Daily Mashriq

ایک بلا جواز فاتحانہ ٹویٹ

ایک بلا جواز فاتحانہ ٹویٹ

پاکستان میں صرف دو شخصیات پر قوم آدھی آدھی متحد اور متفق ہے وہ ہیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال ۔آدھی بھی کچھ یوں دلچسپ انداز میں متفق اور متحد ہے کہ جب اور جس دورکے حکمران کوقائد اعظم کی کسی مخصوص تقریر اور کلام کے مخصوص حصے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کی بھرپور تشہیر کرتا ہے عام آدمی اسی قائد اعظم اور علامہ اقبال کی ذات کے سحر میں گم ہوتا ہے ۔اگلا دوراپنی ضرورت اور ذہنی اُپچ کے مطابق تقریروں اور کلام کے کسی دوسرے حصے کواپناتا ہے اور پھر اسی حصے کی تشہیر ہوتی ہے اور باقی لوگ اسی سحر میں مست رہتے ہیں ۔اس کے سوا قوم کسی لیڈر اور فکری راہنما کو حرزجاں نہیں بناتی ۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مغربی دنیا میں یہ تاثر بہت منظم انداز میں پھیلایا گیا تھا کہ پاکستان کا سماج اور طاقتور ریاستی ادارے وسیاسی اور مذہبی جماعتیں اسامہ بن لادن کی زلف کے اسیر ہیں اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو پاکستانی عوام مدتوں سر پیٹتے اور سینہ کوبی کرتے رہیں گے اسی تاثر کے تحت ایبٹ آباد آپریشن کے دوسرے روز پر مغربی دنیا اور میڈیا پاکستان پرنظریں جمائے ہوئے تھا مگر ان کے اندازے غلط ثابت ہو رہے تھے ۔ اس روز بھی کارحیات عام دونوں سے زیادہ معمول کے تحت چلتا رہا اور باقی دنیا کی طرح یہاں بھی خالی تبصروں اور تجزیوں سے جی بہلایا جاتا رہا ۔ پاکستان کے سخت جاں لوگ حافظ محمد سعید کے جیل آنے جانے کی خبروں کے اسی طرح عادی ہو چکے ہیں ۔پچھلے کئی سال سے ان کی یہ آمدورفت لوگوں کے لئے معمول بن چکا ہے مگرجو بات پاکستانیوں کے لئے معمول ہے نجانے کیوں وہی معمول کی آمدورفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے اس قدر اہم ہوگئی کہ انہوں نے ایک پورا ٹویٹ داغ دیا ۔حکومت کے کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے حافظ محمد سعید کو اس وقت گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا جب وہ ایک مقدمے کی پیشی کے لئے سوئے عدالت رواں تھے۔ انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔حافظ سعید پر مختلف مقامات پر بہت سے مقدمات درج ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ان پر خیرات اور چندے کے پیسے دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے کا ایک نیا مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے ۔حافظ سعید کی جماعت اور نیٹ ورک یوں تو کافی عرصے سے زیر عتاب ہے مگر بالاکوٹ واقعے کے بعد یہ عتاب کچھ اور تیز ہو گیاہے۔حافظ سعید کی گرفتاری کے ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ ٹارزن بن کر سامنے آئے اور انہوں نے اس گرفتاری کا کریڈٹ لینے کی بھرپور کوشش کی ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’ دس سال کی تلاش اور ان کی حکومت کے دوسالہ دبائو کے بعد ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ دھر لیا گیا‘‘۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کا مقصد داخلی اور سیاسی معلوم ہوتا ہے وہ اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے اپنی کامیابیوں کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں عام انتخابات تک ان کی کامیابیوں کا الائو اس شان اور شدت سے دہک رہا ہو کہ مخالف جماعت کا چراغ جل کر بھی بے معنی ہو کررہے۔ ٹرمپ کی اس خواہش اور کوشش کا اصل مرکز افغانستان سے امریکی فوج کا باعزت اور پرامن انخلاء ہے ۔اسی مقصد کے لئے وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے یہی نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ شکر رنجی کا تاثر دے کر پاکستان کو پوری طرح شیشے میں اتارا جا رہا ہے ۔افغانستان کا معاملہ ایسا ہے کہ وہاں امن خود پاکستان کی ضرورت ہے ۔ہمسائے کے طور پر افغانستان میں لگی آگ سے پاکستان اپنا دامن بچا نہیں سکا اس لئے امریکہ سے زیادہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کی خواہش اور ضرورت ہے ۔حافظ سعید کی حالیہ گرفتاری نئی نہیں وہ ماضی میں گرفتار اور نظر بند ہوتے رہے ہیں اور عدالتی پیشیاں بھگتنا بھی ان کا معمول ہے مگر کسی امریکی صدر نے اس عمل پر ٹویٹ کرکے کریڈٹ سمیٹنے کی کوشش نہیں کی ۔اسی سے انداز ہ ہورہا ہے کہ ٹرمپ کو انتخابی ضرورت کے تحت چھوٹی چھوٹی فتوحات کے ستارے اپنی سیاسی مانگ میں سجانے کا جنون ہے ۔امریکہ کی اپنی حالت تو یہ ہے کہ کل تک جن طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر کچلنے میں مصروف تھا اب ان کے ساتھ بااہتمام مذاکرات کررہا ہے اور چائے اور کھانے کے دور چل رہے ہیں ،تصویریں بن رہی ہیں اور خبریں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں چھپ رہی ہیں ۔وہ طالبان جنہیں بوجھ او ردشمن سمجھا جاتا تھا اب امریکہ کے لئے اثاثہ بن رہے ہیں کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو امریکہ کو باعزت واپسی کا راستہ اور ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔زمانہ بدلنے کے ساتھ حالات واقعات کا منظر اور ترتیب بھی بدل جاتی ہے ۔ ریاستوں کی ترجیحات ،پسند وناپسند کے معیار بھی تبدیل ہو تے ہیں ۔اندرا گاندھی نے جو تامل ٹائیگرز بنائے تھے ایک روز انہی کو کچلنے کے لئے سری لنکا میں اپنی فوج اتاری اور بعد میں یہ پالیسی راجیو گاندھی کو چاٹ گئی ۔اندراگاندھی نے اکالی دل کا زور توڑنے کے لئے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو استعمال کیا تھا ایک روز اسی بھنڈرانوالہ کو مارنے کے لئے دربار صاحب پر آپریشن بلیو سٹار کے نام پر چڑھائی کی ۔ ایران جن طالبا ن کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکاری تھا اب ان سے بہتر تعلقات قائم کئے ہوئے ہے ۔ پاکستان بھی قانون بین الاقوام کی پابند ایک ریاست ہے ۔اس کے معیار اور پالیسیاں بھی وقت اور حالات کے ساتھ بدلتی ہیں ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں