Daily Mashriq

یہ ایک سال میںہی کیا ہوگیا؟

یہ ایک سال میںہی کیا ہوگیا؟

قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو ابھی چوبیس گھنٹے ہی گذرے تھے اوران انتخابات کے نتائج آ ہی چکے تھے کہ ایسے میں پاکستان میں الیکشن پرنظررکھنے والے ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نامی غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ جاری ہوگئی جس کو پڑھتے پڑھتے ذہن میں سوال ابھرا کہ اچانک یہ ایک سال میں ایسا کیا ہوگیا کہ ان علاقوں سے آنے والے نتائج اورالیکشن کے رجحانات اس قدر بدل گئے اس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح گذشتہ سال 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے مقابلے میں کم ہوئی ہے مردوں نے ان انتخابات میں کم دلچسپی لی اورعورتوں کے ووٹ تو ان سے بھی کم پڑے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ قبائل صوبے میںضم کئے جانے پرخوش تھے اورنہ صرف صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بلکہ مقامی حکومتوں کے نظام کا بھی مطالبہ کر رہے تھے ایسے میں توقع تھی کہ ضم اضلاع کے عوام صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اتنے ووٹ ڈالیں گے کہ ٹرن آئوٹ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ لیکن یہ ایسا کیا ہوگیا ابھی تو 365 دن بھی نہیں ہوئے کہ ایک بڑے حصے کے عوام اپنے سابقہ فیصلے پر برقرار نہ رہ سکے۔جہاں پچھلے سال کے عام انتخابات میں تمام ووٹ تحریک انصاف پرنچھاورکئے گئے تھے اب کی بار وہ واپس چھین لئے ایسا کیوں ہوا صرف اگرایک ضلع خیبرکو ہی دیکھا جائے تواس میں قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں تحریک انصاف کی جھولی میں ڈالنے والوں نے ان انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی تین میں سے ایک نشست بھی انہیں نہیں دی۔ باجوڑمیں قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں انہیں دینے والوں نے صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی اتنی آسانی سے تحریک انصاف کو نہیں دیں، ضلع مومند میں قومی اسمبلی کی واحد نشست تحریک انصاف کو دینے والوں کو ایسی کیا ناراضگی ہوئی کہ صوبائی اسمبلی کی یہ نشست انہوں نے اے این پی کو دے ڈالی۔ ان نتائج پرنظرڈالیں توبہت سے سوال ذہن میں ابھرتے ہیں کہ گذشتہ انتخابات پراپوزیشن کی مسلسل تنقید ٹھیک ہے یا اب رونما ہونے والی یہ صورتحال درست ہے؟

حکومت کی خوش قسمتی ہی سمجھ لیں کہ صوبائی اسمبلی کے ان انتخابات میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں جو آزاد منتخب ہوئے اورقوی امید ہے کہ وہ حکومتی بنچوں کا ساتھ دے دیں گے اور یوں حکومت کو انتخابات کے دوران لگنے والے کچوکے کا ازالہ ہوجائے گا۔ یعنی وہ میدان میں ہارنے کے بعد بھی اتنی ہی نشستیں واپس حاصل کرلے گی جتنی کہ اس نے انتخابات کے دوران دعوی کیا تھا لیکن ان منتخب ہونے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو حکومت کے بیانیے کے خلاف راستے پر گامزن تھے اوررہیں گے مین سٹریم پولیٹیکل پارٹیز کے علاوہ پختون تحفظ موومنٹ بھی ایک ایم پی اے کے ساتھ صوبائی اسمبلی میں آگئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے بعد اب صوبائی اسمبلی میں بھی وہ تلخی نظر آئے گی جس کا مظاہرہ سڑکوں پر ہوتا آیا ہے۔ ایک طرف جہاںسیاسی تجزیہ نگارحالات کا تجزیہ کرکے اس پر رائے زنی کررہے ہیں تو دوسری طرف عام لوگ بھی سوشل میڈیا پرجس انداز میں ان معاملات پراظہارخیال کررہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاہے ان لوگوں کو اب کوئی کچھ بھی کہے اورکتنی ہی سوشل میڈیا ٹیمیں بھی بن جائیں وہ اپنی بات ضرور کرینگے آزاد امیدواروں کے انتخاب پرایک تبصرہ نے میرا ذہن گھیر رکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں انہیں فیصلہ سازوں نے قصداً ایسا کیا ہے تاکہ پی ٹی آئی کو ہراکر انتخابات کے شفاف ہونے کا تاثر بھی دیا جائے اور اس طرح آزاد امیدواروں کو جتواکرپی ٹی آئی کے اس گر سے استفادہ کیا جائے جو وہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا نے کیلئے استعمال کرتی ہے۔ ایسے میں اگرحکومتی دعووں کے مطابق وہ آزاد امیدواروں سے رابطے میں ہے تو وہ ہار کربھی نقصان میں نہیں رہے گی اوریوں وہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کران سولہ نشستوں میں سے دس لوگ ساتھ ملالے گی اورپھر اسے خواتین کی تین اورایک اقلیتی نشست بھی ملے گی تو بغیر کسی بڑے نقصان کے وہ چودہ مزید نشستیں حاصل کرجائے گی اوریوں اس کی خیبرپختونخواا سمبلی میں دوتہائی اکثریت پھر بھی قائم رہ جائے گی۔

اگر اس تجزیے پر من و عن عمل ہو تو پھر تو پی ٹی آئی الیکشن میں اپنوں کو جتوانے کی بدنامی کمائے بغیر بھی کامیاب رہی۔

لیکن اس سے ملنے والا سبق بھی ہے جسے اگراس نے بھلادیا تو پھر وہ اگلی بار اس سے بری ہار کے لئے تیار رہے۔ پہلا سبق تو ٹکٹو ں کی تقسیم کے طریقہ کار کا تھا جسے خود پارٹی کارکنوں نے زیادہ نہیں سراہا بلکہ اس کی مزاحمت کے لئے میدان میں آگئے، دوسرا سبق یہ تھا کہ ضروری نہیں کہ آپ کے ایک گھوڑے کو لوگ جتوائیں گے تو اس کے ہاں پلنے والے خچر کو بھی آپ کے نام پرووٹ دے دینگے گذشتہ سال کے مقابلے میں اگر بعض جگہوں پردیکھا جائے تو جھنڈا بھی عمران خان کا تھا اورتصویربھی ساتھ ہی حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہے۔ لیکن لوگوں نے کچھ امیدواروں کو اہل نہ مانتے ہوئے انہیں بری طرح مسترد کردیا خصوصاً موروثی سیاست کو تو اتنی بری طرح لتاڑدیا کہ شاید تحریک انصاف اس سبق کو کبھی بھلانہ پائے۔ جہاں تک با ت اپوزیشن جماعتوں کی کارکردگی کی ہے تو اس کے بارے میں تو اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تو شروع دن سے ہی حوصلہ ہارلیا تھا اوران کی وہ تیاری نظرنہیں آرہی تھی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔ اس سارے عمل سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ لوگ ہر بار ہرجماعت کو ہرقسم کے حالات اورکارکردگی و نعروں کے ساتھ ووٹ نہیں دیتے اس لئے اب جس کو بھی ووٹ چاہیئے اسے خود پر لگی ہوئی کچھ آلائشیں صاف کرنی ہونگیں ۔

متعلقہ خبریں