Daily Mashriq


سیاسی تعصب کا مکروہ کھیل

سیاسی تعصب کا مکروہ کھیل

بھگ چالیس سال پرانی بات ہے۔اس وقت میری عمر دس سال ہوگی جب بھٹو کے خلاف ملک کی نو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی صورت ایک اتحاد تشکیل دیا گیا جو نو ستاروں کے نام سے پاپولر ہوا۔والد مرحوم جماعت اسلامی لاہور کے انتہائی سرکردہ اور سرگرم کارکن تھے۔ نوابزادہ نصراللہ خان ،مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی،خواجہ رفیق اور بعض دیگر راہنمانو ستاروں کی تحریک نظام مصطفی کے اہم لیڈر تھے ہمارے علاقے میں جب بھی یہ شخصیات وارد ہوتیں تو مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا۔اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں کے ساتھ وابستہ تمام لوگ اس زمانے میں پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو سے سخت نفرت کرتے تھے۔ یادش بخیر تحریک جب اپنے جوبن پر تھی تو ضیا الحق نے اسے ہائی جیک کر لیا اور سیاسی حالات کا فائدہ اٹھا کر مارشل لاء نافذ کر دیا۔بھٹو گرفتار کر لئے گئے،ان پر قتل کا مقدمہ چلا اور انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے مخالفین نے اس روز مٹھائیاں بانٹیں اور شکرانے کے نوافل ادا کئے۔اس زمانے میں ہماری سوچ یہ ہوا کرتی تھی کہ بھٹو ایک غدار ہے اور اس کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ بالکل درست اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو رہا ہے۔آج سوچتا ہوں تو جھرجھری سی آجاتی ہے کہ سیاسی تعصب کتنی خوفناک چیز ہے۔ آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے اور حق سچ کی پہچان ہی ختم ہو جاتی ہے۔

کالج کا زمانہ پھر یونیورسٹی کا دور اور آخر کارصحافی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز ہوا تو بند آنکھیں کھلنے لگیں ۔ذہن پر چھائی سیاسی تعصب کی دھند چھٹنے لگی تو معلوم ہوا کہ جس بھٹو کی پھانسی پر ہم نے مٹھائیاں بانٹیں اور کھائیں وہ تو بڑا زبردست لیڈر تھا۔نہ وہ غدار تھا،نہ سیکورٹی رسک اور نہ ہی ہندوستان کا یار۔وہ تو پاکستان کو دنیا کی ایک عظیم مملکت بنانا چاہتا تھا۔تو پھر اسے تختہ دار پر کیوں چڑھایا گیا؟اس لئے کہ وہ عوام کے حق حاکمیت کی بات کرتا تھا،عربوں کو ساتھ ملا کر ایک ایسا اسلامی بلاک تشکیل دینا چاہتا تھا جو امریکہ اور اسرائیل کو کائونٹر کر سکے اور مسلم دنیا کو عالمی برادری میں ایک باعزت مقام دلا سکے۔ذہن سے تعصب کی دھند چھٹنے کا یہ وہی زمانہ تھا جب ضیا الحق مارشل لاء کے ایک اہم کلیدی کردارفیض علی چشتی سر کے سارے بال سفید ہو جانے کے بعد راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ پر اخبار نویسوں کے سامنے یہ اعتراف کر رہے تھے کہ بھٹو کے ساتھ زیادتی ہوئی۔گویا سیاسی تعصب ایسی چیز ہے جس کی دھند اس وقت جا کر چھٹتی ہے جب انسان بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دے۔جوانی واقعی دیوانی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کھرے کھوٹے کی پہچان کر ہی نہیں پاتا۔اس اعتبار سے دیکھا جا ئے تواٹھارہ سال کی کچی عمر میں نوجوانوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا اختیار دے دینا کم از کم صحیح سیاسی قیادت کو چننے میں کسی طور بھی مددگار نہیں ہو سکتا۔اسی طرح تعلیم یافتہ اور ان پڑھ کا ووٹ کسی بھی طور مساوی نہیں ہو سکتا لیکن یہ بات سمجھے کون؟آئی جے آئی کی تشکیل اور نواز شریف کی سرپرستی کے دور کو دیکھیں تو انسان حیران ہو جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی پر ظلم کی سیاہ رات کتنی طویل مدت تک چھائی رہی۔اس کی جگہ کوئی بھی دوسری پارٹی ہوتی تو جبر کے سائے تلے زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ سکتی تھی لیکن شاید یہ بھٹو کی مزاحمتی سیاست کا اعجاز تھا یا آزادی کی آفر کو ٹھکرا کر تختہ دار کا راستہ چننے کا حوصلہ کہ پارٹی کو توڑنے والے توڑتے توڑتے تھک گئے لیکن قافلہ سخت جاں گرتا اٹھتا چلتا رہا اور آج تک چلتا جا رہا ہے۔بھٹو کی بیٹی کا سر بازار بہیمانہ قتل کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس میں آصف زرداری کے لئے کھلا پیغام تھا کہ بلاول کو سیاست سے دور رکھو لیکن آج بلاول اپنی ماں ہی کی طرح میدان میں موجود ہے۔ آج کے منظر نامے میں جو کچھ نوازشریف فیملی کے ساتھ ہو رہا ہے یہ اسی روایت کا تسلسل ہے جس کا سامنا بھٹو فیملی نے کیالیکن یہ معاملہ بہت لمبا نہیں چلے گا کیونکہ زمانہ بہت بدل گیا ہے اور بقول مشاہد حسین سید کے اب پرانی غلطیوںسے اجتناب کرتے ہوئے بے شک نئی غلطیاں کر لی جائیں۔پرانی غلطی یہ کی گئی کہ جس طرح کسی زمانے میں اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر اس کے نوجوانوں کے دلوں میں بھٹو کے خلاف نفرت کا زہر بھر دیا گیا تھا بالکل اسی طرح سول بالادستی کی بات کرنے والے نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دلوں میں سیاسی تعصب پیدا کر دیا گیا ہے۔اب بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف کو ان کارکنوں کی طرف سے غدار بھی کہا جا رہا ہے ،بھارت کا یار بھی اور سیکورٹی رسک بھی۔ چونکہ یہ نیا دور ہے اس لئے نواز شریف کے وفادار بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں ،یوں گالی کے جواب میں گالی چل رہی ہے۔اور مقابلہ یہ ہے کہ کس کی گالی زیادہ زور دار ہے۔سیاسی تعصب اور نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے اس کے بعد کیا پاکستان میں جمہوریت پنپ سکے گی؟ کوئی بھی حکومت یکسوئی سے کام کر سکے گی؟اداروں کے خلاف ہونے والی لب کشائی رک سکے گی؟تینوں سوالوں کے جواب نفی میں ہیں۔ معاملات انارکی اور معیشت کی تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور وہ وقت قریب آرہا ہے کہ جب یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی کہ سیاست چاہئے نہ جمہوریت،تو کیا یہ سارا اہتمام اسی لئے ہے کہ سیاست اور جمہوریت پاکستان میں گالی بن جائے؟۔

متعلقہ خبریں