Daily Mashriq

کاش تم نے بھی کسی درد کو پالا ہوتا

کاش تم نے بھی کسی درد کو پالا ہوتا

انسان ایک سماجی جانور ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر بود باش کرنا ضروری ہی نہیں سمجھتا بلکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اپنے ارد گرد پھیلے خطرات کے علاوہ مختلف النوع رنج و الم سے محفوظ سمجھتا ہے۔ مل جل کر رہنے سے وہ اپنے قریب رہنے والوں کے دکھ درد اور غمی شادی میں ہاتھ بٹاتا ہے ان کی ڈھارس بندھاتا ہے ان کے کام آتا ہے جس کے عوض اس کی ہمسائیگی میں رہنے والے بھی اس کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اس کے رنج والم کو آپس میں باٹتے ہیں اس کی خوشی پر ناچتے گاتے اور خوشیاں مناتے ہیں اور جب اس پر کوئی افتاد پڑتی ہے وہ اس کے دور ابتلاء کے سنگی ساتھی بن جاتے ہیں اور یوں انسان کی زندگی میں در آنے والی پریشانیاں، پریشانیاں نہیں رہتیں۔ کسی کے دکھ درد میں کام آنا کسی عبادت سے کم نہیں۔ ایسی عبادت جسے حقوق العباد کا نام دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حضرت انسان کو کرہ ارض پر اس ہی غرض سے بھیجا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر درد دل کے جذبے کو موجزن رکھے۔ مخلوق خدا کی مدد کو قرب الہی کا ذریعہ بنائے۔ اس حوالہ سے خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا ہے کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

وہ لوگ یقینا عظیم تر ہوتے ہیں جو اپنے ارد گرد بودو باش رکھنے والوں کا خیال رکھتے ہیں ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے انہیں سوچ بچار کے علاوہ آپس میں صلاح مشورے کرنے کی غرض سے تنظیم کاری کرنی پڑتی ہے۔ ہجرہ بیٹھک مسجد یا پنچائیت تشکیل دینی پڑتی ہے جس کی روایت صدیوں سے تادم تحریر قائم ہے اور تادم زیست قائم رہے گی۔ ہم ریاست مدینہ میں ایسی تنظیم کاری کی مثال پیش کرتے ہوئے اصحاب صفہ کے کردار اور ان کی کارگزاریوں سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں صدیوں سے رائج جرگہ سسٹم بھی اس کی تابندہ مثال ہے۔ عہد برطانیہ میں شہروں اور قصبوں میں مل جل کر رہنے والے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے وجود میں آنے والی تنظیم کاریوں پر میونسپلٹی کا تڑکہ لگا دیا گیا۔ ہمارے ہاں شہروں اور قصبوں کو’ بلد یا بلاد‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا اس لئے ہم شہریوں کو بنیادی سہولیات پہچانے کی خاطر وجود میں آنے والی تنظیموں کو بلدیاتی ادارے کہنے لگے۔ کل کی طرح آج بھی بلدیاتی ادارے مقامی لوگ تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن ان کو حکومت کا بھر پور تعاون اور سر پرستی حاصل ہوتی ہے۔ جو قاعدوں اور قانون کی تابع رہ کراور اپنی آمدن واخراجات کا بجٹ بنا کر مقامی لوگوں کو صفائی ستھرائی آب رسانی نکاسی آب صحت و تندرستی اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ پشاور جسے ہم عروس البلاد پشاور کہتے تھے اس کی آبادی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب اسے عروس البلاد کہنے کو دل نہیں کرتا۔ یہاں بنیادی سہولیات کی افراط کی وجہ سے بڑھتی آبادی کا طوفان بلا خیز در آیا ہے اور جو لوگ ٹریفک جام اور آلودگیوں بھرے شہر پشاور میں تل دھرنے کو جگہ نہ پاسکے یا جن کا دم فصیل شہر کے اندر تنگ و تاریک گلیوں میں گھٹنے لگا وہ پشاور کے مضافات میں پشاور آباد کرنے لگے۔ اس طرح پشاور کی آبادی کے ساتھ اس کے رقبہ میں بھی بے حد و حساب اضافہ ہونے لگا۔ اس ہی مسئلہ کا سامنا جب راقم السطور کو کرنا پڑا تو وہ اپنے آبائی شہر سے ہجرت کرکے اس کی ہمسائیگی میں ڈسٹرکٹ نوشہرہ کے موضع تارو جبہ میں قائم ہونے والے واپڈا ٹائون میں آن بسا۔ کھلی فضا ،با افراط پانی۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مبرا، مساجد، اسکول کالج ،سبزہ و ہریالی، اور پرسکون ماحول میں ارتقاء کی منازل طے کرنے والی اس نو آبادی میں اگر کچھ کمی ہے تو یہی کہ ہنوز یہاں بلدیاتی نظام متعارف نہیں ہوا۔ تاہم یہ کیسے ممکن ہے کہ مل جل کر رہنے والا انسان جہاں بھی بود و باش اختیار کرے وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے تنظیم کاری نہ کرے۔ ہمارا یہ گمان اس وقت سو فی صد سچ ثابت ہوا جب ہم تک یہاں ’واپڈا ریزیڈنشل آرگنائزیشن ‘کے قیام کی دھنک پہنچی اور ساتھ ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ اس تنظیم کے آرگنائزر شاہد ولی خٹک کے ذریعے ایک الیکٹرونک مراسلہ ملا جس کو زیر نظر کالم میں پیش کرتے وقت ہم پشاور کے گردو نواح میں اگنے والے ہر کنکریٹ جنگل کے رہائشیوں کو ان کے بہترین مفاد میں بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ شاہد ولی خٹک واپڈاٹائون کے رہائشیوں کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں ’’السلام علیکم ۔ اگر کسی کے پاس موبائل میںPm citizen portal ہے تو براہ مہربانی سب ایک ایک میسج عمران خان کو کریں،کہ ہم اہلیان واپڈا ٹاؤن نے اپنی زندگی کی جمع پو نجی خرچ کر کے اپنا ذاتی مکان بنایا۔اب واپڈا ٹائون کے ڈرین سسٹم کی وجہ سے ہمارے مکانات پانی میں کھڑے ہیں اور ان کے گرنے کا خطرہ ہے۔بارشوں کی وجہ سے جگہ جگہ پانی کھڑاہو جاتا ہے۔بیماریاں پھیلتی ہیں۔ڈرین سسٹم بند ہے۔انتظامیہ خواب غفلت کے مزے لے رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بند ڈرین سسٹم کی صفائی کی جائے۔ شکریہ۔‘‘شاہد ولی خٹک کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے ہم وزیر اعظم پاکستان کی وساطت سے نہ صرف واپڈا ٹاؤن تاروجبہ کی انتظامیہ خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کرتے ہیں ، بلکہ ڈسٹرکٹ کونسل ضلع نوشہرہ کے دراحساس پر دستک دیتے ہوئے اپنی جمع پونجی کے لٹ جانے کے خدشات کا رونا روتے ہوئے زیر زمین دفن کئے جانے والے نکاسی آب کے سلسلہ کو درست کرنے کے علاوہ اپنی بنیادی سہولیات کا حق طلب کرتے ہوئے پکار پکار کرکہتے ہیں کہ

دل کی بستی میں اجالا ہی اجالا ہوتا

کاش تم نے بھی کسی درد کو پالا ہوتا

متعلقہ خبریں