Daily Mashriq


جٹی کے کمالا ت

جٹی کے کمالا ت

سیا ست میں بھی کر کٹ جیسا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ بعض طا قتیں نو از شریف کو کلین بولڈ کرنے کی مساعی میں نظرآرہی ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا سیا ست سے شریف فیملی آئوٹ ہو جا ئے گی ، یہ کرکٹ کے کھیل میں ہو تا کہ دنیا نے دیکھا کہ سب سے غیر مقبول ٹیم چیمپئن ٹرافی لے گئی اور دنیا کی بہترین ٹیمیں منہ ہی دیکھتی رہ گئیں اس وقت تو پی پی کو پسو پڑ ے ہو ئے ہیں کہ دوچار لیڈر ہفتہ بھر میں تحریک انصاف کی نذر ہوتے جارہے ہیں بقول ابرار الحق '' ٹکٹ کٹاؤ لین بناؤ '' کی سی کیفیت ہے ۔ پی پی جو پہلے ہی زرداری کی قیا دت میں پاکستان کی زنجیر سے سند ھی ہو کر رہ گئی تھی اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جو بنی گالا میںلین لگی ہوئی ہے اس سے پی پی کا صفایا ہو جائے گا ۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس لین کے بارے میں تبصرہ کیا ہے کہ پی پی کا کچر ا پی ٹی آئی میں جارہا ہے۔ شاید ان کی اس بات سے پی پی کی قیا دت کو اتفاق ہو کیوں کہ پی پی کے لیڈرو ں کی قطا ر در قطا ر جولگی ہوئی ہے کچرا پر یا دآیا کہ جب تک سابق صدر ایوب خان اپنی کر سی سنبھا لے رہے اس وقت تک ان کے وفا دار فرما یا کر تے تھے کہ وہ صدر ایو ب کے ایسے وفا دار ہیں کہ جس طرح ایک کتا اپنے مالک کا ہوتا ہے لیکن جب ایوب خان کی طاقت کے قلم کی روشنائی ختم ہوگئی تو یہ وفادار پی پی میں فوج در فو ج شامل ہو نے لگے ۔اس زما نے کی سیاست بھی تحریک کی مو جو دہ سیا ست کی طرح باکر ہ تھی کہ پی پی ، مسلم لیگ ن میں سب چور اور لٹیرے ہیں مگر ایک رات میں چولی بدلنے والے کا مل ولی قر ار پاجاتے ہیں ۔ پی پی کو چھو ڑنے والو ںکی لائن پر جس طر ح بلا ول بھٹو اور زرداری کو چپ سی لگ گئی ہے ممکن ہے کہ وہ اپنے لیے بھی تحریک میں گوشئہ عافیت چاہتے ہو ں ۔ ایک کالم نگا ر کا فرما نا ہے کہ پی پی جو پاکستان کی سب سے بڑی جما عت ہو ا کر تی تھی اب تحریک انصاف کا پاکٹ ایڈ یشن ہو گئی ہے ۔ کاروبار میں کمر شل ادارے ایک دوسر ے میںضم ہو جایا کر تے ہیں کیا یہ بہتر نہیں کہ تحریک انصاف اور پی پی ایک دوسرے میں ایسی گھل مل جائیں کہ یک جا ن اوریک قلب ہو جا ئیں ۔ویسے بھی دونوں جما عتو ں کا سیا سی تہذیب وتمدن ایک جیسا ہے تحریک انصاف کے بانی بھی اسی طر ح سیا سی انگڑائیا ں لیتے ہیںجس انداز کی پی پی کے بانی لیتے تھے۔ انداز گفتگو اور تو تکا ر سبھی کچھ تو ایک جیسا ہے ۔ بہرحال یہ انتخابات کا سال ہے اور پی پی کے بانی نے جس طر ح عام انتخابات میں پارٹی کے سنجید ہ جیالو ں کو راندئہ درگا ہ کر دیا تھااب تحریک میںبھی نظریا تی کا رکنو ں کا حشر برا ہو رہا ہے ۔ غلا م مصطفی کھر جیسے صالحین لیڈروں کے ذریعے پا رٹی کو دھو یا جا رہا ہے ۔ بہر حا ل تازہ صورت حال یہ ہے کہ آئند ہ عام انتخا بات میں شدید ٹاکرا پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کا ہو گا ، مسلم لیگ اس وقت جٹی کے ہاتھوں ایک ایسے دو راہے پر کھڑی نظر آرہی ہے کہ اس کے لیے پنجا ب بھی اور سندھ بھی خطرہ بنتا نظر آرہا ہے۔ سیا سی جغادری فرما تے ہیںاس کے باوجو د ون مین ون ووٹ کی بدولت سیاست کا اصل مر کز پنجا ب ہی ہے جہا ں مسلم لیگ کو تو ڑنا مشکل ترین مر حلہ ہے چاہے جٹی کتنے کما لا ت دکھا لے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے ایک کا میا بی تو یہ حاصل کر لی ہے کہ جٹی کی حیثیت غیر جا نبداری کی مشکو ک کر دی ہے ، اوپر سے ججز کے ریمارکس سے مسلم لیگ ن نے فائدہ اٹھایا ہے ، ماضی میں کہا جا تا تھا کہ جج نہیں بولتے ان کا فیصلہ بولتا ہے ، اب ججز کے ریما رکس کو سیا ست دانو ں نے بھی نہیں سر اہا یا حتیٰ کہ مسلم لیگ کے پی پی میں سب سے بڑے نا قد چو دھری اعتزاز احسن نے بھی تبصرہ کیا اور جا وید ہا شمی بھی بولے۔ ابھی تو انتخابی صف بندی ہو رہی ہے اور بظاہر کوئی بڑ ا سیا سی اتحا د بنتا نظر نہیں آرہا ہے حزب اختلا ف کی جما عتوں کے بارے میں صورت حال پا نا ما کیس کے فیصلے سے ہی عیا ں ہو گی کہ پر وانہ ادھر جا تا یا ادھر آتا ہے ۔مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ میا ں نو از شریف کے دن تب سے گردش مصائب میں آئے ہیں جب سے انہو ں نے عاشق رسول ممتا ز قادری کی سزائے مو ت کے پر وانے پر صدر مملکت سے دستخط کرانے کے لیے سمری بھجو ائی اور اس پر عمل درآمد کر ایا ۔ پنجا ب اور سند ھ میں ممتا ز قادری کے مکتب فکر کے لاکھو ں ووٹ ہیںجن کا مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک سے کٹ جانے کے امکا نا ت ہیں ، اور ان امکا نات کو روشن بنانے کی سعی بھی بعض حلقوں کی جا نب سے ہو رہی ہے ۔ پنجا ب اور سندھ میں انتخابات پر زمینداروں ، جا گیر دار و ں وڈیر و ں کے ساتھ ذات برداری کا بھی اثر نما یا ں رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں صوبو ں میں روحانی شخصیا ت بھی بہت اثرانداز رہتی ہیں خا ص طورپر اندرون سندھ اور جنوبی پنجا ب میں تو گہر ا اثر ہے ، ایک زما نہ تھا کہ جنو بی پنجاب میں اور اب بھی کسی حد تک پی پی کا بہت زور ہواکر تا تھا ، جس کو توڑ نے کے لیے بعض قوتو ں نے کافی محنت کی اور سیاست میںشاہ محمود قریشی ، صالح حیات ، عابدہ حسین اور فخر اما م کو متعار ف کرایا گیا ، اب یہ صورت حال پی ٹی آئی کے حق میں لے جا ئی جا رہی ہے ۔ ایسے خطرے سے مسلم لیگ ن بھی دوچا رہے ، خواجہ آصف اس خوش فہمی میںنہ رہیں کہ کچر ا ادھر جا رہا ہے بلکہ ان کو معلو م ہونا چاہیے بلکہ معلو م ہے کہ مسلم لیگ سے بھی کچر ا صاف ہونے کو تیار بیٹھا ہے مشرف بھی امید سے ہیں اور وہ چھو ٹی چھو ٹی جماعتو ں کے آگے جھو لی پھیلائے بیٹھے ہیں مگر سیا سی جما عتو ںکا اتحاد جما عتی بنیا دو ںپر انتخابی صورت حال کے پیش نظر ممکن نظر نہیں آرہا ہے البتہ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کر ادی جائے گی اسی بنیا د پر پی پی کے وہ ہیر ے جن کا اپنا بھی ووٹ بینک خاصا تسلیم کیا جا تا ہے اس کو مضبو ط بنا نے کے لیے تحریک انصاف کا ر استہ دکھا یا جارہا ہے ۔