Daily Mashriq

مرے سپاہی‘ سلام تجھ پر

مرے سپاہی‘ سلام تجھ پر

پولیس کا نام آتے ہی عوام کے ماتھوں پر بل پڑتے ہیں تو اس کا جواز بہر حال ہے کیونکہ انگریز کے دور میں جب پولیس فورس کا محکمہ قائم کیاگیا تھا اور اس کے لئے ایکٹ لایاگیا تو اس کا مقصد ہی انگریز سرکار کی اطاعت پر مجبور کرنے کے لئے ایسے قوانین بنائے گئے جن سے سرتابی عوام کو مہنگی پڑتی تھی۔ ظاہر ہے جن خطوط پر پولیس کی تربیت ہوتی رہی اور جن پر اب بھی بہت حد تک عمل ہو رہا ہے اس کی وجہ سے عوام کے ساتھ پولیس کا عمومی سلوک کچھ اتنا حوصلہ افزاء بھی نہیں ہے کہ لوگ پولیس والوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرکے واقعی دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں بلکہ جس کے بارے میں پولیس کسی علاقے میں پوچھ گچھ کرنے کے لئے پہنچ جاتی ہے تو اس بے چارے کی زندگی عذاب میں آجاتی ے اور ہمسایوں تک کی نظروں میں وہ شخص مشکوک ہو جاتا ہے‘ مگر اب بہت کچھ بدل چکا ہے‘ کم از کم خیبر پختونخوا کی حد تک تو وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اب ایک سابق آئی جی ناصر خان درانی کی اصلاحات نے نہ صرف اس محکمے کی کایا کلپ بہت حد تک تبدیل کردی ہے بلکہ اس دوران میں یعنی جب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی نے اس صوبے کو اپنی گرفت میں لے کر امن و امان کا مسئلہ عوام کے لئے شدید کردیا تھا اس حوالے سے پولیس کے افسروں اور جوانوں کی لا زوال قربانیوں نے عوام کے دلوں میں اس محکمے کے چھوٹے بڑے اہلکاروں کے لئے نرم گوشہ قائم کر دیا ہے اور اب پولیس والے بھی کہہ سکتے ہیں کہ

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں

دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں

گزشتہ روز سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ڈی آئی جی سپیشل برانچ قاضی جمیل الرحمن اور اے آئی جی شہزادہ کوکب کے علاوہ کچھ دیگر افسران کے ساتھ ملاقات میں سینئر کالم نگاروں نے جنہیں یوم شہدائے پولیس کی تقریبات کے حوالے سے بریفنگ کے لئے دعوت دے کر بلایا گیا تھا اس ملاقات میں جہاں پولیس کے شہداء کی لا زوال قربانیوں پر اہل قلم نے خراج تحسین پیش کیا وہاں پولیس فورس کے عمومی روئیے کو بھی زیر بحث لایاگیا جس پر قاضی جمیل الرحمن نے انتہائی صبر و تحمل سے نہ صرف ان معروضات کو سنا بلکہ ان کو بہت حد تک درست قرار دیتے ہوئے یقین بھی دلایا کہ وہ صحافیوں اور کالم نگاروں کی آراء کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اگر مسائل کی نشاندہی کی جائے گی تو ان پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر کئی کالم نگاروں نے اپنے اپنے طور پر تجاویز بھی پیش کیں جبکہ بعض دوستوں نے شہداء پولیس کے بعض خاندانوں کی جانب سے اب تک شہداء پیکج نہ ملنے کی شکایات کا بھی ذکر کیاجس کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک 1715شہداء کے خاندانوں کو پیکج مل چکا ہے اور باقی پراسیس میں ہیں۔ ظاہر ہے قانونی تقاضے پورے کرنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے۔ اس موقع پر قاضی جمیل الرحمن صاحب نے بتایا کہ جو پولیس اہلکار دہشت گرد حملوں میں معذور ہوچکے ہیں انہیں بھی کار آمد بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ڈیپارٹمنٹ نے انہیں عضو معطل سمجھ کر بھلا دیا ہے۔ ان لوگوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور انہیں تھانوں میں بلوا کر ایسی آسان ڈیوٹیاں دی جا رہی ہیں تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ بے کار پرزہ ہیں بلکہ اس طرح ان کی عزت نفس کو بحال کرنے میں ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔ شہزادہ کوکب نے بتایا کہ محکمے کے پاس تمام شہداء کی فیملیز کا مکمل ڈیٹا موجود ہے ان شہداء کے جو بچے ملازمتوں میں ایڈ جسٹ ہوسکتے تھے انہیں ملازمتیں فراہم کردی گئی ہیں اور جو کم عمر ہیں ان کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے اور مقررہ عمر تک پہنچنے کے بعد انہیں بھی ایڈجسٹ کردیا جائے گا۔

کالم نگاروں نے اس موقع پر یوم شہداء پولیس کے حوالے سے کئی تجاویز پیش کیں اور اس سلسلے میں عوام کی آگہی کے لئے نہ صرف صوبے بھر میں بینرز‘ پوسٹرز آویزاں کرنے‘ واک کااہتمام کرکے پولیس فورس کی قربانیوں کو اجاگر کرنے‘ نشتر ہال میں مشاعرہ کے ساتھ اس موقع پر دہشت گردانہ حملوں کی ان تصاویر کی نمائش کرنے جو پولیس فورس کی قربانیوں کی نشاندہی کرسکیں‘ پولیس کے کارناموں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک مستقل میگزین شائع کرنے کا اہتمام کرنے کے حوالے سے شائع کرنے کابندوست کرنے اور دیگر تجاویز شامل ہیں‘ کالم نگاروں کی معروضات کو نہایت توجہ سے سنا گیا اور ان پر حتی الامکان حد تک عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یقینا پولیس افسران اور اہلکارں نے صوبے میں امن و امان بحال کرنے کے لئے جو لا زوال قربانیاں دی ہیں اور عوام کے کل کو محفوظ کرنے کے لئے اپنا آج قربان کردیا تو ان قربانیوں کو ہر سطح پر خراج تحسین پیش کرنے کی ہر لمحہ ضرورت ہے۔ اس حوالے سے میں نے جو نظم لکھی ہے اس کے چند مصرعے پیش خدمت ہیں۔

وطن کی ہر ماں‘ ہر ایک بیٹی

تمہارے جذبے کی معترف ہے

ہر ایک بچہ‘ ہر ایک بھائی

ہر اک بزرگ ہاتھ اٹھائے ہوئے

یوں دعا بہ لب ہے

کہ رب العزت قبول کرلے

تری شہادت‘ تری ریاضت

مرے سپاہی‘ سلام تجھ پر

متعلقہ خبریں