Daily Mashriq


ایک ننھا عمل

ایک ننھا عمل

رمضان آیا اور ہمارے ہاتھوں سے پھسل بھی گیا ، پتا ہی نہ چل سکا ۔ ہم اپنے اپنے رویوں کو سنبھالے ، روزے رکھتے رہے ۔ کسی برائی نے ہمارا دامن نہ چھوڑا ، ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی ۔ ہم فاقے تو کرتے رہے ، نمازیں بھی پڑھتے رہے لیکن کسی ایک نے بھی یہ عہد نہ کیا کہ اس رمضان میں ، میں ایک برائی چھوڑ دوں گا /گی ۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس رمضان کے بعد کبھی غیبت میری زندگی میں نہ رہے گی ۔ میں جھوٹ سے تعلق توڑلوں گا /گی ۔میں اب زکوٰة وقت پر دیا کروں گا ۔ میں لوگوں سے اچھا سلوک کروں گا ۔ رحم کے رشتوں کا خیال رکھوں گا ۔ رمضان آیا اور گزر گیا ۔ ہمارے سروں پر جو خنا س عام مہینو ں میں سوار رہتا ہے اگر اس مہینے میں نہ بھی رہا تو ہم پھر اپنے اسی اصل کو لوٹ جانے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ کوئی تبدیلی تو نہیں آئی ۔ اور جب ہم یہ سب خود کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے بچوں پر بھی ہماری کسی قسم کی کوئی تلقین اثر انداز نہیں ہوتی ۔ دلوں کے اندر خاموشی بڑھتی چلی جاتی ہے اور باہر کان پڑی آوازسنائی نہیں دیتی ۔ یہ معاملات ، یہ رویے ہمارے معاشرے کے کردار کا حصہ بن چکے ہیں ۔ بہتر ی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ، کیسے دکھائی دے ، ان رویوں کو بدلنے کی کوئی کوشش بھی تو کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔ ہم نے اپنے آپ کو بدلنے کا ارادہ کیا ہوتا ۔ یہ معاشرہ تو تبھی بد ل سکتا ہے جب ہم بدلیں گے اور ہماری حالت وہی ہے جس کا قصہ ہم ہر روز دہراتے ہیں اور مثال کے لیے وہ کہانی بھی کئی بار دہرائی گئی ہے کہ ایک بادشا ہ نے ایک بہت بڑا حوض تعمیر کروایا اور منادی کروادی کہ شہر کاہر شہری اس حوض میں ایک ایک کپ دودھ ڈالے گا ۔ لوگ آئے اور اپنے اپنے حصے کا ایک کپ دودھ ڈالنا شروع کیا ساری رات یہ سلسلہ جاری رہا ۔ صبح ہوئی توبادشاہ نے دیکھا تالاب لبالب ، پانی سے بھرا ہوا تھا ، ہر کسی نے یہ سوچ کر ایک کپ پانی ڈالا تھا کہ دوسرا دودھ ڈالے گا تو میرے پانی کا پتہ ہی نہ چلے گا ۔ ہمارا بھی حال اس سے قطعی مختلف نہیں ہم میں سے ہر ایک اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ دودھ کا کپ دوسرا ڈالے گا اور وہ اپنی طرف سے صرف پانی ہی ڈال رہا ہے جب رویے ایسے ہوں تو بھلا معاشرے کہا ں اثبات کی کہانیاں سنا تے ہیں ۔ ہم کبھی بہت فسردہ رہتے ہیں کہ ہمیں حکمران ٹھیک نہیں ملتے ۔ کبھی دُکھ کھائے جاتا ہے کہ حکمرانوں کی بد عنوانیوں نے ہمیں کھوکھلاکر دیا ہے ۔ کبھی ہم اپنے ارد گرد پھیلی برائی کو دیکھ کر حیران رہتے ہیں کہ یہ جانے کب درستگی کی جانب قدم اٹھائے گی مگر بات تو پھر بھی وہی ہے ، اپنے حصے کے دودھ کا پیالہ ہم نے کب ڈالا ہے ۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں ، ہمارے بچے ہم سے جھوٹ بولنا سیکھتے ہیں اور ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں تو اس معاشرے سے جھوٹ کیسے ختم ہو جائے ۔ ہمیں موقع ملے تو ہم اپنے حصے کا زیاں ضرور کرتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں کر سکتے تو وضو کرتے ہوئے پانی ہی بے شمار ضائع کرتے ہیں کہ ثواب حاصل ہو سکے ، جبکہ اسلام میں تو ہر ایک شے میں میانہ روی کا حکم ہے اور پانی احتیاط سے استعمال کرنے کی تنبیہہ ہے کیونکہ وہ جو روز جزا کا مالک ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے اس دنیا میں وسائل کا کتنا راشن دیا ہے اسلام ایک مکمل دین ہے اس لیے ہر ایک شے کے استعمال کا طریقہ بتا تا ہے ۔ پانی کو کیسے استعمال کرنا ہے کہ ہماری مستقبل کی نسلوں کو بھی دقت نہ ہو ، ہمیں بہت پہلے بتا دیا گیا تھا لیکن ہم کہاں سمجھتے ہیں یہاں تو جب تک نل سے پانی جھر جھر نہ بہتا ہو ہمیں وضو کرنے کا مزہ نہیں آتا اور کسی کو کہے تو وہ توجیہہ دینگے کہ صرف کیا ایک میرے ہی کرنے سے ہوگا ۔ باقی جو اتنا ضائع کرتے ہیں کیا ان سے حساب نہ ہوگا اور عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ حساب کتاب تو ذرا دور کے قصے ہیں اس لیے لوگ اسکے بارے میں پریشان نہیں ہوتے ۔ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے جو آداب ہمیں سکھائے گئے ہیں ، کیا ہم ان سے صرف اس توجیہہ پر منہ پھیر سکتے ہیں کہ دوسرے بھی بگاڑ کا شکار ہیں اور کیا یہ کسی بھی باشعور اور فہم والے شخص کو زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی بچگانہ تو جیہا ت پیش کرے ۔ ہمیں تو اپنا کردار اپنے اعمال درست رکھنے کا حکم ہے ، ہمیں اس سے کیا غرض کہ دوسرے کیا کررہے ہیں ۔ ترغیب دینا ضروری ہے لیکن اگر کوئی نہ مانے تو ''اس کے لیے اسکی راہ اور آپ کے لیے آپ کی ''۔ ایسے واضح احکامات کے بعد بھی اگر ہمارے رویوں میںکوئی تبدیلی نہ آتی ہو تو پھر ہم بڑے طاقتور لوگ ہیں ۔ یا کوئی ایسی مضبوط دلیل ہمارے پاس موجود ہے جو ہمیں اس وقت بچا لے گی جب مالک دوجہاں کے سامنے ہم حاضر ہونگے اور کوئی جھوٹ ، کوئی دلیل کار گر نہ ہورہی ہوگی کتنی بار ہم بہت ساری کجیوں میں بس اس لیے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دوسرے بھی ایسا ہی تو کر تے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ دوسرے تبھی تو دوسرے ہیں ۔ وہ جو بھی کریں ہمیں اس سے کیا علاقہ ۔ ہماری نسبت تو بس اسی کچھ سے ہے جو ہمارے ہاتھوں میں تھما ہوا ہے ۔ سو اس رمضان سے ہم کم از کم کسی ایک بات کا ہی آغاز کرلیں ۔ ایک چھوٹی سی تبدیلی خود میں پیدا کرلیں تاکہ آج ہم پانی کے ضیاع سے ، اپنی آنے والی نسلوں کے قسمت میں جو قحط لکھ رہے ہیں ، شاید اسکے وقت کو کچھ اور نسلوں تک ٹالا جا سکے ۔ ہم عہد کرلیں کہ ہم پانی ضائع نہیں کرینگے ۔ اور اس کا آغاز اپنے وضو سے کرینگے ۔ بس وضو کرتے ہوئے تمام واجبات پورے کرتے ہوئے پانی ضائع نہیں کرینگے ۔ اس ایک ننھی بات سے بھی آغاز ہوجائے تو کون جانے کتنا بڑا سدھار ہمارے ہی اس ننھے عمل سے جنم لے ۔

متعلقہ خبریں