Daily Mashriq


انتخابات اور سیکورٹی

انتخابات اور سیکورٹی

انتخابی مہم عروج پر ہے اور اس کے ساتھ ہی امیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانوں کو لاحق خطرات بھی۔ 23جولائی کو توقع کے مطابق انتخابی مہم رُک جانی چاہیے تاہم اس سے پہلے اتوار کے روز ابتدائی چند گھنٹے کے دوران انتخابی مہموں پر دو حملوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی پر بنوں میں ‘جہاں چند روز پہلے ان کے قافلے پر حملہ ہوا تھا ‘ایک بار پھر فائرنگ ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے اکرام اللہ گنڈا پور کے قافلے پر کلاچی میں خود کش حملہ ہوا ہے جس میں اکرام اللہ گنڈا پور اور اُن کے ڈرائیور شہید ہوگئے ہیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان دونوں حضرات کو سیکورٹی اداروں نے خبردار کر رکھا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انتخابی مہم ایک خصوصی صورت حال ہے اس میں سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہونے چاہئیں اور صورت حال کو دیکھتے ہوئے امیدواروں اور سیاسی ورکروں کو خودبھی سیکورٹی کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے گنڈا پور کی سیکورٹی پر 13گن مین مامور کر رکھے تھے لیکن انہوں نے کلاچی میں سفر کرتے ہوئے انہیں ساتھ نہ لیا۔ بنوں اور کلاچی دور دراز علاقے سہی لیکن ہفتہ کی رات اسلام آباد کے گنجان آباد علاقے میں پی ٹی آئی کے اسد عمر کی دو کارنر میٹنگز پر فائرنگ ہوئی۔ خدا کو شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیںہوا۔ ملک کے طول و عرض میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اگر پرتشدد واقعات محض ان تین وارداتوں تک محدود ہیں تو کہاجا سکتا ہے کہ بالعموم خیریت ہی رہی۔ لیکن ابھی 25جولائی کا عام انتخابات کا دن آنا ہے۔ اگر فائرنگ کے واقعات کو مقامی انتخابی اشتعال شمار کر لیا جائے تو بھی مستونگ ‘ یکہ توت اور کلاچی کے بم دھماکوں کو محض مقامی وارداتیں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بم کی تیاری ‘ اس کے نصب کرنے یا اس کے لیے خود کش بمبار کو تیار کرنے کا کام فوری اشتعال کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے ۔ ان بم حملوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی عنصر ‘ کوئی منظم گروہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ ابھی تک بم دھماکے بلوچستان اور خیبر پختونخواتک محدود نظر آئے ہیں۔ بلوچستان میں سانحہ مستونگ کے بعد سیاسی اجتماع تعزیتی اجتماعات میں تبدیل ہو گئے ہیں اور مختلف سیاسی پارٹیوں نے اس اندوہناک واقعہ کے بعد سیاسی جلسے منسوخ کر دیے ہیں۔ ظاہر ہے ڈیڑھ سو میتیں دو دن میں دفنانے کے بعد اس سوگوار فضا میں انتخابی جلسے نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن بم حملوں میں اس کمی کے باعث احتیاط کم کرنے کی بجائے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مستونگ‘ یکہ توت اور کلاچی کے بم حملوں کے باعث انتخابات کے ملتوی ہوجانے کے آثار تو ظاہر نہیںہوئے لیکن بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے والے ملک کے متعدد علاقوں میں دہشت گردی کے ذریعے عام انتخابات کے نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تئیس اور چوبیس جولائی کو جب انتخابی جلسے نہیںہو رہے ہوں گے اور امیدوار پولنگ سٹیشنوں کے قریب اپنے عارضی انتخابی دفاتر قائم کرنے میں مصروف ہوں گے تو ممکن ہے دہشت گرد اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ پولنگ سٹیشنوں اور اطراف کی نگرانی 23جولائی ہی سے شروع کر دی جائے۔ پولنگ کی نگرانی کے لیے الیکشن کمیشن نے فوج سے نفری طلب کی ہے۔ اس انتظام کی خبریں تقریباً ایک ماہ سے عام ہیں اور عوام کی طرف سے اس انتظام کو پولنگ کی سیکورٹی کے لیے لازمی قرار دیتے ہوئے اس پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر شیری رحمان نے اعتراض اٹھایا ہے کہ فوجی اہل کاروں کو عدالتی اختیارات دینے سے شکوک و شہبات اور مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فضا میں کیسے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسی باتوں سے تاثر ابھرتا ہے کہ پولنگ کی سیکورٹی پر مامور فوجی اہل کار کسی امیدوار کے حق میں یا اس کے خلاف اثر انداز ہو سکیں گے۔ اول تو ان اہل کاروں کی زیادہ تر تعداد توقع ہے کہ ان کی ہو گی جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گھروں سے بلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنے گھروں سے آئیں گے اور ان کا اگر کوئی سیاسی جھکاؤ ہو گا تو وہ ان کی انفرادی پسند ناپسند ہو گی جو پاکستان کے کسی بھی شہری کی ہو سکتی ہے ۔ دوسرے یہ لوگ فوجی ڈسپلن کے عادی ہوں گے اور اس بات کو خوب سمجھنے والے ہوں گے کہ انہوںنے پولنگ میں دخل نہیں دینا ہے بلکہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے نہایت وضاحت سے کہہ دیا ہے کہ فوج کے اہل کار الیکشن کمیشن کے کہنے پر بلائے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن نے فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کا مطالبہ آئین کی متعلقہ شقوں کی روشنی میں کیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے سینیٹرز یہ سمجھتے ہیں کہ پولنگ سٹیشنوں کی سیکورٹی پرفوجی اہل کاروں کی تعیناتی سے کوئی بے اصولی ہو رہی ہے تو انہیں بجائے محض اعتراض کرنے کے باقاعدہ اس اقدام کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ عین اس وقت جب الیکشن دودن کے فاصلے پر ہیں ساری پولنگ سکیم اور سیکورٹی کے انتظامات کو قطعی شکل دی جا چکی ہے‘ اس پر محض اعتراضات اٹھانا مسائل کو حل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی خدشات تھے تو وہ بہت پہلے بیان کیے جا سکتے تھے اور دور کیے جا سکتے تھے لیکن عین پولنگ کے نزدیک آنے پراعتراضات سے یہی تاثر لیا جا سکتا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے پولنگ کے بعد اعتراضات اٹھانے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ یہ بات زیرِ غور رہنی چاہیے کہ پولنگ کی سیکورٹی مقدم ہے۔

متعلقہ خبریں