Daily Mashriq


کھنڈر کھنڈر پشاور ۔ ذمہ دار کون ؟

کھنڈر کھنڈر پشاور ۔ ذمہ دار کون ؟

کہتے ہیں ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کی شامت آجاتی ہے ، نفرتوں کی سیاست کے بیچ عوام کا جو حال ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ، چونکہ ہم اور ہمارے جیسے قلم کا ر بھی عوام ہی سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے نفرتوں کے یہ سودا گر جو مختلف سیاسی جماعتوں کی صفوں میں شامل ہیں وہ ہمیں بھی معاف نہیں کرتے ، جبکہ ہمارے لئے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی صورتحال رہتی ہے۔ ہم اگر لکھتے ہیں تو عوام کے نقطہ نظر سے ، ان کو درپیش مسائل اور ان خوابوں سے سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر بساط بھر تبصرہ کرتے ہیں ، اب جس سیاسی جماعت کے سر گرم ارکان کو اس قسم کی تحریروں پر ان کی سوچ کے مطابق کوئی بات ’’قابل اعتراض ‘‘ نظر آتی ہے تو وہ لٹھ لیکر پیچھے پڑجاتے ہیں اور پھر فیس بک ، ٹویٹر یا پھر ای میل پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بعض اوقات ایسے ایسے نامناسب تبصرے کرتے ہیں کہ خود شرم و حیا کو بھی شرم آجاتی ہے ، یہ نظارے میں اکثر فیس بک اور ٹویٹر پر دیکھتا رہتا ہوں ، جب ملک کے اہم صحافیو ں ، کالم نگاروں اور اینکرز کی پوسٹوں پرایسے ہی نامناسب تبصرے شامل ہوتے ہیں ، خود مجھے بھی اکثر ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہتا ہے ، حالانکہ میں اپنے کالموں میں ہمیشہ ہاتھ ہو لا ہی رکھتا ہوں تاہم پھر بھی حالات و واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے صورتحال بقول غالب یہ رہتی ہے کہ کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے یعنی کسی مسئلے کا تجزیہ کرتے وقت کچھ نہ کچھ ایسی بات نوک قلم پر آہی جاتی ہے جو ظاہر ہے کسی کو اچھی لگتی ہے تو کوئی اس پر چیں بہ جبیں ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ۔ اور یا تو فیس بک پر جہاں میں نے کالم اپ لوڈ کیا ہوتا ہے مثبت ، منفی تبصرے سامنے آجاتے ہیں ، یا پھر ڈائریکٹ میرے ای میل پر پیغام بھیج دیتے ہیں ، حالانکہ میں تو اس مسئلے پر بات کرنا چاہتا تھا جس پر نہ صرف عدالتی احکامات بھی سامنے آگئے ہیں بلکہ شہباز شریف نے بھی گزشتہ روز اپنے دورہ سوات میں اس کا تذکرہ کیا ہے ، یعنی بی آر ٹی منصوبہ جس کی لاگت 49.3ارب سے بڑھ کر 67.9ارب ہوگئی ہے ، تاہم چھوٹے میاں نے وہ جو نیب کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے تو چیئر مین نیب نے نہ صرف بی آر ٹی بلکہ خیبر پختونخوا کے دیگر معاملات پر بھی ڈی جی نیب خیبر پختونخواکو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور وہ جو پختونخوا ہائوس میں ’’ہائی ٹی ‘‘ کا معاملہ ہے اسے ابھی زیرغور لانے کی خبریں آرہی ہیں ، بی آر ٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے ہماری دانست میں شہباز شریف نے مناسب تبصرہ نہیں کیا ، یعنی انہوں نے پنجاب کے منصوبے کے ساتھ بی آر ٹی پشاور کا تقابلی جائزہ لیکر صرف اتنا کہا ہے کہ پنجاب والا منصوبہ صرف تیس ارب جبکہ پشاور میں 67ارب کا ہے ، حالانکہ انہیں ازراہ تفنن یہ کہنا چاہیئے تھا کہ لاہور کا منصوبہ تیس ارب مگر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کیلئے زیادہ رقم خرچ کی گئی ۔

اس حوالے سے نیب حکام کے حرکت میں آجانے کے بعد اگر چہ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک بڑی دور کی کوڑی لاتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ بی آر ٹی ایشین ڈویلپمنٹ بنک کا منصوبہ ہے ۔ حکومت نے صرف منظوری دی ، تاہم ان کے خیالات عالیہ پر اس کے سوا اور کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

ان کے فرمانے کا تو یہی مطلب بنتا ہے گویا ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے موصوف کے ہاتھ پیر باندھ کر منصوبے پر دستخط کروائے تھے ، نہ تو اس کاپی سی اوبنا تھا جس میں نقائص ، کمزوریوں اور خرابیوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے راقم نے ایک نہیں کئی کالم تحریر کئے ، خصوصاً گل بہار کے قریب یوٹرن بند کرنے ، رنگ روڈ پر کوہاٹ کی سمت جانے والے راستے پر انڈر پاس کی اونچائی کم رکھنے اور اسی طرح دیگر مقامات پر نقائص چھوڑنے کے بارے میں توجہ دلانے کے بعد منصوبے میں تبدیلی کی وجہ سے کئی مقامات پر دوبارہ تعمیرات کی گئیں ، تو پھر متعلقہ ادارے کے انجینئروں نے اس کی نشاندہی پہلے کیوں نہیں کی ۔ فردوس کے پاس زیر زمین شاہی کھٹہ کا مسئلہ بھی سامنے آیا تو منصوبہ سازوں کو ہوش آیا ۔ اس لئے اگر پرویز خٹک کے استدلال کو درست مان لیا جائے تو پھر اضافی اخراجات کی ذمہ دار بھی اے ڈی بی کو ہی ہونا چاہیئے ۔ مزید یہ کہ اس حوالے سے ابتدائی طور پر منصوبے کی تکمیل جون کے مہینے میں نہیں بلکہ 15اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی تھی ، اور ذرا ان حالات کی تفصیل بھی تو بتا دی جائے کہ سابق چیف منسٹر کے ساتھ وہ کونسے اختلافات تھے جن کی وجہ سے اہم عہدیداروں کو یا تو بقول صوبائی حکومت ’’برطرف‘‘ کیا گیا یا ان کی حمایت میں دیگر اہم لوگ احتجاجاً مستعفی ہوئے مگر پھر بھی اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود صوبائی دارا لحکومت ابھی تک کھنڈرات میں ہی تبدیل ہو چکا ہے اور دستیاب اطلاعات کے مطابق آنے والے دسمبر تک بھی منصوبے کی تکمیل کے امکانات معدوم ہی لگتے ہیں جبکہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کی قیمت گرنے کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میںمزید کتنا اضافہ ہونے والا ہے یعنی نرخ بالا کن کے ارزانی ہنوز ۔ بہر حال دیکھتے ہیں کہ جس حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں خیبرپختونخوا میں احتساب کے ادارے کو چلنے نہ دیا حالانکہ عمران خان دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگا لگا کر طوفان بر پا کئے ہوئے تھے ۔ اب نیب اس بد نصیب صوبے کے وسائل مبینہ طور پر لوٹنے والوں کے خلاف کیا اقدام اٹھاتی ہے ۔ بقول امام بخش ناسخ

اٹھنے لگی ہے کیوں مرے زخم کہن سے ٹیس

آئی ہے شاید آج ہوا کوئے یار کی

متعلقہ خبریں