Daily Mashriq


یہ فیصلہ کب ہوتا؟

یہ فیصلہ کب ہوتا؟

ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ بھی ہوگیا۔ اس فیصلے کے وقت کے تعین کے حوالے سے لوگ اعتراض کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے حامیان اور لیڈران تو مسلسل ہر فیصلے کو یہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے صرف انہیں نشانہ بنانے کے لئے یہ سب کام کئے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ عمران خان کی حکومت لانا چاہتی ہے اس لئے یہ سب ہو رہا ہے۔ اور اس فیصلے کے بعد تو کئی فراخ دل مخالفین بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ اس وقت آنے سے تو صاف ظاہر ہونے لگا ہے کہ انتظامیہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ایسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کروں اور یہ کہہ سکوں کہ چند دن بعد بھی یہ فیصلہ دیا جاسکتا تھا یا چند ماہ پہلے بھی یہی فیصلہ عوام کے سامنے لایا جاسکتا تھا۔ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنے اوپر وہ اطمینان طاری کرسکوں جو اکثر تجزیہ نگاروں پر طاری ہوتا ہے جب وہ تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لئے درست و غلط سب تجزیے سے منسوب ہو تے ہیں۔ لیکن کیا کروں میں اتنی سمجھدار نہیں۔ مجھ میں تجزیہ کرنے کی ایسی کمال صلاحیت بھی نہیں۔ وہ شخص جس کے خلاف یہ مقدمہ گزشتہ سات سالوں سے چل رہا تھا اس کا فیصلہ 21جولائی کی رات کو کیا 24جولائی کی رات کو بھی ہو جاتا تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں بہت طاقتور ہوگئے ہیں۔ انہیں مار گرانے کی بات تبھی ہوسکتی ہے جب انہیں سنبھالنے و الے ‘ سہارا دینے و الے‘ ان کی حفاظت کرنے والے لوگ کمزور ہوں۔ جانے ہم کس دنیا میں رہتے ہیں۔ یہ ہمارا پیارا ملک ہر طرح کے ناسوروں کی زد میں ہے۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال ملک میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ ہمارے ملک میں منشیات کی موجودگی کا عالم یہ ہے کہ لوگوں کو سڑک کے کنارے‘ بازاروں میں کالجوں میں حتیٰ کہ سکولوں میں بآسانی منشیات مل جاتی ہیں اور حنیف عباسی جیسے ہی لوگ ہیں جن کے باعث ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں ہمارا مستقبل ختم ہورہا ہے۔ہماری آس امید کو ختم کیا جارہا ہے۔ مجھے تو اس فیصلے پر عدالت سے گلہ ہے ۔ یہ لوگ جو ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ، انہیں پھانسی ہونی چاہیئے لیکن انصاف قانون کے مطابق کیا جاتا ہے ، جذبات کا اس میں عمل دخل نہیں ہوتا ۔ کون نہیں جانتا کہ ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی اور موسیٰ گیلانی کی پشت پناہی کون لوگ کر رہے تھے ۔ ہمارے ملک میں وزرائے اعظم ان لوگوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن حد تک جاتے رہے ہیں۔ 2012میں دائر کردہ اس کیس میں نواز شریف کے کردار اور موسیٰ گیلانی کے حوالے سے یوسف رضا گیلانی کے کردار پر تو ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ یہ فیصلہ میاں نواز شریف یا ان کے حواریوں کی حکومت ہوتے ہوئے کہاں آسکتا تھا ۔ کیا ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اسی کیس میں اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے ایک ڈائریکٹر جن کا نام غالباً بریگیڈیئر فہیم تھا ، کس دبائو اور پریشانی کا شکار رہے تھے اور کوئی ان کی مدد کے لیے سامنے نہ آتا تھا لیکن اس مرد مجاہد نے دبائو میں آنے سے انکار کر دیا تھا ۔ کیا ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اسی اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے لوگ منشیات کو پکڑ کر دوبارہ بازار میں بیچنے ، میں ملوث ہوتے ہیں ۔ جو لوگ ایسی کارروائیوں میں خود ملوث ہوں وہ بھلا عدالتوں کو کہاں ثبوت فراہم کرتے ہونگے یا کیس کی پیروی کرتے ہونگے ۔ پھر یقینا حکومت موجودہ کادبائو بھی ہوگا ۔ یہ فیصلہ تو اسی وقت آنا تھا جب فیصلہ کرنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے بھی کمزور ہیں ۔ حکومت میں بیٹھے حنیف عباسی کے خلاف فیصلہ نہیں آسکتا تھا ۔ یہ فیصلہ اب ہی آناتھا ۔ کسی دکھیاری ماں کی آہ جو ایک عرصے سے عرش اور زمین کے درمیان سسکیاں بھر رہی تھی ، آج سنی گئی ہے ،جس کا بیٹا نشہ کر کر کے مرگیا تھا اور یہ اسے سنبھال بھی نہ سکی تھی اسکی خالی گود کی ہوک ہے جو حنیف عباسی کے خلاف ، جج صاحب کے دل کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر گئی ہوگی ۔ شرم آنی چاہیئے ان لوگوں کو جو اس ملک کے عوام کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو ہدف بنایا جارہا ہے یہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے جاتے ہیںاور ان کے حمایتی ان کے جھوٹ کو مزید آگے پھیلاتے ہیں۔ ہدف تو وہ بنتے ہیں جنہیں بے وجہ جھوٹے مقدموں میں اُلجھا یا جاتا ہے ۔

حنیف عباسی کے خلاف تو جرم ثابت ہوا ہے ۔ اور محض حنیف عباسی ہی نہیں ، ہر وہ شخص جس کے خلاف مقدمات ہیں ، ان کے جرائم ثابت ہورہے ہیں خواہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ہوں یا پیپلز پارٹی کے ۔ اور اب تو کئی مجرم تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہیں ۔ بس یہ عدالتوں کا سہر ا ہے کہ اس ملک کی صفائی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ورنہ انتظامیہ تو پہلے بھی اسی نظام میں موجود تھی اور کوئی خاطر خواہ کام نہ کر پاتی تھی خاموتماشائی بنی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے کیا کچھ نہیں ہوتا رہا۔ میں سوچتی ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے ۔ منشیات فروشوں کو سزا ہوتو اسے ہد ف بنانے کا نام دیا جائے ایسے لوگوں کے خلاف تو میرے جیسے عام لوگوں کو عدالت میں جانا چاہیئے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، ہمارے استحصال ہمارے خلاف جرم میں مجرموں کے ساتھی ہیںمجرموں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔ میں سمجھنا چاہتی ہوں کہ یہ فیصلہ اب نہ ہوتا تو کب ہوتا ؟۔

متعلقہ خبریں