Daily Mashriq

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بجلی اور ہائیڈروجن ایندھن میں بدلنے والا انقلابی نظام

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بجلی اور ہائیڈروجن ایندھن میں بدلنے والا انقلابی نظام

جارجیا: امریکی ماہرین نے زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کرکے اسے بجلی اور ہائیڈروجن ایندھن میں بدلنے والا ایک مؤثر نظام تیار کیا ہے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ اس صدی کے اختتام تک زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 درجے سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ فضا میں موجود اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی جذب کرنا ضروری ہے۔

جارجیا ٹیک اور السن انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مل کر ایک مائع بیٹری نما نظام بنایا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اس سے بجلی بناتا ہے اور اس سے قابلِ استعمال ہائیڈروجن ایندھن بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔

اس نئے آلے کو ’ہائبرڈ این اے ، سی او ٹو سسٹم‘ کا نام دیا گیا ہے جو بنیادی طور پر ایک بڑی مائع بیٹری کی طرح ہے۔ اس میں سوڈیم دھات کے اینوڈ لگائے گئے ہیں جو نامیاتی برقیرے (آرگینک الیکٹرولائٹ) کا کام کرتے ہیں۔ جبکہ کیتھوڈ میں ایک مائع محلول ہے۔ اس طرح دو اقسام کے مائعات کو ایک خاص جھلی سے الگ الگ رکھا جاتا ہے جسے ’سوٹیم سپر آیونِک کنڈکٹر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

جیسے ہی مائع الیکٹرولائٹ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس داخل کی جاتی ہے جو کیتھوڈ سے عمل کھاکر محلول کو مزید تیزابی بناتی ہے۔ اس سے بجلی اور ہائیڈروجن پیدا ہوتی ہے۔ ابتدائی تجربات میں ماہرین نے 50 فیصد کفایت (ایفی شنسی) کے ساتھ توانائی بنائی اور پورا سسٹم کسی نقصان کے بغیر 1000 گھنٹے تک چلتا رہا۔

اسی طرح کے دیگر نظام چلتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں لیکن اس نئے نظام میں ایسا نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں کاربن پکڑنے ، استعمال کرنے یا اسے تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجیوں پر کام ہورہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کامیابی سے دیگر مٹیریل میں باآسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

’ہائبرڈ این اے ، سی او ٹو سسٹم‘ اگرچہ ایک عمدہ اختراع ہے لیکن اس کی کارکردگی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم کلائم ورکس نامی ایک نظام سال میں 150 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے جسے اب تک بہت مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پوری دنیا میں سالانہ 40 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فضا میں جارہی ہے۔

تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس نظام کو بہتر بنانے کی بہت گنجائش موجود ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

متعلقہ خبریں