Daily Mashriq


ایک صائب فیصلہ

ایک صائب فیصلہ

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاو رنے عیدا لفطر پر ملازمین کی جانب سے عید ایام میں میونسپل سروسز کی عدم فراہمی اور ڈیوٹی نہ کرنے کے اعلانات کا نوٹس لیتے ہوئے ادارے میں لازمی سروس ایکٹ 1958ء نافذ کر دیا ہے ، جس کے تحت ادارے کے ملازمین احتجاج ، ہڑتالیں اور جلسے جلوس نہیں نکال سکیں گے ۔ ڈبلیوایس ایس پی نے تمام ملازمین کو ڈیوٹی پر حاضری دینے کا حکم دیتے ہوئے یونین کے عہدیداروں کو تنبیہہ مراسلہ بھی ارسال کردیا ہے ، جنرل منیجر آپریشنز کی جانب سے گزشتہ روز آرڈر جاری کر دیا گیا کہ تمام ملازمین عید الفطر 26جون سے 28جون کے دوران اپنی ڈیوٹیوں پر حاضرہوں گے اور پشاور میںگندگی اٹھانے سمیت واٹر سپلائی اور سینٹی ٹیشن کی تمام سروسز معمول کے مطابق فراہم کر یں گے ۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں سرکاری چھٹیوں کے دوران ڈیوٹی کے عوض ایک دن جاریہ بنیادی تنخواہ کے برابر جبکہ عید کے دنوں میں ایک چھٹی کے عوض دو دنوں کے اوور ٹائم کی ادائیگی کی منظوری دی گئی ہے مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے عید الفطر کے دنوں میں پانی اور سینی ٹیشن خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ بصورت دیگر لازمی سروسز ایکٹ کی شق (7)کے تحت کارروائی کی جائے گی جس میں قید و جرمانے کے علاوہ ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے ، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملازمین کو عید کے دنوں میں چھٹیاں کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ، اس حوالے سے یونین کے عہدیدار غلط معلومات پھیلا رہے ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ چند روز پہلے ایک خبر سامنے آئی تھی کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے وہ ملازمین جو سینی ٹیشن اور شہر میں صفائی ستھرائی کے شعبے سے وابستہ ہیں انہیں ادارے نے عید اپنے بچوں کے ساتھ منانے کی اجازت دیتے ہوئے عید کے دنوں میں چھٹی کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے اوریوں شہر میں عید کے دنوں میں صفائی ستھرائی کا کام معطل رہے گا ۔ البتہ صرف ٹیوب ویل آپریٹر ز عوام کو پانی کی فراہمی جاری رکھیں گے تاکہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کیلئے گھروں کو پانی کی سپلائی بند نہ ہو سکے ، عوام نے اس قسم کی خبروں کوحیرت سے دیکھا اور اسے ایک نا پسند یدہ اقدام قرار دیا کیونکہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہو سکا تھا کہ عید کے موقع پر کبھی صفائی ستھرائی کے عملے نے کام چھوڑ کر غیر حاضری کی ہو ، اور یوں شہر میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوں اس لئے اس پر عوام کی جانب سے تعجب کا اظہار جائز تھا ۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ یونین کو اس قسم کی خبریں پھیلانے سے بروقت کیوں نہیں روکا گیا یا کم از کم خبریں چھپنے کے فوراً بعد اگلے ہی روز ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام نے فوری طور پر نوٹس لیکر متعلقہ حلقوں کی سرزنش کیوں نہیں کی اور اس کیلئے تقریباً چھ سات روز کا انتظار کرنا پڑا ۔ ماضی میں عیدین اور بالخصوص عیدالاضحی سے پہلے ہی میونسپل اداروں کی جانب سے عوام کو اخبارات کے ذریعے مطلع کردیا جاتا تھا کہ ادارے نے میونسپل کے خاکروبوں اور کوڑہ کرکٹ کو ٹھکانے لگانے والے عملے کی چھٹیاںمنسوخ کر دی ہیں اور انہیں عیدین کے مواقع پر شہر میں صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنے کیلئے اضافی ڈیوٹیاں تفویض کردی ہیں ۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مقولے کے مصداق ڈبلیو ایس ایس پی کے متعلقہ حکام کے اس قسم کی خبروں کا نوٹس لینے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے عوام بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ملازمین کی یونین ادارے اور عوام کے ساتھ حسب سابق تعاون کرتے ہوئے عید کے دنوں میں شہر کی صفائی ستھرائی کا بند وبست کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلوں کو بھی معمول کے مطابق چلا کرعوام کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی ۔

گل بہار میں درختو ں کی ناجائز کٹائی

ٹائون ون انتظامیہ نے گل بہارنمبر ایک میں واقع پارک کے 50سالہ قدیم درختوں کی کٹائی کر کے پارک کو چٹیل میدان میں تبدیل کر دیا ہے ، جس سے نہ صرف ماحولیات پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ ان درختوں کو اونے پونے فروخت کر کے مبینہ طور پر خورد برد کا بھی ارتکاب کیا ہے ۔اس میں قطعی شک نہیں کہ محولہ درختوں کی شاخیں وہاں سے گزرنے والی بجلی کی تاروں کے ساتھ الجھ کر مسئلہ بنارہی تھیں مگر ماضی میں جب بھی ایسی صورتحال درپیش آتی تو صرف متعلقہ شاخوں کو تراش کر صورتحال کی بہتری کی کوششیں کی جاتیں ، لیکن اب کی بار ٹھیکہ دار اور بعض متعلقہ اہلکاروں کی ملی بھگت نے تفریح گاہ کو چٹیل میدان میں تبدیل کر دیا ہے ، حالانکہ ان درختوں کے سائے میں علاقے کے بزرگ قدرتی ماحول میں سستانے آنے کے علاوہ بچے کھیل میں مشغول ہوتے ، جبکہ اب یہ تمام لوگ اس صورتحال سے مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں ، ٹائون ون کے حکام پشاور شہر کے ماحول کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمہ داروں کو ان کی اس حرکت پر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسرے علاقوں میں ایسی کوئی صورتحال سامنے نہ آسکے ۔

متعلقہ خبریں