Daily Mashriq


رشکئی صنعتی زون کا قیام

رشکئی صنعتی زون کا قیام

چائنہ نیشنل الیکٹرک انجینئرنگ کمپنی کے وفد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ایک ملاقات کے دوران کرنل شیر خان انٹر چینج کے قریب رشکئی کے مقام پر اپنی نوعیت کے پہلے وسیع صنعتی زون پر کام کے آغاز کی فیزیبلٹی رپورٹ پیش کردی ہے۔ اس موقع پر زون کے لئے ایک ہزار ایکڑ اراضی کے حصول کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مزید رقبہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ صنعتی زون کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ شروع میں ایک سو کار خانے جبکہ مجموعی طور پر دو سو کارخانے قائم ہوں گے جن میں سٹیل' ادویات' حلال خوراک' ٹیکسٹائل اور ہلکی و بھاری گاڑیوں کے پرزہ جات کی فیکٹریاں شامل ہیں۔ صنعتی زون میں پچاس ایکڑ اراضی پر آئی ٹی سٹی بھی قائم کی جائے گی جس میں ہارڈ ویئر' سافٹ ویئر سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مختلف قسم کی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ انڈسٹریل زون میں سب سے پہلے 225 میگا واٹ کا گیس تھرمل بجلی گھر قائم کیا جائے گا جس سے کارخانوں کو سستی بجلی مہیا کی جائے گی۔ زون میں صوابی' مردان' ہری پور اور نوشہرہ کے نوجوانوں کو روز گار کے 30ہزار براہ راست مواقع مہیا ہوں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے صنعتی زون پر کام جلد از جلد شروع کرکے بروقت مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منفرد منصوبہ ے جس سے صنعتی اور پیداواری شعبے کی ترقی کے علاوہ روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔انہوںنے کہا کہ صوبے میں نئی صنعتوں کے قیام کے لئے قرضوں پر مارک اپ کی شرح میں پانچ فیصد رعایت دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے صنعتی مراعات کو لازمی طور پر نئی صنعتی پالیسی کا حصہ بنا دیاگیا ہے جن میں قرضوں پر مارک اپ' صنعتی استعمال کے لئے بجلی کے نرخوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں رعایت کے علاوہ دیگر ضروری مراعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مربوط کوششوں کے ذریعے صوبے میں سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول قائم کردیا ہے۔ صوبے بھر میں ایک جامع اور متوازن ترقیاتی حکمت عملی کے تحت مختلف نوعیت کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔ جہاں تک صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی زونز کے قیام کا تعلق ہے اسے یقینا خوش آئند قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان پر ہم بعض تحفظات کا اظہار کئے بنا نہیں رہ سکتے۔ ایک تو مجوزہ رشکئی انٹر چینج سے ملحقہ صنعتی بستی میں قائم ہونے والے صنعتی یونٹوں کے لئے بجلی کی فراہمی کی بات ہے اس حوالے سے گیس سے حاصل ہونے والی بجلی کو سستی قرار دینے کے دعوے قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ صرف اور صرف پانی سے حاصل ہونے والی بجلی دوسرے تمام متبادل ذرائع کی نسبت انتہائی سستی ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ بجلی پیدا کرنے کے لئے گیس کہاں سے حاصل کی جائے گی؟ اس میں قطعی شک نہیں کہ صوبہ گیس خود پیدا کر رہا ہے مگر بد قسمتی سے آئین میں پن بجلی اور گیس کی ملکیت کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا کا حق اپنی بجلی اور گیس پر فائق اور ترجیحی بنیاد پر ہونا چاہئے لیکن وفاق جس طرح صوبے کے ان دونوں وسائل پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور نہ تو پن بجلی کی مکمل رائلٹی ادا کرتا ہے نہ ہی گیس سے صوبے کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا ہونے دے رہا ہے۔ اس سے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ رشکئی صنعتی زون کے لئے گیس سے چلنے والے بجلی گھر کے لئے گیس کی فراہمی میں بھی مسائل کھڑے کئے جائیں گے جبکہ یہ بجلی نسبتاً پن بجلی سے مہنگی بھی ہوگی اور صنعتوں میں مہنگی بجلی کے استعمال سے وہ مقاصد پورے ہونے کی امید کم کم ہی رہے گی۔ دوسرا اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ صوبے میں اس وقت بھی پہلے سے جو صنعتی بستیاںقائم ہیں انہیں گیس اور بجلی کی فراہمی کے مسئلے کی وجہ سے کئی صنعتیں بند ہوچکی ہیں بلکہ گدون امازئی کی صنعتی بستی جب میاں نواز شریف کے پچھلے دور اقتدار میں شروع کی گئی تو اس حوالے سے بڑے بلند بانگ دعوے کئے جاتے رہے اور پی ٹی وی پر جس طرح ایک اشتہاری فلم کے ذریعے اس کی تشہیر کی جاتی رہی اس کے برعکس گدون کے لوگوں کو ان کارخانوں میں صرف مزدور اور چوکیدار کی ملازمتوں پر ٹرخایا جاتا رہا جبکہ وہاں صنعتی یونٹوں کو نئی مشینری درآمد کرنے اور کارخانوں سے حاصل ہونے والی پیداوار پر جو مراعات دی گئیں اس کے تمام تر فوائد کراچی' لاہور' کالا شاہ کاکو' فیصل آباد وغیرہ کے صنعت کاروں نے سمیٹے اور بعد میں اسے صنعتی قبرستان میں تبدیل کردیا گیا۔ اس لئے صوبائی حکومت کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ مجوزہ صنعتی بستی کے لئے بھی جو مراعات دی جا رہی ہیں ان سے ملک کے دیگر حصوں کے صنعت کار گدون امازئی کی طرز پر فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی مشینری ملک کے دوسرے حصوں اور وہاں کی ناکارہ مشینری اس نئی صنعتی بستی میں نصب کرکے تگڑم بازی نہ کرسکیں ۔ اس کے ساتھ صوبے کی موجودہ بیمار صنعتوں کی بحالی پربھی توجہ دی جائے تاکہ صوبے میں واقعی حقیقی طور پر روز گار کے مواقع بڑھیں اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔

متعلقہ خبریں