Daily Mashriq

چین ثقافتی یلغار۔ ہو جائیے تیار

چین ثقافتی یلغار۔ ہو جائیے تیار

نوے کی دہائی میں اپنے شعبے کے اعلیٰ کورس کے لئے مجھے چین میں جاکر رہنا پڑا، ییلوریور پر ڈیم بنانے والی یورپین کمپنی کے ہم مہمان بھی تھے چین کے صوبہ ہی نان (Henan) اور ان سے تعلیم بھی حاصل کررہے تھے، دن بھر تعلیم کرنے کے بعد رات کو گھر والوں سے بات کرتا ۔ پشاور اور شولاندی (Xiaolangdi) کے وقت میں تین گھنٹے کے فرق کی وجہ سے رات کے بارہ بجے فون کرتا تو پشاور والوں کے ابھی نو ہی بجے ہوتے تھے، میرے کمرے میں فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مجھے قریبی پی سی او پر جانا پڑتا اور اکثر رات کا کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے کرتے پی سی اوپہنچ جاتا لیکن ابھی وقت ہونے کے باعث ‘ نومبر میں شولاندی کی سردی میں کھلے آسمان تلے انتظار کرنا پڑتا، جو آپ سوچ رہے ہیں یہ بات میں نے بھی پی سی او میں ڈیوٹی پرمامور لڑکی سے کہی ۔لیکن اس نے کہا کہ وہ ایک شریف گھرانے سے ہے اور ان کی خاندانی روایات کے مطابق میں اکیلی لڑکی ایک مرد کو اپنے چھوٹے سے کیبن میں نہیں بٹھاسکتی۔میں نے اسے اپنی کورس میٹ چینی لڑکیوں کے بارے میںبتایا کہ میں تو ان کے ساتھ اتنے عرصہ سے ہوں ، ہم لوگ ایک ہی کلاس میں بیٹھتے ہیں اور باہر بھی بیٹھتے ہیںایک دوسرے سے بات کرتے ہیںہم ساتھ لنچ اورہوٹل میں جاکراکٹھے ڈنر کرتے ہیں وہ تو ایسے بالکل نہیں تو اس لڑکی نے جواب دیا کہ وہ یورپ زدہ لڑکیا ں ہیں، ہمارا موازنہ ان سے نہ ہی کریں تو بہتر ہے ۔

چین ترقی یافتہ ملک ہونے کے لئے ایک دہائی پہلے سے تیاری کرچکا تھا یہ بات مجھے میری چینی کورس میٹ مس لی جو نے بتائی ، اس نے کہا کہ دس سال پہلے ہی چین کی حکومت نے بھانپ لیا تھا کہ جب ہم نے عالمی تجارت میں جانا ہے تو پھر ہمارے باشندوں کو ان کی زبان میں بات کرنی اور سمجھنی ضروری ہے ، جی ہاں مائوزے تنگ کی تعلیمات کے بالکل برعکس، کیونکہ چیئرمین مائو نے کہا تھا کہ ’’ہم اپنی زبان بولیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ چین گونگا نہیں ہے‘‘ لیکن اب چین کو بولنا ہی نہیں بلکہ تجارتی دنیا پر حکومت کرنی تھی لہٰذہ ساری دنیا کو چینی زبان سکھانے کی بجائے اپنی قوم کو دنیا بھر کی زبانیں سکھانے کے لئے ایک دہائی پہلے ہی تیاری شروع کردی۔ مس لی جو کے مطابق نوے کی دہائی کے شروع ہی میں چین کی اس وقت کی حکومت نے فیصلہ کیا اور پورے چین سے ہزاروں لڑکے لڑکیوں کو دنیا بھر کی زبانیں سیکھنے کے لئے سرکاری خرچ پرباہر کے ملکوں میں بھیج دیا گیا اور (Train the Trainer)کے اصول کے تحت پھر انہیں واپس آکر دیگر لوگوں کویہ زبان سکھانی تھی۔ اس سیکھنے سکھانے کے چکر میں کب یہ چینی طلباء و طالبات یورپ اور امریکہ کے ملکوں کی ثقافت اپنانے لگے اور یوں چین کی ثقافت میں کثافت کرتے ہوئے بے حیائی اور بے راہ روی کی ثقافت گڈمڈ کرتے چلے گئے لیکن پتہ ہی نہیں چلا۔میری کلاس فیلو لی جو کی طرح کے ہزاروں لڑکے لڑکیاں اس نئی ثقافت کو معیوب بھی نہیں سمجھتے۔ لیکن چین کا عام شہری برگر کھانے اور بے حیائی میں بہت بڑا فرق بھی سمجھتا ہے اور اسے معیوب بھی گردانتا ہے۔بالکل ہماری طرح وہ بھی اس بے راہ روی اور بے حیائی کی یلغار سے تنگ تھے لیکن چونکہ یہ تجارت کا ایک جزولاینفک تھا لہٰذہ مجبوراً اسے اپنے شہر و اپنے ملک سے نکال نہیں سکتے۔

چین نے تجارتی دنیا پر حکمرانی تو کرلی دنیا بھر کی زبانوں پر عبور حاصل کرلیا اور ساتھ ساتھ ان کی ثقافت بھی چین میں متعارف کروادی اوران یورپ زدہ لڑکے لڑکیوں نے اپنے دیگر دوستوں اور بہن بھائیوں کو بھی اس لت پر لگادیا، چین بہت پرانی قوم ہے اور اس کی ثقافت کو پورے طور مٹانا اتنا آسان نہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ یورپ کی بے راہ روی کی ثقافت اب ان میں رچ بس سی گئی ہے۔ میں نے چین میںاپنے قیام کے دوران یورپ کی طرز کے ہوٹل اور ان کے ساتھ قحبہ خانہ بھی دیکھے، ان کلبوں کو وہاں کی زبان میں’’ کراہوکے‘‘ کہتے ہیں۔ دنیا بھر کے تجارت پیشہ لوگ اور سیاح یہاں کا رخ بھی کرتے ہیں، جہاں پر دنیا بھر کی لڑکیاں تجارت کی غرض سے آنے والوں کو سامان تفریح مہیا کرکے تروتازہ کرتی ہیں۔چین کے ہر شہر میں نہیں تو ہر بڑے شہر میں یہ قحبہ خانے بنے ہوئے ہیں کہیں پر کھلے عام اور کہیں پر مساج سنٹر کے نام پر۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں