس ایل 2019: سابق ٹیسٹ کپتان آصف اقبال کہتے ہیں قومی کوچ کو فرنچائز کا کوچ نہیں ہونا چاہیے

پی ایس ایل 2019: سابق ٹیسٹ کپتان آصف اقبال کہتے ہیں قومی کوچ کو فرنچائز کا کوچ نہیں ہونا چاہیے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پی ایس ایل کھیلنے والی کراچی کنگز کی ٹیم کے کوچ بھی ہیں اور وہ دونوں عہدوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مکی آرتھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے سے پہلے پی ایس ایل کھیلنے والی کراچی کنگز کے کوچ بنے تھے۔

ایسی مثال پاکستان کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ملتی کہ قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ کسی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں بھی فرنچائز ٹیم کی کوچنگ کررہا ہو۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال کی رائے میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کو کسی فرنچائز ٹیم کا کوچ نہیں ہونا چاہیے۔

آصف اقبال نے کراچی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا مکی آرتھر دونوں عہدوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بات حیران کن ہے۔

’مکی آرتھر صاحب! یہ پاکستان کا ڈریسنگ روم ہے‘

مکی آرتھر ٹیم سلیکشن پر کتنے اثرانداز؟

جب مکی آرتھر کا سر بے یقینی میں جھک گیا

مکی آرتھر کی ٹیم کاؤنٹر اٹیک کر سکتی ہے؟

آصف اقبال کے رائے میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کو تمام باتوں سے بالاتر ہونا چاہیے اور اسے فرنچائز کرکٹ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کو چاہیے کہ وہ فرنچائز کرکٹ کے پورے ایونٹ پر نظر رکھے اور ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرے تاکہ پاکستان کا مفاد سب سے اہم رہے۔

آصف اقبال کا کہنا ہے کہ ہم تمام ناقدین خراب بیٹنگ کارکردگی پر پاکستانی بلے بازوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی ضرور دیکھنا چاہیے کہ ہم نے نہ صرف ایک ہیڈ کوچ رکھا ہوا ہے بلکہ ایک بیٹنگ کوچ بھی موجود ہے۔

کیا کسی نے آج تک یہ سوال کیا کہ انہوں نے آج تک کیا کیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ بلے باز گراونڈ میں خود پرفارم کرتے ہیں کوچ نہیں تاہم کوچ کا یہ کام ہے کہ وہ ایسا مائنڈ سیٹ تیار کرے کہ بلے باز اپنی قابلیت کے لحاظ سے کارکردگی دیکھا سکیں۔

آصف اقبال کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی ہی کنڈیشنز میں ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں معمولی ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تکنیک کا نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ کا معاملہ ہے جس کا جواب دہ کوچ کو ہونا چاہیے اور کھلاڑی سے زیادہ جواب طلبی کوچ کی ہونی چاہیے۔

آصف اقبال ،سرفراز احمد کے ٹیسٹ کرکٹ میں کپتانی کرنے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ یہ بات کہہ کر بہت سے لوگوں کے لیے ناپسندیدہ ہوجائیں گے لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سرفراز احمد نے محدود اوورز کی کرکٹ میں نہ صرف اچھی کپتانی کی ہے بلکہ ان کی اپنی کارکردگی بھی اچھی رہی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں جب سرفراز اچھی کارکردگی نہیں دیکھا پاتے اور ٹیم بھی ہارجاتی ہے تو سارا ملبہ کپتان کے سر پڑجاتا ہے اور لوگ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ان کی اچھی کارکردگی بھول کر ان پر تنقید شروع کردیتے ہیں جس سے ان پر اضافی دباؤ ہوجاتا ہے۔

آصف اقبال جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کے باوجود پاکستانی ٹیم سے ورلڈ کپ میں بہت زیادہ امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم چیمپینز ٹرافی کی فاتح ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے بولرز نے انگلینڈ کی کنڈیشنز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اورورلڈ کپ میں اس کی کامیابی کے اتنے ہی امکانات موجود ہیں جتنے کسی بھی دوسری ٹیم کے۔وہ کہتے ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کے محدود اوورز کی کرکٹ میں قسمت کا عمل دخل بھی نمایاں ہوتا ہے اور پاکستان پر قسمت سنہ 1992 کے عالمی کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں مہربان رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں