Daily Mashriq

حکومت کااقتصادی اورمعاشی اصلاحاتی پیکج کااعلان

حکومت کااقتصادی اورمعاشی اصلاحاتی پیکج کااعلان

حکومت نے اقتصادی اصلاحات کا پیکج پیش کیا جس میں سرمایہ کاری ، برآمدات ، کاروبار میں آسانی کی حوصلہ افزائی اور قومی معیشت کے اہم شعبوں کو مستحکم بنانے کیلئے انقلابی مراعات اور اقدامات شامل ہیں۔

اس بات کا اعلان وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں دوسرا مالیاتی ضمنی ترمیمی بل2019 پیش کرتے ہوئے کیا۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ کم آمدنی والے سرمایہ کاروں خصوصاً نوجوانوں کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئے ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے کم کرکے بیس فیصد کی جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کے استحکام کیلئے زرعی قرضوں پر بھی ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے بیس فیصد کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے چھ ماہ کے دوران زرعی قرضوں میں پہلے ہی بائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسد عمر نے ہائوسنگ سکیموں پر بھی انکم ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کا اعلان کیا تاکہ وزیراعظم کے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تحت معاشرے کے درمیانے اور چھوٹے درجے کے طبقات کیلئے ہائوسنگ کے شعبے کی حوصلہ افزائی ہو۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ارب روپے کی رقم کے ساتھ ایک قرض حسنہ فنڈ قائم کیاجائے گا اور چھوٹے گھروں کی تعمیر کیلئے بلاسود قرضے دیئے جائیںگے۔

ٹیکس کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے گوشوارے جمع کرانے والوں کیلئے بینکوں سے رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب نان فائلرز کو 1300 سی سی تک کی گاڑیاں خریدنے کی اجازت ہوگی تاہم ٹیکس وصولی اور لوگوں کے فائلر بننے کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ 1800 سی سی اور اس سے زائد طاقت کے انجن والی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کھادوں کی پیداوار پر گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ٹیکس ختم کیا جائے گا۔

کاروبار میں سہولت فراہم کرنے کیلئے اسد عمر نے اعلان کیا کہ تاجر برادری کو سال میں صرف دوبار ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق گوشوارے جمع کرانے کی ضرورت ہوگی جبکہ اس سے پہلے ہر ماہ گوشوارے جمع کرانا پڑتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پانچ سو مربع فٹ رقبے پر قائم شادی ہال پر ٹیکس بیس ہزار روپے سے کم کرکے پانچ ہزار روپے کردیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تاجروں کے مطالبے پر ایک شفاف اور سادہ ٹیکس ادائیگی سکیم متعارف کرائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سکیم ابتدائی طور پر وفاقی دارالحکومت میں شروع کی جائے گی اور بعد میں اسے پورے ملک میں وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آزاد میڈیا پر یقین رکھتی ہے اور اسے ایک منافع بخش صنعت بنانا چاہتا ہے۔

انہوں نے میڈیا کی صنعت سے متعلق مواد اور آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث گزشتہ دس سال کے دوران مصنوعات کی تیاری کے شعبے کی ترقی میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی دشواریوں کے باوجود ہم صنعتی شعبے میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کررہے ہیں۔

معیشت کے اس اہم شعبے کی ترقی کیلئے کچھ چیزوں پر مکمل طور پر ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔

ایوان کا اجلاس اب کل دن گیارہ بجے ہوگا۔

دوسرا ترمیمی مالیاتی بل 2019سینیٹ میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ موجودہ حکومت کو تباہ حال معیشت ورثے میں ملی جس کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتائج ملکی خوشحالی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔

ترمیمی مالیاتی بل خزانے کے وزیرمملکت حماد اظہر نے سینیٹ میں پیش کیا۔ اس سے پہلے قائد حزب اختلاف سینیٹر ظفرالحق اور سینیٹر رضا ربانی نے مؤقف اختیار کیا کہ بل وفاقی وزیر خزانہ کو پیش کرنا چاہئے تھا جس کے جواب میں قائد ایوان شبلی فراز نے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کی غیرموجودگی میں وزیرمملکت کوئی بھی بل ایوان میں پیش کر سکتا ہے جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دیتے ہوئے وزیرمملکت حماد اظہر کو بل سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت دے دی جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ارکان سینیٹ کو ہدایت کی کہ وہ ترمیمی مالیاتی بل پر اپنی تجاویز 25جنوری بروز جمعے تک قائمہ کمیٹی خزانہ کو بھجوا دیں۔

اس سے پہلے ایبٹ آباد میں تین سالہ معصوم بچی کے اغوا اور زیادتی کے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہ کرنے سے متعلق سینیٹر کلثوم پروین کے توجہ دلاؤ نوٹس پر انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ پولیس نے بچی کے جسم سے ڈی این اے حاصل کر لیا ہے جبکہ علاقے کے آٹھ سو مشکوک بندوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کئے جا رہے ہیں جس سے مجرم تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔

نیو دہلی میں پاکستانی سفارتکار کی بھارتی پولیس کے ہاتھوں حراست سے متعلق سینیٹر کیشوبائی کے توجہ دلاؤ نوٹس پروفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے بتایا کہ یہ اقدام ویانہ کنونشن کی خلاف ورزی ہے جس پر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر فیصل واڈا نے بتایا کہ بلوچستان میں چھوٹے اور درمیانے ڈیموں کی تعمیر کے لئے سات ارب اکتیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

توانائی کے وزیر عمر ایوب خان نے بتایا کہ بلوچستان میں شمسی توانائی سے چلنے والے انیس ہزار ٹیوب ویلز نصب کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی پالیسی مہنگے درآمدی ایندھن کی بجائے متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

مذہبی امور کے وزیر نورالحق قادری نے بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ کے لئے کوئی حج کوٹہ مختص نہیں ہے۔

پٹرولیم کے وزیر غلام سرور خان نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں تین غیرملکی کمپنیوں کو پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے لائسنس دیئے گئے ہیں۔

سینیٹ اجلاس اب کل سہہ پہر تین بجے ہوگا۔

متعلقہ خبریں