Daily Mashriq


ڈگریاں‘ شعبدہ بازی اور سیاست

ڈگریاں‘ شعبدہ بازی اور سیاست

انتخابی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے ہنگام جہاں آج کل ان کے اثاثوں کے بڑے چرچے ہو رہے ہیں اور بقول شخصے خانہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا کہئے۔ ان میں ایسے بھی سامنے آئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی مزید آگے بڑھ سکتا ہے جن کے بارے میں بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس کو سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی۔ یعنی جتنی دولت ان کے پاس نکل آئی ہے اس پر تو حیرت کے پہاڑ ہی ٹوٹ پھوٹ کر لینڈ سلائیڈنگ کا روپ دھار رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بعض لوگوں کا بھرم بھی کھل کر سامنے آرہا ہے اور ان کی ڈگریوں کا پول سب کے سامنے ڈھول کا پول بن کر اپنی حقیقت واضح کر رہا ہے۔ یعنی بقول غالبؔ

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا

اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ اگر کوئی سیاستدان پی ایچ ڈی نہ ہوتے ہوئے اپنے پوسٹر پر خود کو ڈاکٹر لکھے تو یہ غلط ہے۔ عامر لیاقت کے پاس آن لائن ڈگری ہے جو پندرہ دن میں ملی تھی کوئی بیان حلفی میں غلط بیانی کرتا ہے تو یہ جعلسازی اور توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔ پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے کہا کہ کسی نے ماضی میں کاغذات نامزدگی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ظاہر کی ہو تو وہ اسے واپس نہیں لے سکتا۔ پھر یقینا صادق اور امین کا مسئلہ بنتا ہے۔ اس پر تو سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا یاد آنا یقینی بنتا ہے جن کا اس حوالے سے قول ۔ قول فیصل کا درجہ اختیار کرگیا تھا۔ یاد رہے کہ ڈگریوں ہی کے معاملے پر موصوف نے ایک بار کہا تھا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی۔ اور ان کے اس قول فیصل کے اس قدر چرچے ہوئے تھے کہ کیا تجزئیے‘ کیا تبصرے‘ کیا خبریں‘ کیا کالم‘ اس بات کی بازگشت تسلسل کے ساتھ سنائی دیتی رہی‘ اس لئے اگر سیاسی رہنمائوں کی ڈگریوں کے حوالے سے نواب اسلم رئیسانی کے کلئے پر عمل کیا جائے تو پھر نہ کوئی مسئلہ رہے گا نہ کوئی اعتراض سامنے آئے گا۔ اور ہمارے ہاں تو ویسے بھی ڈگریوں کی بندر بانٹ لگی ہوئی ہے۔ ماضی قریب میں ایک ایسے ادارے کی خبروں میں بڑی دھوم رہی ہے بلکہ اب بھی کبھی کبھی عدالت عظمیٰ میں اس کی باز گشت سنائی دے جاتی ہے جس پر دنیا بھر میں جعلی ڈگریوں کی تقسیم کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اور پوری دنیا میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس ادارے کی ڈگریوں کے حوالے سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ

مے کدہ ہے یہ نہیں دیر و حرم اے واعظ

لاکھ کافر جو یہاں آئے مسلمان گئے

ایک اس ادارے پر ہی کیا موقوف یہاں تو ایک بار پھر پشاور یونیورسٹی کا کردار زیر بحث آرہا ہے جس نے مبینہ طور پر ماضی میں کسی مراد سعید نام کے شخص کو غیرقانونی ڈگری جاری کرکے ریکارڈ قائم کیا اور غالباً دنیا میں ایسا پہلا موقع تھا جب آدھے گھنٹے میں کوئی شخص اکٹھے تین پرچے (جن میں سے ہر ایک کے لئے تین تین گھنٹے کا وقت مقرر تھا) دے کر نہ صرف فارغ ہوگیا بلکہ اسے ڈگری بھی جاری کردی۔ اس پر پہلے بھی احتجاج کا ڈول ڈالا گیا تھا جس پر متضاد خبریں آتی رہیں مگر مبینہ طور پر بالآخر سیاسی دبائو کے تحت احتجاج کو زیرو میں ضرب دیتے ہوئے وہی کیا گیا جو ایسے معاملات میں سیاسی طور پر ہوتا رہتا ہے۔ اب متحدہ طلبہ محاذ جامعہ پشاور نے ایک بار پھر اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے گورنر کے پی سے (جو یونیورسٹی کے بہ لحاظ عہدہ چانسلر بھی ہیں) مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ضمن میں غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے کر انکوائری کرائی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ اس صورتحال پر احمد فراز یاد آگئے‘ کہا تھا

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

ڈگریوں کے حوالے سے ہمارا قومی ٹریک ریکارڈ ویسے بھی بڑا شاندار ہے اور ریکارڈ کے دیکھتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی کا قول اپنی وقعت کے حوالے سے مستند قرار دینے میں بھی کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے۔ اگر آپ ماضی میں جھانک کر دیکھیں ( شاید اب بھی کہیں نہ کہیں ایسا ہی ہو) تو آپ کو اپنے ارد گرد ایسے شعبدہ باز نظر آتے ہوں گے جو ہاتھ کی صفائی کے کرتب دکھا کر بچہ لوگ کو خوش کرتے رہتے تھے۔ وہ اکثر سکولوں میں آکر طالب علموں کو مختلف کرتب دکھایا کرتے تھے اور بچے اسے جادو گری کا کمال سمجھتے ہوئے حیرت سے دانتوں میں انگلی دبا کر رہ جاتے تھے۔ یہ عموماً ایک میز منگوار کر اس پر سیاہ رنگ کا کپڑا بچھا دیتے‘ پیچھے دیوار پر بھی سیاہ بینر آویزاں کردیتے جس پر ایک کھوپڑی جو دو ہڈیوں کے بیچ کسی پینٹر سے بنوائی ہوتی آویزاں کرتے اور اس پر اپنا نام بھی( اکثر) لکھوایا ہوتا جس کے ساتھ سابقہ کے طور پر پروفیسر ضرور لکھا ہوتا‘ گویا یہ جادوگری کا پروفیسر ہوتا۔ اسی طرح ملک کے مختلف شہروں اور بڑے بڑے قصبوں میں جو لوگ جو تش‘ رمل‘ ہاتھ کی لکیریں پڑھ کر قسمت کا حال بتانے اور گنڈے تعویزوں کا کام کرکے سادہ لوح افراد کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کا دھندہ کرتے ہیں وہ بھی اپنے ناموں کے ساتھ پروفیسر بطور سابقہ استعمال کرتے ہیں۔ ان حالات میں جب ہم اپنے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہیں تو معاشرے میں موجود ان خود ساختہ پروفیسر جو تشیوں‘ ماہرین‘ دست شناسی اور ماہرین گنڈے تعویز کی طرح ہمارے سیاسی رہنماء ان سے کسی طور کیا کم ہیں جو قسمتوں کا حال بتا کر پل بھر میں محبوب آ پ کے قدموں میں اور دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لئے تعویز لکھ کر ات مچائے ہوئے ہیں۔ یعنی جو دولت آج کل ہمارے سیاسی رہنماء اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کر رہے ہیں (تجزیہ نگار ان ظاہر کردہ اثاثوں کو بھی درست نہیں مانتے) کیا ان میں سے اکثر نے یہ دولت قومی خزانے سے لوٹ کر اکٹھی نہیں کی۔ تو ان سے بڑا شعبدہ باز اور کون ہوسکتا ہے کہ انہوں نے تو اس کام میں ڈگریوں پہ ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔

متعلقہ خبریں