Daily Mashriq


کے پی حکومت کی غیر جانبداری پر اٹھتی انگلیاں

کے پی حکومت کی غیر جانبداری پر اٹھتی انگلیاں

مشرق کی یہ رپورٹ چشم کشا ہے کہ خیبرپختونخواکی نگران حکومت کی طرف سے بیوروکریسی میں تبادلے حقیقی تبادلوں کی بجائے محض افسران کی پوزیشنیں تبدیلی کردی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈی سی چترال کو ڈی سی نوشہرہ لگا دیاگیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ موجودہ ڈپٹی کمشنروں اور اعلیٰ پولیس افسران کو ایسی پوسٹنگ دی جاتی جو انتظامی طور پر اختیار و طاقت کے حامل نہ ہوتے۔خیبر پختونخوا کے برعکس تین صوبوں میں پولیس اور بیوروکریسی میں زبردست ردوبدل کیا،خصوصاً پنجاب میں50سے زائد اعلیٰ افسروں کی خدمات وفاق کوواپس کردی گئیں جبکہ تقریباً یہی صورتحال سندھ اوربلوچستان میں بھی رہی اس کے برعکس خیبرپختونخوا میںبظاہر182افسروں کے تبادلے تو کئے گئے ہیں لیکن یہ تبادلے محض دکھاواسے زیادہ کچھ نہیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سیاہ سفیدکے اصل مالک کئی اہم محکموں کے سیکرٹریز بدستوراپنے عہدوں پربراجمان ہیں جبکہ کمشنر،ڈپٹی کمشنر،ڈی آئی جی اورڈی پی اوسطح کے جن افسروں کے تبادلے کئے گئے ہیں انہیں بھی محض ایک علاقے سے اٹھاکر دوسرے علاقے میں تعینات کردیاگیا ہے اورپرائزپوسٹوں پرتعینات بہت سے افسروں کی تعیناتی مزیداچھی پوسٹوں پرکردی گئی ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پنجاب کے برعکس کسی ایک افسرکی بھی خدمات وفاق کوواپس نہیں کی گئیںبعض حلقے اس صورتحال کوپری پول دھاندلی سے تعبیرکررہے ہیں اوران کاموقف ہے کہ اس عمل کامقصدکسی مخصوص سیاسی جماعت کوفائدہ پہنچاناہے،ان حلقوں کے مطابق کسی ایک ڈپٹی کمشنریاڈی پی او کوایک ضلع سے اٹھا کر دوسرے ضلع میںلگاناٹرانسفرنہیں ہوتابلکہ یہ بات تب فائدہ مندہوتی جب اہم انتظامی پوسٹوں پرنئے چہروں کوسامنے لایاجاتا۔اس اعتراض میں نہ صرف وزن ہے بلکہ عین حقیقت ہے۔ خیبر پختونخواکی نگران حکومت اگر اس مرحلے ہی پر اعتراضات کا سبب بننے والے اقدامات کرکے اپنی جانبداری مشکوک بنائے گی تو صوبے میں انتخابات کی شفافیت کا تاثر کیسے قائم ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو ان تبادلوں کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور یہاں بھی پنجاب اور سندھ کا فارمولہ اپنانے کی ہدایت کی جائے۔ موجودہ تبادلے روک دئیے جائیں اور اعتراضات سے بالا تر تبادلے کئے جائیں۔

عازمین حج کے فنگر پرنٹ کیلئے خصوصی انتظامات کی ضرورت

سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں پر خاص طور پر عائد پابندیوں اور اضافی شرائط کا عازمین حج پر بھی اطلاق قابل افسوس امر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے عازمین حج کیلئے بائیو میٹر ک کو لازمی قرار دینے کے بعد تمام عازمین حج کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے پیغامات بھجوائے جائیں گے جس میں عازمین حج کو بائیو میٹرک کیلئے دن اور تاریخ کا بتایا جائے گا جس کے مطابق عازمین حج اپنے بائیو میٹرک کرواسکیں گے ۔ ڈائریکٹر حج کے مطابق وزارت مذہبی امور کی تاریخ کے بغیر عازمین حج کا بائیو میٹر ک نہیں کیا جائے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً سعودی حکومت کا یہ اقدام غیر ضروری اور پاکستانیوں سے امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ اس قسم کی پابندیاں بھارت اور بنگلہ دیش کے شہریوں پر نہیں اور نہ ہی دنیا کے دیگر ممالک پر وہ اس قسم کی امتیازی شرط عائد کرسکتے ہیں۔ بہر حال اب جبکہ اسے واپس لینے کا وقت نہیں تو عازمین حج کی سہولت کے لئے کم از کم اتنے انتظامات ہونے چاہئیں کہ ان کو دھکے نہ کھانا پڑیں اور انتظار کی زحمت نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے حاجی کیمپ پشاور میں دن رات کام کرنے والے خصوصی کائونٹر بنائے جائیں اور تمام ڈویژنل و ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں فنگر پرنٹ کے حصول کی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ عازمین حج کی مشکلات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

اہل تشیع خاندانوں کی واپسی کا قابل اطمینان لمحہ

صدہ سے فرقہ واریت کے باعث چھتیس سال بے گھر ہونے والے اہل تشیع قبائل کی واپسی اور ان کا اہل سنت کے عمائدین کی جانب سے استقبال‘ علاقے میں قیام امن سمیت اخوت و رواداری‘ اسلامی و قبائلی روایات کا عین اظہار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی کی نہ تو دین اسلام میں گنجائش ہے اور نہ ہی اسلام عقیدے کے نام پر بد امنی و انتشار کی اجازت دیتا ہے۔ دین اسلام میں سب سے نا پسندیدہ عمل اخوت و برد باری کی فضا کو توڑنا اور امن عامہ کو نقصان پہنچانا ہے۔ مگر اس کے باوجود بد قسمتی سے مذہب کے نام پر اس قسم کے مظاہر سامنے آتے ہیں کہ جھگڑوں اور فسادات کی نوبت آتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پرمجبور ہونا پڑتا ہے۔ بہر حال اس صورتحال سے علاقے میں امن کی بحالی کا عندیہ ملتا ہے جو خوش آئند ہے۔ اس موقع پر بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ صدہ کی رونقیں لوٹ آئیں گی اور وہاں کے عوام اخوت و بھائی چارے کے ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہرقیمت پر برقرار رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں