Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بن خالد ؒ فرماتے ہیں : ’’میں ایک مسجد میں چلاگیا اس حال میں کہ میرے پاس ایک تھیلا تھا ، جس میں ہزار درہم تھے ۔ ان کے علاوہ میرے پاس کچھ نہ تھا ، وہ درہم میری کل جمع پونجی تھے ، میںنے وہ تھیلا ایک ستون کے ساتھ رکھ دیا اور نماز پڑھنے لگا ، نماز کے بعد اس تھیلے کو وہیں بھول کر واپس چلا آیا ۔ اس تھیلے کو کھونے کی وجہ سے میں بڑی مصیبت میں گرفتار ہوگیا مگر میں نے ایک سال تک کسی کو بھی اپنے حال سے آگاہ نہیں کیا ‘‘۔ فرمایا: ’’ اس کے بعد میں نے اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور حق تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے و تھیلا واپس دلوادے اور حال یہ تھا کہ ایک بڑھیا میرے برابر میں بیٹھی ہوئی میری دعا سن رہی تھی‘‘۔ اس نے کہا : ’’ اے خدا کے بندے ! وہ کیا چیز ہے جس کی دعا مانگتے ہوئے میں نے تمہیں سنا ہے ؟ میں نے کہا : ’’ایک تھیلا ہے ، جس کو پچھلے سال میں اسی ستون کے پاس بھول گیا تھا ‘‘۔ وہ کہنے لگی :’’ وہ تو میرے پاس ہے اور پچھلے ایک سا ل سے میں تمہاری منتظر ہوں ، پھر وہ بڑھیا وہی تھیلا مجھے دے کر چلی گئی ‘‘۔ ٭

ابوالحسن المدائنی اپنی کتاب ’’الفرج بعد الشدۃ‘‘ میں لکھتے ہیں : خالد نامی شخص کو بہت تنگی اور فقروفاقے کا سامنا تھا ۔ ایک دن وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ہشام بن عبدالملک کا قاصد آیا اور عرض کیا : ’’ ہشام بن عبدالملک آپ کو عراق کی حکومت دینے کے لیے بلا رہے ہیں ‘‘۔ مگر وہ وہیں خاموش بیٹھے رہے ، قاصد نے ان سے بہت اصرار کیا ۔ خالد نے کہا:’’تھوڑی دیر ٹھہرو ، تاکہ میری قمیص خشک ہو جائے ‘‘۔ کیونکہ انہوں نے وہ قمیص قاصد کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے دھوئی تھی اور ان کے پاس اس قمیص کے علاوہ اور کوئی قمیص نہ تھی ۔ قاصد نے عرض کیا :’’ آپ جلدی سے چل کر حاضری دیجئے ، آپ کو تو بہت ساری قمیصوں کی طرف بلایا گیا ہے ‘‘۔ ٭ایک آدمی سردی کے موسم میں تجارت کی غرض سے نکلا۔ اس کے پا س چارسو درہم تھے ، جو اس کی کل جمع پونجی تھے ۔ اس نے چارسو درہم کے زریاب (پرندہ ) کے بچے خریدے ۔ بغداد میں جب وہ اپنی دکان پر آیا توبہت سرد ہوا چلی ، چنانچہ سوائے ایک بچے کے جو سب سے چھوٹا اور کمزور تھا ، باقی سب بچے مر گئے ۔ پس اس کو اپنے فقر و فاقہ اور ہلاکت کا یقین ہو گیا ۔ اس نے پوری رات رب تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا کی تاکہ پریشانی سے نجات مل جائے ۔ وہ بس یہی کہہ رہا تھا : ’’ یا غیاث المستغیثین اغثنی‘‘۔ یعنی اے مدد طلب کرنے والوں کی مدد کرنے والے ! تو میری مدد کر دے ۔ چنانچہ صبح کے وقت جب سردی ختم ہوئی تو اس بچے نے اپنے پر پھیلائے اور کہنے لگا : ’’ یا غیاث المستغیثین اغثنی ‘‘۔ سو لوگ اس کی دکان پر اس پرندے کے بچے کو دیکھنے اور اس کی آواز سننے کے لیے جمع ہو نے لگے ۔ ام المقتدر کی باندیوں میں سے ایک باندی سواری پر وہاں سے گزری ، جب اس نے بھی پرندے کی آواز سنی اور اس کو دیکھا تو اس کی قیمت پوچھی ۔ لیکن وہ آدمی خاموش رہا تو اس نے اس بچے کو دوہزار درہم میں خرید لیا ۔

متعلقہ خبریں