Daily Mashriq

کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا لاینحل مسئلہ

کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا لاینحل مسئلہ

پشاور میں متعین مقامات کی بجائے جگہ جگہ کوڑاکرکٹ پھینکنے سے مختلف قسم کی شکایات اور مسائل سامنے آرہے ہیں۔حیات آباد کا کوڑا کرکٹ رنگ روڈ کے قریب برساتی نالہ میں پھینکا جاتا ہے تو دوسری جانب400سال سے زائد تاریخی چوہا گجر پل کے اطراف میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیںجس سے نہ صرف زبوں حالی کا شکار چوہا گجر پل متاثر ہو رہا ہے بلکہ قریبی رہائشی علاقوں میں شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور میں کچرا ٹھکانے لگانے والے متعدد ادارے اسو قت ڈمپنگ سائٹ سے محروم ہیں ڈبلیو ایس ایس پی کے علاوہ ایک بھی ادارے کے پاس ڈمپنگ سائٹ موجود نہیںپشاور میں کچرا ٹھکانے لگانے کے ذمہ دار تمام ادارے ایک دوسرے کے علاقے میں کچرا گرانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں تاہم اس کے حل کیلئے تاحال کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور ، ٹی ایم ایز اور ڈبلیو ایس ایس پی ایک دوسرے کے علاقے میں کچرا گرانے پر نوحہ کناں ہیں پشاور کے مکین بھی تاحال اس امرسے بے خبر ہیں کہ وہ کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے کس متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں۔کچرے کو ٹھکانے لگانے کیلئے ڈمپنگ سائٹ کا حصول لوگوں کی جانب سے اراضی نہ دینے اور اپنے علاقے میں ڈمپنگ سائیٹ نہ بنانے دینے کے باعث مشکل امر ضرور بن گیا ہے لیکن اس کا جو حل جہاں جگہ ملے وہاں کچرا پھینک دو کی صورت میں نکالنے کی کوئی گنجائش نہیں غیر متعین جگہوں پر کچرا نہ پھینکنے کی سرکاری طور پر ہدایت بھی ہوتی رہی ہے لیکن ا س کے باوجود متعلقہ عملہ اس کی پابندی نہیں کرتا یہ مسئلہ روز بروز سنگین سے سنگین تر صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے جس کے باعث شہر کے مضافات اور ارد گرد کے علاقے ڈمپنگ سائیٹ بن گئے ہیں چوہا گجر پل کو قدیم پل اور تاریخی وثقافتی ورثہ کے طور پر تحفظ دینے کی بجائے اسے کچرے کے پہاڑ سے ڈھاپنے کا محکمہ ماحولیات اور آثار قدیمہ کے اداروں کو بھی نوٹس لینا چاہیئے صوبائی حکومت اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالے اور متعین مقامات ہی پر کچرے کو سائنسی طور پر اور نافع بنا کر ٹھکانے لگانے کے اقدامات کرے جس سے جہاں کو ڑا کرکٹ بحفاظت اور ماحولیاتی طور پر مناسب انداز میں ٹھکانے لگ جائے وہاں اس کے لوگوں کو کاروبار وروزگار کے مواقع بھی میسر آئیں۔

پشاور کے ڈوبنے کا خطرہ

میگا پراجیکٹ بی آر ٹی میں نکاسی آب کا مئوثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے پشاور میں مون سون کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کر کے شہریوں کے خدشات کی تصدیق کردی گئی ہے اس امر کی بار بار نشاندہی کے باوجود ابھی تک اس کا حل نہ نکالنا غفلت کی انتہا ہے جس کی گنجائش نہ تھی خود حکومتی ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آبی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات، بی آر ٹی ملبے کی موجودگی اور سیوریج لائن کا نظام مئوثر نہ ہونے کے باعث پشاور میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔اس ضمن میں واضح احکامات کے باوجودایک ماہ بعد بھی چیف سیکرٹری کے احکامات پر عملدرآمدنہ ہوناسمجھ سے بالا تر امر ہے۔مون سون کے شروع ہونے سے خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے اور بعید نہیں کہ کسی بھی دن پشاور میں محولہ قسم کی صورتحال سے واسطہ پڑے۔ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور جلد سے جلد ممکنہ فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ اس کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔

بجلی بندش کا حکومت نوٹس لے

پشاور کے علاقہ گل آباد نمبر1 اور نمبر2،مومن ٹائون، اقبال کالونی، امجد کالونی، سیٹھی ماڈل ٹائون، قاضی ٹائون، اکرام کالونی اور ملحقہ دیگر علاقوں کے عمائدین نے شکایت کی ہے کہ ان علاقوں میں رات کے اوقات میں صرف دو گھنٹے بجلی آتی ہے ۔بجلی کی طویل بندش کے واقعات بڑھنے پر عوام کا شدید احتجاج اور غم وغصے کا اظہار فطری امر ضرور ہے لیکن ان کا احتجاج پیسکو حکام کے روایتی کردار کے تناظر میںقہردرویش برجان درویش ہی کے زمرے میں شمار ہوگا۔ بجلی بندش کے ان واقعات کو لوڈ شیڈنگ اس لئے قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اولاً اس کا کوئی دورانیہ اور وقت مقرر نہیں اور دوم یہ کہ اس کے کسی شیڈول اور وقت کا اعلان نہیں کیا گیاجن جن علاقوں میں لائن لاسز اور بلوں کی عدم ادائیگی کی شرح زیادہ ہے وہاں پر بھی لوڈ شیڈنگ کا ایک وضع فارمولہ ہے جہاں ادائیگیاں اور لائن لاسز کا توازن ہے وہاں کے صارفین کو تڑپانے کی کیا تک ہے؟پیسکو کو غیر ضروری بجلی بندش مرمت اور تکنیکی فالٹ کا حلیہ تراش کر طویل عرصہ بجلی بند کرنے جیسے حربوں سے باز آجانا چاہیئے۔صوبائی حکومت کو بھی اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ انتظامیہ کیلئے امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں