Daily Mashriq


وقت کم اور مقابلہ سخت ہے ۔۔

وقت کم اور مقابلہ سخت ہے ۔۔

کسی ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ آج بھی زبان زد عام ہے کہ ''وقت کم اور مقابلہ سخت ہے ''شاید نثار قادری نے یہ شہرہ آفاق ڈائیلاگ ایسی شان سے ادا کیا تھا کہ اسے قبولیت عام میسر آگئی تھی ۔ آج یہ مکالمہ اس لیے یاد آیا کہ ایک خبر کے مطابق صوبائی حکومت چھ ماہ کی قلیل مدت میں پشاور بس ریپڈٹرانزٹ منصوبہ مکمل کرنا چاہتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی اپنی مجبوری ہے کہ وہ عوام کو جاتے جاتے ایک بڑے منصوبے کا تحفہ دینا چاہتی ہے ۔ بھلے سے اس کے سیاسی مقاصد کیوں نہ ہوں لیکن اس سے بہر حال پشاور شہر کی تھکان تو دور ہوہی جائے گی ۔شیر شاہ سوری سے منسوب جرنیلی سڑک ہی پشاور کی اکلوتی شاہراہ ہے ۔ جس میں بعد ازاں سرکلر روڈ اور رنگ روڈ کا اضافہ ہوا۔ سرکلر روڈ وال سٹی سے باہر کے دائرے میں بنائی گئی تھی اور اس کی افادیت مدتوں پہلے ختم ہوچکی ہے کیونکہ شہر کی فصیل ٹوٹنے کے بعد پشاور شہر جو فصیل کے اندر آباد تھا اب فصیل کے باہر بھی پشاور ہی بستا ہے بلکہ جہاں جاؤ پشاور ہی پشاور دکھائی دے گا۔رنگ روڈ کا اصل منصوبہ تو رنگ کی شکل کا تھا لیکن یہ رنگ ابھی تک صحیح معنوں میں رنگ کی شکل اختیار نہ کرسکا ۔رنگ روڈ کے ادھورے پن کی وجہ سے ٹریفک پشاور کی جرنیلی رو ڈ پر ہی چلتی رہتی ہے ۔ پشاور جو میٹرو پولیٹن شہر ہے اور اس شہر میں سارا صوبہ اکٹھا ہوجاتا ہے ۔ اس شہر سے وابستہ سرکاری امورات ، کاروباری سلسلے ، تعلیمی معاملات ، طبی سہولتیں وغیر ہ صوبہ بھر کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں ۔ اب یہاں دو مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ایک مسئلہ تو رہائشی ہے کہ اس شہر میں ہر دن کو ئی نہ کوئی مائیگریشن کرآتا ہے ۔اس لیے اس شہر میں پرانے علاقوں میںاول تو زمین بچی نہیں اور جو ہے توبہت زیادہ مہنگی ہے ۔ پشاور کے ساتھ پورا ایک شہر حیات آباد بسایا گیا لیکن وہ بھی آبادکاری کے حوالے سے مکمل ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ ہزاروں نئی کالونیاں بنائی گئیں لیکن مسئلہ ابھی بھی باقی ہے ۔ موجودہ حکومت کا سنا ہے کہ کچھ نئے رہائشی منصوبے اس کے پلان کا حصہ ہیں ۔ دیکھیں وہ کب تک منظر عام پر آتے ہیں اور ان کی تکمیل بھی وقت کم اور مقابلہ سخت کی بنیاد پر ہوتی ہے کہ نہیں ۔ بہرحال دوسرا اور سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے ۔ پشاور میں روزانہ ہزاروں مقامی اور باہر سے آنے و الے لوگ موومنٹ کرتے ہیں ۔اس موومنٹ کا سارا زور اور شور جی ٹی روڈ پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ پیر ،منگل ،ہفتے کے ابتدائی دن تو یہ رش ایک دلدل کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ کوئی بھی اپنی منزل تک پہنچنے کے ٹائم کا تعین نہیں کرسکتا ۔ایسی صورتحال میں یقینا کوئی متبادل سلسلہ ہونا لازمی بلکہ ناگزیر ہوچکا ہے ۔ ایک جی ٹی روڈ اب مزید اس بوجھ کو اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے ۔مجوزہ بس منصوبہ ٹریفک کے مسائل کو بڑی حد تک سکھ کا سانس دے گا۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اپنی منزلوں تک رسائی کے لیے ذاتی گاڑی ، موٹر سائیکل ، رکشہ یا ٹیکسی کا انتخاب کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی مناسب بلکہ شریفانہ ٹرانسپورٹ سرے سے موجود نہیں ہے ۔ ویگن ، مزدا ، ہائی ایس اور فی سواری کے حساب سے ٹیکسیاں بھی اس روٹ پر چلتی ہیں لیکن یہ ساری نجی سروس مسئلہ کا حل پھر بھی نہیں ہوسکتیں جو حل سرکاری ٹرانسپورٹ دے سکتی ہے ۔اگربس ٹرانزٹ بن جاتی ہے اور مجھے حیات آباد جانا ہے تو میں ہشتنگری سٹاپ سے صاف کپڑے پہن کر سہولت اور متعین ٹائم پر اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہوں دنیا کے تما م بڑے شہروں میں سرکاری سطح پر ٹرانسپورٹ کا سلسلہ ہوتا ہے ۔وہاں بھی سڑکو ں کے ساتھ زیر زمین ٹرین ، میٹروسٹائل بسیں وغیرہ چلا کر شہر کی ٹریفک کوبہاؤ میں رکھا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پشاورکا یہ دیرینہ مسئلہ چھ ماہ میں مکمل ہوگا کہ نہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہوجائے گا ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں ناامید نہیں ہوتا ۔ دوسری وجہ پی ٹی آئی اور اس کے اتحاد کا یہ آخری حکومتی سال ہے۔ تیسری وجہ سی ایم کا حیات آباد میں بنائے جانے والے پل کو ریکارڈ ٹائم پر مکمل کرنا ہے ۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کام کے لیے جناب پرویزخٹک کو بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہوگا۔کام کا خود جائزہ لینا ہوگا ۔ سرپرائز وزٹ کرنے پڑیں گے کیونکہ اس منصوبے کو سٹیٹ آف دی آرٹ شکل دینے کے لیے کوالٹی اور استھیٹکس کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ کچھ دوست یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اتنی خطیر رقم سے صوبے کے ایک شہر میں اتنا بڑا منصوبہ کیوں بنایا جارہاہے تو میرا جواب صرف اتنا ہے کہ پشاور صوبے کا مرکزی شہر ہے یہ شہر صرف پشاوریوں کا ہی تو نہیں ہے بلکہ یہاں تو سارے صوبے کے رنگ اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ یہ تو صرف آغاز ہے۔ اللہ کرے کہ میرے صوبے کے سارے علاقے اتنی ترقی کرجائیں کہ کسی کو کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ویسے ایک بات یہ بھی ہے کہ پشاور کے لوگ بڑے صابر شاکر لوگ ہیں ۔بس زندگی کی گاڑی کھینچ لیتے ہیں ۔ مسائل پر کڑھتے ہیں مگر آواز بلند نہیں کرتے ۔ کل ہی ایک پروفیسر دوست گلہ کررہے تھے کہ پشاور کا ڈومیسال ہونے کے باوجود ترقی پر دوردراز کے ضلع میں پوسٹنگ کی سمری بنادی گئی ہے جبکہ اسی ضلع کے چار لوگ پشاور میں کام کررہے ہیں ۔ہم نے انہیں صبر کی تلقین کی اور عرض کی کہ کالم میں ذکر کردیں گے سی ایم دیکھ لیں تو اچھی بات ورنہ تمہاری قسمت ۔بہرحال بات بس منصوبے کی ہورہی تھی سو مقابلہ سخت ہے اور وقت کم ہے ۔اللہ کرے کہ یہ منصوبہ مکمل ہوجائے اور پشاور اور اس کی سڑکیں سکھ کا سانس لیں ۔ سو اس ضمن میں وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کے لیے دعا گوہیں۔

متعلقہ خبریں