Daily Mashriq


نگران حکومت اور منتخب حکومت

نگران حکومت اور منتخب حکومت

نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارضی انتظام ہوتا ہے تاکہ منتخب حکومت کی غیر موجودگی میں حکومت کے روز مرہ کے کام چلتے رہیں۔ لیکن موجودہ نگران حکومت نے ایسے فیصلے کر دیے ہیں جو آئندہ عوام کے ووٹ سے آنے والی حکومت کو پابند کر دیں گے یا اس کے لیے مسائل پیدا کر جائیںگے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی کا جو طوفان متوقع ہے یا اس کے اثرات فوری طور پر اس قدر شدید نہیں ہوں گے جتنے منتخب حکومت کے قائم ہو جانے کے بعد نمودار ہوں گے۔ اس وقت ملک میں انتخابات کی گہما گہمی ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اکیس ہزار امیدوار انتخابی مہموں پر رقوم خرچ کر رہے ہیں جو عام محنت کش تک بھی کسی نہ کسی حد تک پہنچ رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں صوبائی اسمبلی کے انتخاب پر ایک کروڑ اور قومی اسمبلی کی نشست کے لیے دو کروڑروپیہ تک خرچ آتا ہے ۔21ہزار امیدوار میدان میں ہیں‘ اگر اتنا پیسہ نہیں بھی خرچ کر رہے اور الیکشن کمیشن کی مقرر کر دہ حدود کے مطابق ہی خرچ کر رہے ہیں تو بھی بہت سا پیسہ انتخابی مہم کے حوالے سے مارکیٹ میں آ رہا ہے۔ مختلف طبقات کے محنت کشوں اور خدمات فراہم کرنے والوںکی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن جب 25جولائی کو انتخابات ہو چکے ہوں گے اور نئی حکومت نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہو گی تو انتخابی مہم سے حاصل ہونے والی آمدنیاں چند دن یا چند ہفتے میں خرچ ہو جائیں گی اور تب مہنگائی کے حقیقی اثرات سامنے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا جب منتخب حکومت حالات کا جائزہ لے گی اور اپنی پالیسیاں سامنے لائے گی ۔ لیکن خدشہ ہے کہ یہی وہ وقت ہو گا جب مہنگائی کے خلاف احتجاج ابھریں گے اور عین ممکن ہے کہ نئی آنے والی حکومتوں کے لیے امن وامان کے مسائل پیدا ہو جائیں۔ نگران حکومت کے وزیر تجارت ، صنعت و پیداوار مصباح الرحمن نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے روپے کی قدر میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اقدامات دراصل نئی قائم ہونے والی منتخب حکومت کی سہولت کے لیے اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں بین الاقوامی دباؤ کا سامنا تھا کہ خام تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں۔ انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس کے اجلاس میں بتایا کہ ہمارے پاس دو آپشن تھے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیں یا نومنتخب حکومت کے لیے چھوڑ دیں‘ جسے فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے از خود اضافہ کر دیا کیونکہ یہ ’’ضروری‘‘ تھا۔ اس طرح وزیر موصوف نے اعتراف کیا ہے کہ نگران حکومت نے نومنتخب حکومت کا فیصلہ سازی کا اختیار سلب کیا ہے۔جب کہ نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے اور نو منتخب حکومت عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ آئے گی۔ نومنتخب حکومت اگر پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے پر مجبور ہوتی تو ا س میں اپنے منصوبے کے مطابق اضافہ کرتی اور یہ منصوبہ کئی مراحل پر محیط ہو سکتا تھا۔ یا نو منتخب حکومت یہ فیصلہ بھی کر سکتی تھی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست صارفین کو منتقل نہ کرے یا کچھ بوجھ حکومت خود بھی اپنے ٹیکسوں میں کمی کر کے پورا کر دے۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ سوچ ہوتی کہ یکلخت مہنگائی میں اضافہ نہ ہونے پائے۔ اور عوامی احتجاج کی صورت نہ بنے۔ اب اگر نگران حکومت نے مہنگائی میں اضافے کی ذمہ داری لے لی ہے تو بھی نومنتخب حکومت کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی ہے مشکلات ہی پیدا کی ہیں جن کا نگران حکومت کو اختیار نہ تھا۔ اسی طرح روپے کی قدر میں کمی کا فیصلہ ہے۔ یہ اختیار نومنتخب حکومت کا ہونا چاہیے تھا کہ وہ کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔ ایسی حکومت نے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے ایسے فیصلے کر کے جو عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا اختیار تھے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اب جب عام انتخابات ہونے والے ہیں نگران حکومت کو چاہیے کہ وہ جس حالت میں حکومت منتخب حکومت کے حوالے کرے گی اس کے بارے میں ایک مکمل رپورٹ مرتب کرے ۔اور یہ رپورٹ عام کر دی جائے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو کہ نگران حکومت کسی صورت میں مختلف شعبے منتخب حکومت کے سپرد کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں