ایک مختلف کپتان

ایک مختلف کپتان

اکبر الہ آبادی نے کہا تھا

پڑھوگے' لکھو گے بنوگے نواب
جو کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب

اب وقت بدل چکا ہے۔ پڑھنے لکھنے کی اہمیت اب بھی قائم ہے نوابی نہ سہی دو وقت کی روٹی اس سے ضرور مل جاتی ہے۔ لیکن وہ جو اکبر نے کھیل کود کو خرابی کی جڑ قرار دیا تھا ان کا یہ نظریہ اب بالکل غلط ثابت ہوچکا ہے۔ کھیلنا' کودنا بالخصوص کرکٹ کے میدان میں کسی بھی کھلاڑی کو راتوں رات زیرو سے ہیرو بنا دیتا ہے۔ کروڑوں روپے کما لیتا ہے ہم اس کے مخالف نہیں اچھی بات ہے مگر کھیل کے میدان کو میدان کار زار بنا کر مارو' کوٹو اور بھگائو کے روئیے سے ہم قطعاً اتفاق نہیں کرتے۔ ایک تو میڈیا بالخصوص پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر جس طرح کسی بھی کرکٹ میچ سے پہلے جو جذباتی فضاء قائم کردی جاتی ہے اس کے بعد پھر قوم ذہنی طور پر کوئی بھی ہار قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ چیمپئن ٹرافی کے پہلے میچ میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ہار گئی تو وہ میڈیا جس نے اپنے پروگراموں میں قوم کے جذبات کو آسمانوں تک پہنچا دیا تھا دوسرے ہی لمحے ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا۔ میچ کے دوران جب ہار یقینی ہوگئی تو وہ مبصر جو ہماری ٹیم کے لئے مخالف ٹیم کو دھول چٹوانے کی پیشن گوئی کر رہے تھے اب انہیں مد مقابل ٹیم کے سامنے ڈھیر ہو جانے کے طعنے دینے لگے تھے۔ ایک مبصر نے تو حسن علی کے کھیل کی تکنیک کو ناقص قرار دینے کے ساتھ اس کے بالوں کے سٹائل کا مذاق بھی اڑانا شروع کردیا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان کھلاڑی کی اپنی کارکردگی میں انقلابی تبدیلی لانے میں کامیاب ہو گئے جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں کو روندتے ہوئے فائنل تک جا پہنچے اور بھارت کی برخود غلط ٹیم کو فائنل میں تاریخی شکست سے دوچار کر دیا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم پہلے میچ میں انڈیا سے شکست کھانے کے بعد اگر سری لنکا کی ٹیم پر فتح حاصل نہ کرتی تو اگلے روز ہی اس کی وطن واپسی یقینی ہو چکی تھی۔ شنید ہے کہ اس کے بعد جہاں ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں نے بے حد محنت کی وہاں ٹیم منیجر نے ماہرین نفسیات سے ان کی کونسلنگ کا بھی بندوبست کیا جس سے ان کے حوصلے بڑھے اور آئندہ میچوں میں انہیں واضح برتری حاصل ہوتی گئی۔ پاکستانی ٹیم کی اس نا قابل یقین دوبارہ واپسی (Come back) پر نامور برطانوی مبصر نے پاکستانی ٹیم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں ہمیشہ سے سوچتا رہا ہوں کہ کھیلوں کی تاریخ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم بڑی دلچسپ ثابت ہوئی ہے لیکن اب میرا خیال ہے اس نے انسانی کھیلوں کی تاریخ میں حیران کن اور دلچسپ ٹیم کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ اس کرشماتی ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی کے مقابلوں میں اپنی لا یعنی کارکردگی کو جسے انہوں نے فارس (Farce) کا نام دیا ہے اپنی ذہانت اور بہترین منصوبہ بندی سے حیران کن حد تک نتیجہ خیز کھیل میں تبدیل کردیا ہے۔ اس میدان میں دنیا کی کوئی بھی بڑی کرکٹ ٹیم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بھارت کے ساتھ ان کے مقابلے کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ڈیوڈ لائنچ کی ہدایت پر میدان میں اتر کر کھیل رہے ہیں۔ جی ہاں ڈیوڈ لائنچ ہالی ووڈ کے مشہور زمانہ فلم ڈائریکٹر اور کہانی کار کا نام ہے جسے بے شمار کامیاب فلموں کی ہدایت کاری کا اعزاز حاصل ہے۔ راب سمتھ مزید لکھتا ہے کہ کوئی عقل کا اندھا ہی اس ٹیم کی نا کامی پر شرط لگا سکتا تھا ۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ کھلاڑی باری باری پردہ غیب سے نمودار ہو رہے ہیں اور غیر مرئی قوتیں ان کی نگرانی پر مامور کردی گئی ہیں۔ بے جان اشیاء کا آپس میں محو گفتگو ہونے کامنظر سامنے تھا۔ ایسے حالات میں صرف یہی ایک اختیار آپ کو حاصل ہوتا ہے کہ آپ موڈ اور دیوانگی کا تماشہ دیکھتے رہیں اس کے بعد This captain is different کے عنوان سے پاکستانی ٹیم کے کپتان کے بارے میں یہ دلچسپ تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ وہ کیمرے کے سامنے غیر مربوط لہجے میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا۔ بعض اوقات تو وہ اپنی انگریزی کا خود بھی مذاق اڑانے سے باز نہیں آتا اس کو اس بات کی بالکل پروا نہیں کہ لالی ووڈ یا ہالی ووڈ کے کسی فلمی ستارے کی مانند وہ دلکش کیوں نظر نہیں آتا۔ یا پھر بل بورڈ پر چسپاں اس کی تصویر خوبصورت کیوں نہیں ہوتی۔ یہ بھی اس کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ وہ اوول کے تاریخی کرکٹ کے میدان میں اپنے شیر خوار بچے کو گود میں اٹھائے تماشا ئیوں کے پرجوش نعروں کے جواب میں ہاتھ ہلا رہا ہے اور ساتھ ہی کھڑی مشرقی برقعے میں پوری طرح ملبوس وہ اپنی اہلیہ سے بھی مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتا ہے۔ وہ حافظ قرآن ہے جبھی تو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی کے آخری مقابلے میں ایک تاریخ ساز کامیابی سے نواز ہے۔ بالیقین وہ ایک مختلف کپتان ہے اور اب تو وہ چیمپئنز کے چیمپئن کا اعزاز بھی حاصل کرچکا ہے۔

اداریہ