Daily Mashriq


سوال تو ہوں گے‘ برا مت منائیں

سوال تو ہوں گے‘ برا مت منائیں

انتخابی مہم کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے کیس میں الیکشن کمیشن نے مولانا فضل الرحمن‘ ایاز صادق کے جوابات مسترد کردئیے‘ ان سے بیان حلفی جمع کروانے کو کہا گیا ہے جبکہ پرویز خٹک کے معاملے میں حکم دیاگیا ہے کہ ان کی کامیابی کی صورت میں نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا جائے۔ ہفتہ کو جناب عمران خان نے این اے 34 میں منعقدہ انتخابی جلسہ کے سٹیج پر جاتے ہوئے سیڑھیوں پر اپنے ہی امیدوار قومی اسمبلی شاہد خٹک کو تھپڑ دے مارا۔ ویڈیو سے لگتا ہے کہ تھپڑ کھانے والا امیدوار اپنے قائد سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تحریک انصاف کے دوست کہہ رہے ہیں کہ جو قائد اپنے امیدوار کو تھپڑ مار سکتا ہے ہ کسی دوسرے کا لحاظ کیسے کرے گا۔ میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ہمارے محبوب کامریڈ نواز شریف کے کمرے میں ائیر کنڈیشن لگا دیاگیا ہے جبکہ پی سی او فون کی لائن بھی وہ ایک ہفتہ میں 100روپے کے مساوی ٹیلیفون کا کیا کرسکیں گے۔ اطلاع یہ ہے کہ انہوں نے دو نمبر لکھوائے ہیں ایک والدہ محترمہ کا اور دوسرا لندن کے اس ہسپتال کا جہاں ان کی اہلیہ زیر علاج ہیں۔ قائد دھمیال چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران با وقار اور شائستہ انداز میں بلاول نے اپنا پارٹی منشور اور پارٹی موقف عوام کے سامنے پیش کیا۔ ہفتہ کے روز اور بھی بہت کچھ ہوا‘ ہمارے دانشور دوست حسام درانی 12روزہ شہر بدری بھگت کر واپس تخت لاہور پہنچ گئے۔ اس شہر بدری کے پیچھے کی کہانی بہت طویل ہے مگر مختصراً یہ کہ درانی میاں 12دن کی شہر بدری سے ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ اب پہلے سا بانکپن اور تجزئیے نہیں کرتے بات کرتے ہیں تو تھوڑی پسینے سے بھیگ جاتی ہے۔ ہفتہ کی شام جمی محفل میں فقیر راحموں نے ان سے کہا ذرا صبر سے کام لیجئے یہ قوم اب تک ساواک اور گسٹاپو کی خدمات کتابوں میں پڑھتی آرہی ہے آنے والے دنوں میں عملی طور پر ذائقہ چکھے گی۔

تین دن سے ’’رنگیلا خاندان‘‘ نامی کتاب کا پی ڈی ایف ایڈیشن دوڑتا بھاگتا پھر رہا ہے۔ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ ’’ رنگیلا خاندان‘‘ نامی کتاب ریحام خان کی کتاب کا جواب ہے۔ عبدالستار چودھری نام کے بندے کے کریڈٹ پر قبل ازیں بھی اس طرح کے ’’پھیکے معرکے‘‘ ہیں۔ جس حساب سے اس کتاب میں شریف خاندان کو سکینڈلائز کیاگیا ہے اس سے اس تاثر کی تصدیق ہوتی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ریحام خان کی کتاب کا سپانسر شریف خاندان ہے وہ ’’ رنگیلا خاندان‘‘ نامی کتاب کو خانقاہ عالیہ بنی گالہ شریف کا جواب دعویٰ سمجھ لیں۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یہ ہم عشروں سے سنتے بولتے لکھتے آرہے ہیں مگر سیاست پھکڑ پن اور بے ہودگی کاشکار ہوسکتی ہے یہ ہم دیکھ سن رہے ہیں۔ صحافت کے مجھ سے طالب علم کے لئے تین باتوں کی اہمیت ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ تینوں باتیں پچھلے تین دنوں میں ہوئیں۔ اولاً تو وہی کتاب ہے جس کا تذکرہ بالائی سطور میں کر چکا ثانیاً اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب شوکت صدیقی کا اسلام آباد بار ایسوسی ایشن میں ہوا خطاب ہے اور ثالثاً مسلم لیگ (ن) کے امیدوار قومی اسمبلی حنیف عباسی کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب رات گیارہ بجے راولپنڈی میں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی گئی عمر قید کی سزا ہے۔ حنیف عباسی کے خلاف 6 سال قبل اپنی ادویہ ساز کمپنی کے لئے ایفی ڈرین منظور شدہ کوٹے سے زیادہ (500کلو گرام) لینے پر مقدمہ درج ہوا تھا۔ نون لیگ کے پانچ سالہ دور میں وہ اہم عہدوں پر رہے۔ یوں بھی کہہ لیجئے کہ پنجاب میں نون لیگ کے حالیہ 10سالہ دور اقتدار میں انہیں اہم منصب عطا ہوئے۔ نواز شریف کی عقابی نگاہوں نے ان کے اندر چھپا تازہ دم شیخ رشید دیکھ محسوس کرلیا تھا۔ انہوں نے بھی انداز تکلم میں شیخ رشید کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ سستی روٹی پروگرام کی سربراہی سے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے منصوبے کے نگران کے طور پر ان پر کرپشن اور اقربا پروری کے درجنوں الزامات لگے۔ ایفی ڈرین کیس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی کے منظور شدہ کوٹے سے زیادہ ایفی ڈرین حاصل کرکے منشیات فروشوں سے تعاون کرکے لمبا ہی مال کمایا۔

مقدمہ 6سال سے چل رہا تھا وہ فیصلے کے خلاف سٹے لیتے کبھی دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے رہے۔ اب ساری اپیلیں مسترد ہوئیں اور 21جولائی تک فیصلہ سنانے کا حکم ملا۔ 21 اور 22 جولائی کی درمیانی شب فیصلہ آگیا۔ انصاف وقت پر نہ ہو تو سوال اٹھتے ہیں اور شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سادہ سال کا جواب یہ ہے کہ پانچ سال وفاق اور 10 سال سے پنجاب میں شریف خاندان بر سر اقتدار تھا۔ سو اب اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ انہیں سزا دینے کا فیصلہ کہیں سے آیا ہے تو مقدمہ 6 سال کس نے لٹکائے رکھا؟ ایک عامل اخبار نویس کے طور پر رائے یہی ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کی اسلام آباد بار ایسوسی ایشن میں کی گئی تقریر اور حنیف عباسی کیس کا رات گیارہ بجے ہوا فیصلہ دونوں کو الگ کرکے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ سوالات ‘ شبہات اور تحفظات کی وجہ یہی ہے۔ فیصلہ اگر چند دن بعد یا مہینہ بھر قبل آگیا ہوتا تو انصاف پر سوال نہ اٹھتے۔ جناب شوکت صدیقی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج ہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف دو ریفرنس دائر ہیں۔ سنگین الزامات ہیں۔انگنت فیصلے ایسے صادر کئے جن سے عدالتی وقار‘ دستور میں دی گئی شہری و مذہبی آزادیوں کی حرمت اور دوسرے معاملات پر حرف آئے۔ اب انہوں نے جن ارشادات عالیہ سے نوازا ہے نون لیگ سمیت بہت سارے طبقات ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس مہم جوئی کی کوکھ سے خیر برآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اللہ خیر ہی کرے۔

متعلقہ خبریں