Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا اس میں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا امیر بنا دیا ہے جتنی چیزیں تمہارے سامنے ہیں ان میں سے جو چیز تمہیں سب سے زیادہ نفع دینے والی ہے میں اسے خوب اچھی طرح جانتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اس سب سے زیادہ نفع دینے والی چیز میں میری مدد کرے اور جیسے اور چیزوں میں میری حفاظت کر رہا ہے ایسے ہی اس میں میری حفاظت فرمائے اور جیسے کہ اللہ نے عدل کرنے کا حکم دیا ہے وہ مجھے تم لوگوں کی تقسیم میں عدل کرنے کی توفیق عطا فرمائے میں ایک مسلمان آدمی اور کمزور بندہ ہوں لیکن اگر اللہ میری مدد فرمائے تو پھر کوئی کمزوری نہیں ہے۔ یہ امارت و خلافت جو مجھے دی گئی ہے یہ انشاء اللہ میرے اچھے اخلاق کو نہیں بدل سکے گی اور عظمت اور بڑائی تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور بندوں کے لئے اس میں سے کچھ بھی نہیں لہٰذا تم میں سے کوئی آدمی ہر گز یہ نہ کہے کہ جب سے عمر امیر بنا ہے بدل گیا ہے ۔میں اپنے نفس کے حق کو خوب سمجھتا ہوں ( یا میں اپنے بارے میں حق بات کو خوب سمجھتا ہوں) میں خود آگے بڑھ کر اپنی بات بیان کرتا ہوں لہٰذا جس آدمی کو کوئی ضرورت ہے یا اس پر کسی نے ظلم کیاہے اور یا ہماری بد خلقی کی وجہ سے اسے ہم پر غصہ آیا ہوا ہے تو وہ مجھے بتا دے کیونکہ میں بھی تم میں ایک آدمی ہوں اور تم لوگ اپنے ظاہر اور باطن میں اور اپنی قابل احترام چیزوں اور آبرو میں اللہ سے ڈرتے رہو اور جو حقوق تمہارے اوپر ہیں تم انہیں ادا کرو اور تم ایک دوسرے کو اپنے مقدمات میرے پاس لے کر آنے پر آمادہ نہ کرو کیونکہ میرے اور لوگوں میں سے کسی کے درمیان نرمی یا طرفداری کا کوئی معاہدہ نہیں تم لوگوں کی درستگی مجھے محبوب ہے اور تمہاری ناراضگی مجھ پر بہت گراں ہے تم میں سے اکثر لوگ شہروں میں مقیم ہیں اور تمہارے علاقہ میں نہ کوئی خاص کھیتی باڑی ہے اور نہ دودھ والے جانور زیادہ ہیں بس وہی غلے اور جانور یہاں ملتے ہیں جو اللہ تعالیٰ باہر سے لے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت زیادہ اکرام کا وعدہ کیا ہوا ہے اور میں اپنی امانت کا ذمہ دار ہوں۔ امانت کے بارے میں مجھ سے پوچھا جائے گا لیکن امانت کا جو حصہ میرے سامنے ہے اس کی دیکھ بھال تو میں خود کروں گا یہ کسی کے سپرد نہیں کروں گا لیکن امانت کا جو حصہ مجھ سے دور ہے میں اس کی دیکھ بھال خود نہیں کرسکتا اسے سنبھالنے کے لئے میں تم میں سے ایسے لوگ استعمال کروں گا جو امانتدار ہیں اور عام لوگوں کے لئے خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والے ہیں اور انشاء اللہ اپنی امانت ایسے لوگوں کے علاوہ اورکسی کے سپرد نہیں کروں گا۔(حیاة الصحابہ حصہ سوم)

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت عمر کے ان الفاظ میں مسلمانوں کے حکمرانوں کیلئے ایک مکمل ضابطہ موجودہے۔ اگر وہ اس پر عمل کریں گے تو مسلمان معاشرے میں انصاف کا نظام پھر سے قائم ہوگا۔ حکمران اور عوام میں فرق مٹ جائے گا اور مسلمان پھر سے عروج حاصل ہوجائے گا ۔

متعلقہ خبریں