Daily Mashriq

ڈی آئی خان میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ

ڈی آئی خان میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ

خیبرپختونخوامیں ضم ہونے والے اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابی عمل کی تکمیل اور نتائج کے اعلان کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں منصوبہ بندی کے ساتھ پولیس پر یکے بعددیگرے دو حملے ان عناصر کی مایوسی اور ناامیدی کا واضح اظہار ہیں جن کا ایک عرصے تک ان اضلاع میں جزوی وکلی تسلط رہا ہے۔ ممکن ہے ان عناصر نے اس حملے کی منصوبہ بندی دوران انتخابات قریبی ضم اضلاع ہی میں کی ہو اور موقع نہ ملنے پر اگلے دن ڈیرہ اسماعیل خان میں غصہ اتاردیا۔انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات اور انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد سکھ کا سانس لینے کے موقع کا دہشت گردوں نے فائدہ اٹھایا اورمنصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے اس صورتحال کو سیکورٹی کی ناکامی سے اس لئے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کہ اس قسم کی حملوں کی مکمل روک تھام ممکن نہیں البتہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بار بار پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں اس امر کا اندازہ مشکل نہیں کہ اس علاقے میں اور ممکن ہے اس سے ملحقہ صوبے پنجاب کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے کچھ ٹھکانے اور نیٹ ورک ابھی تک موجود ہوں جو موقع بہ موقع اپنی موجودگی کا احساس پولیس پر حملے اورخودکش حملہ کراکے دلاتا رہتا ہے اس علاقے سے گزشتہ سال نو عمر لڑکوں کی گمشدگی اور اس سال بھی حال ہی میں پانچ لڑکوں کا اس قسم کے عناصر کے ہتھے چڑھ کر والدین کو خط چھوڑ کر اچانک لاپتہ ہونا اس امر کی ٹھوس تصدیق ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان ،صوبہ پنجاب اور جنوبی وزیرستان کے سنگم کے ان علاقوں میں قومی ایکشن پلان کی طے شدہ تطہیری مہم چلانے پر سنجیدگی سے توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے عناصر کا صفایاہوسکے۔نوجوان لڑکی کے بطور خودکش حملہ آور استعمال سے اس امر کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہ میں ممکنہ طور پر خواتین بھی شامل ہوگئی ہیں یہ ایک مزید تشویشناک رجحان اور صورتحال ہے سیکورٹی ادارون کیلئے کسی مرد پر شبہ اور اس کی تلاشی لینا مشکل نہیں لیکن کسی برقع پوش پردہ دار خاتون پر شبہ اور اسے روک کرتلاشی لینا تقریباً ناممکن امر ہے جہاں خواتین سیکورٹی اہلکارموجود بھی ہوں وہاں بھی سوائے حساس مقامات کے باقی جگہوں پر پردہ دار خواتین کی تلاشی ناممکن ہے سیکورٹی اداروں کو خاص طور پر اس کا کھوج لگانا ہوگا کہ ایک جانب جہاں ضم اضلاع کی خواتین ووٹ ڈالنے کے جمہوری عمل میںحصہ لے رہی ہیں تو دوسری جانب دہشت گرد گروہ کو ایک نوجوان خاتون کو گمراہ کرنے میں کامیابی کیسے ملی۔ آئی جی خیبر پختونخوا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس کو خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کا سراغ مل گیا ہے یقیناً یہ اہم پیشرفت ہے جس کے ذریعے اس نیٹ ورک کی بیخ کنی ممکن ہوگی پولیس کو ڈیرہ اسماعیل خان سے نوجوان لڑکوں کو گمراہ کر کے لیجانے والے عناصر تک پہنچنے اور ان کی آئندہ کسی ممکنہ حرکت کو ناکام بنانے کیلئے دن رات ایک کرنے کی ضرورت ہے ۔جس محلے اور جس علاقے سے نوجوان لڑکے والدین کے نام خط چھوڑ کر غائب ہوگئے ہیں اس علاقے اور گزشتہ سال غائب ہونے والے لڑکوں کے علاقوں کے اردگرد کے حالات اور ان نوجوانوں کے اٹھنے بیٹھنے پڑھنے کام کاج کاروبار کے مقامات یا پھر ان کے ارد گرد موجود عناصر ہی ان کو ورغلاسکتے ہیں اور یقیناً یہ لوگ ان لڑکوں سے بار بار ملتے رہے ہوں گے اور اتنا اعتماد بڑھایا ہوگا اورناپختہ ذہن کے لڑکوں کو اس حد تک گمراہ کیا ہوگا کہ انہوں نے والدین پر ان عناصر کی بات ماننے کو ترجیح دی۔ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد کی فرضیت واہمیت اور اس کا ہر مسلمان مردوخاتون کا اس پر ایمان فطری امر ہے لیکن اس عقیدے کے حوالے سے تفصیلی علم بڑے بڑے علماء کے علاوہ شاید ہی کسی کے پاس ہو۔تصور جہاد پر بات نہ کرنے کا رواج حقیقی عقیدے پر پردہ ڈالنے اور بہکانے والے عناصر کا کام آسان کرنے کے مترادف ہے حکومت کو علمائے کرام کی مدد سے اس ضمن میں لٹریچر تیار کر کے مساجدومنبر اور مدارس سے لیکر نصاب تعلیم تک اس کو اس طرح سے شامل کرنے کی ضرور ت ہے کہ نہ صرف جہاد کا حقیقی مفہوم ہی واضح ہو بلکہ جہاد کس وقت اور کن شرائط کے ساتھ فرض ہونے اس کے اعلان کا اختیار اور عام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا وقت اور ذمہ داریوں کی پوری تفصیلات سے آگاہی ہو تاکہ بہکانے والے عناصر یوں نوجوانوں کو جنت کے حصول کے دھوکہ میں اپنے ساتھ ملا کر استعمال نہ کرسکیں۔دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے قومی ایکشن پلان کے باقی ماندہ فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیئے کہ سیکورٹی نظام میں ایسی کیا کمزوریاں یا پھر تساہل آگئی ہے جس کا جائزہ لے کر دہشتگردعناصر کو منصوبہ بندی کا موقع ملتا ہے ڈیرہ اسماعیل خان میں ماہ محرم کی آمد کے پیش نظر ابھی سے سیکورٹی کے معاملات بارے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ محرم الحرام کے دوران امن دشمن عناصر فرقہ وارانہ فسادات کی سازش نہ کرسکیںاور علاقے کا امن متاثر نہ ہوپائے۔

متعلقہ خبریں