Daily Mashriq


شیر آیا شیر آیا کی گردان کیوں؟

شیر آیا شیر آیا کی گردان کیوں؟

نگران وزیرداخلہ اعظم خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں ریلی یا جلوس کو نشانہ بنانے کے خطرات ہیں، دہشت گردی کا خطرہ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز کے بعد ملک کے حالات بہتر ہوئے مگر دہشت گردی کا خطرہ اب بھی ہے۔ را بلوچستان میں جو کر رہی ہے سب کو پتہ ہے۔نگران وزیرداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے35سال سے چلنے والا مسئلہ سب کے سامنے ہے۔جس تواتر کے ساتھ پہلے سینٹ کی کمیٹی میں پھر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اور اب نگران وزیر داخلہ عام انتخابات میں دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا راگ الاپ رہے ہیں اس سے ملک میں خواہ مخواہ عدم تحفظ کی فضا کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ان بیانات کی پٹاری سے الیکشن کمیشن نے یہ نتیجہ برآمد کیا ہے کہ اس کی درخواست پر وزارت دفاع نے عام انتخابات کیلئے پاک فوج کے ساڑھے3لاکھ اہلکار دینے کی حامی بھرلی۔ملک میں25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں اور الیکشن میں سیکیورٹی کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کو خط لکھ کر پاک فوج کے ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کی خدمات طلب کی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع نے تینوں مسلح افواج کے ریٹائرڈ فوجیوں کو الیکشن ڈیوٹیوں کے لئے طلب کرلیا ہے اور ریٹائرڈ جوانوں کے پاس بھی مکمل اختیارات ہوں گے۔اس بارے دو رائے نہیں کہ عام انتخابات کے موقع پر سیکورٹی کے بہترین انتظامات ہونے چاہئیں ایسا کرنا الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن ایساکرتے ہوئے نہ تو بیان بازی کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس قسم کے غیر معمولی اقدامات کے کہ منفی تاثر ابھرے اور شکوک و شبہات جنم لیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک تواتر کے ساتھ جس قسم کے ’’شیر آیا شیر آیا‘‘ قسم کی آوازیں لگائی جا رہی ہیں خدانخواستہ کہیں یہ اس کہانی کا اعادہ قسم کا معاملہ ثابت نہ ہو۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی فضا کیوں پیدا کی جا رہی ہے جس سے ووٹر خوف زدہ ہوجائیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھے۔ جس قسم کے انتظامات اور افرادی قوت کا استعمال اس مرتبہ کرنے کی منصوبہ بندی ہے ایسا تو خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے عالم میں ہونے والی انتخابی مہم کے دوران بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس وقت اس قسم کے خدشات کااظہار سامنے آیا۔ ہمیں متعلقہ حکام کے بیانات پر اعتراض نہیں اعتراض اس بات پر ہے کہ آئے روز حملوں اور مداخلت کا تو ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے مگر عوام کو اس ضمن میں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کا ماخذ کیا ہے۔ وہ کونسے عناصر ہیں اور کیونکر ایسا کرسکیں گے۔ وہ عناصر سرحدوں سے کیسے آئیں گے ان کو کیونکر آنے دیا جائے گا یہاں آکر وہ کہاں الیکشن کے دن تک چھپے رہیں گے اور کیسے باہر نکل کر آزادانہ طریقے سے وہ انتخابی عمل اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ہمارے اداروں کا کردار کیا ہوگا۔ ہماری پولیس کیاکر رہی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی کے انتظامات وقتی اور برموقع محض احتیاط کا تقاضا ہی ہوتے ہیں۔ اصل سیکورٹی اقدامات وہ ہوتے ہیں کہ خطرات کو پہلے ہی سے ختم کیا جائے۔ اس قدر بھاری نفری کی طلبی پر وزارت دفاع افرادی قوت کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔ اسی بناء پر فوج کی تعداد کی تقریباً آدھی نفری بشمول دو سال کے عرصے کے دوران ریٹائر افراد کی فراہمی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پولیس‘ رینجرز‘ ایف سی‘ لیویز اور دیگر سیکورٹی ادارے اس کے علاوہ ہوں گے۔ اس قدر سخت انتظامات کی شاید مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کے دوران ہونے کی مثال ملتی ہو دوسری کسی جگہ اس قسم کے انتظامات کی شنید نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج یا عدلیہ کی نگرانی میں عام انتخابات کے انعقاد میں مضائقہ نہیں لیکن اس سے بعد کی صورتحال کے باعث ان اداروں کو جس قسم کی تنقید اور الزامات کا سامنا ہوتا ہے اس سے ان کی مٹی پلید ہوتی ہے اور الیکشن کمیشن کی ساری نا اہلی ان اداروں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ گزشتہ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کے بعد عدلیہ کاوقار جس طرح مجروح ہوا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ پاک فوج کی نگرانی میں انتخابات پر ابھی سے سیاستدانوں کو تحفظات ہیں اور ایک خاص طبقہ اس تاک میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح فوج کے کردار کو اچھالا جائے۔ ایسے میں اس بڑے پیمانے پر فوج کی تعیناتی سے ان لوگوں کے دہاں مزید کھل جائیں گے جو کوئی اچھی صورتحال نہ ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی اس مرتبہ فوج کے پیچھے چھپنے کی جو کوشش ہے اگر اس کے بجائے الیکشن کے بہتر انتظامات پر توجہ دے کر اپنی خود مختاری اور کارکردگی ثابت کرتا تو وطن عزیز میں انتخابی عمل پر لوگوں کا شکستہ اعتماد بحال ہونے کی ابتدا ہوتی اور انتخابات بارے تحفظات میں کمی آتی۔ سیکورٹی انتظامات کی ضرورت اپنی جگہ لیکن سوائے ڈراوے کے اور ایسی نوعیت کے حالات نظر نہیں آتے کہ اس قدر وسائل کا استعمال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں