Daily Mashriq


پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی اور فاٹا اصلاحات

پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی اور فاٹا اصلاحات

افغانستان کی طرف سے پاکستان پر ایسے الزامات کی ایک بڑی وجہ ختم ہونے والی ہے کہ پاکستان سے جا کر شدت پسند افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان الزامات کے باعث کئی بار افغانستان کو باہمی سرحد کی مشترکہ نگرانی اور باڑھ بندی کی تجویز پیش کی گئی لیکن گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے کے دوران افغانستان کی طرف سے ایسی تجاویز کا سرکاری جواب نہیں آیا۔ اس کی وجہ کیا ہے ، افغان حکمران یقینا جانتے ہوں گے جسے وہ زبان پرنہیں لاتے۔ عام تاثر یہ ہے کہ افغانستان میں ایک لابی ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان سرحد نہیں مانتی لیکن اور کوئی سرحد ہے بھی نہیں۔ ڈیورنڈ لائن برطانوی ہند نے افغان حکمرانوں کے ساتھ طے کی تھی اور ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے یہی سرحد دونوں ملکوں کے درمیان سرحد ہے اور یہی سرحد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ حکومت افغانستان نے کبھی اس سرحد کو دنیا کے کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا ہے۔ لیکن عملی طور پر اس سرحد کی نشاندہی کی طرف افغانستان کی طرف سے کسی بھی اقدام کے آثار نظر نہیں آتے۔ حال ہی میں مستونگ کے علاقے جہانگیر کلے اور لقمان کلے میں افغان فوجیوںنے پاکستانی مردم شماری کے عملے پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں سمیت گیارہ افراد شہید ہو گئے۔ اس کے جواب میں پاک فوج نے کارروائی کی جس میں پچاس کے قریب افراد کے مارے جانے کی اطلاع آئی۔ آخر دونوں افواج کی مقامی فلیگ میٹنگز میں یہ طے کیا گیا کہ دونوں طرف سے نقشوں کے ماہرین ڈیورنڈ لائن کو تلاش کریں اور اس مشق کی مشترکہ رپورٹ اسلام آباد اور کابل کو بھیج دی جائے۔ یہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیے جانے کی طرف مقامی سطح پر اُٹھایا جانے والا ایک قدم ہے جو ڈیورنڈ لائن کے بین الاقوامی طور پر پاک افغان سرحد تسلیم کرنے کی توثیق ہے۔ یہی ایک طریقہ ہے جو سرحدی جھڑپوں ، چپقلش اور دراندازی کے الزامات کا سدِ باب کر سکتا ہے۔ اگرچہ جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے باہمی سرحد کی باڑھ بندی یا مشترکہ نگرانی کی تجاویز کا کوئی مثبت جواب نہیںآیا تاہم پاک فوج نے اپنے طور پر پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کاکام شروع کر دیا ہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ پہلے مرحلے میں مہمند' خیبر اور باجوڑ ایجنسیوں میں باڑھ مکمل کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں بلوچستان سمیت تمام 2611کلو میٹر سرحد پر باڑھ لگا دی جائے گی۔ افغانستان کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی سرزمین پر لگائی جا رہی ہے۔ افغان حکومت کو نہ صرف اس باڑھ بندی پر اظہار اطمینان کرنا چاہیے بلکہ اس میں تعاون کرنا چاہیے کیونکہ افغان فورسز کے تعاون سے یہ باڑھ ان علاقوں میں بھی لگائی جا سکے گی جہاں افغان حکمرانوں کے بقول افغان فورسز کو رسائی حاصل نہیں جہاں پاکستان میںآپریشن ضرب عضب سے فرار ہو کر جانے والے تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کی کمین گاہیں ہیں۔ افغا نستان کے حکمرانوں کے لیے یہ باڑھ اس لیے بھی باعث اطمینان ہونی چاہیے کہ اس سے منشیات کے سمگلروں کا راستہ رُکے گا۔ جو افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون کا 45فیصد پاکستان کے راستے سمگل کرتے ہیں۔ باڑھ بندی کے بعد افغان حکومت خود افیون کی برآمد سے محصولات وصول کر سکے گی۔ لیکن اس طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ باڑھ بندی پر 12ارب روپے خرچ کیے جائیں گے اس پر نگرانی کے برج اور چوکیاں اور ''قلعے'' بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کی ہمہ وقت نگرانی کا بندوبست بھی کیا جائے گا اور اس پر حساس آلات بھی نصب کیے جائیں گے جو باڑھ پر کسی قسم کی کارروائی کی فوری اطلاع اپنے مراکز کو دیں گے۔ اس باڑھ بندی سے ممکن ہے چند ایسے قدیمی بے آباد غاروں کے اور ندی نالوںکے بنائے ہو ئے راستے رہ جائیں گے لیکن یہ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آ تے رہیں گے۔ جن علاقوں میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف آبادی ہے ان میں داخلہ کے دروازوں کی تعداد ظاہر ہے زیادہ ہو گی۔ تاہم یہ ایک ایسا مثبت اقدام ہے جس کا انتظار برسوں سے تھا۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس میں باڑھ بندی کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے کام لیا جائے گا اور یہ جلد مکمل کر لی جائے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید پانچ ہزار امریکی فوج افغانستان میں بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی پہلے سے موجود دس ہزار فوج میں یہ اضافہ یا تو حساس مقامات کی حفاظت کے کام آئے گا یا طالبان کے زیر انتظام علاقوں سے طالبان کو بے دخل کرنے کی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں یا تو افغانستان سے فرار ہو کر نئے افغان مہاجرین یا افغان طالبان کے عناصر ہوں گے جو ممکن ہے پناہ لینے کے لیے پاکستان کا رخ کریں۔ اس باڑھ کے باعث ان کو روکنے یا کسی ڈسپلن میں لانے میں آسانی ہو گی۔ افغانستان کے حکمرانوں کے الزامات کا بے جواز ہو جانا اور افغانستان سے ممکنہ دراندازی کا انسداد اس باڑھ کے عارضی اور فوری فوائد ہوں گے۔ اس کا حقیقی فائدہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے ایک ہی زبان و ثقافت و روایات کے امین لوگوں کو اپنا اپنا منفرد قومی تشخص حاصل ہونے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ باڑھ کے دونوں طرف رہنے والے عوام کے لیے باڑھ ایک حقیقی اعلان تو ہو گا ہی کہ اس طرف رہنے والے پاکستانی ہیں اور اس طرف رہنے والے افغان ہیں۔ لیکن اس کے لیے فاٹا اصلاحات کا نفاذ بھی فوری ضروری ہے۔ باڑھ کے دونوں طرف رہنے والے اگر جانتے ہوں کہ انکے ملک میں گورننس کا نظام ان کے ہمسایہ ملک سے مختلف ہے۔پاکستان علاقے میں مقامی حکومتیں ' مقامی وسائل طے کرتی ہیں۔ تنازعات قدیمی روایات کے مطابق بھی طے ہوتے ہیں تاہم قومی قانون ان فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔ تو چند سال میں علاقے کے لوگ اپنے اپنے قومی تشخص سے زیادہ سے زیادہ آشنا ہو جائیں گے اور زبان و ثقافت کی بنیاد پر قومیتی مغالطہ پیدانہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں