Daily Mashriq


ہماری ترجیحات درست نہیں

ہماری ترجیحات درست نہیں

تجزئیے ہی تجزئیے سنائی دیتے ہیں اور اس وقت تک سنائی دیتے رہیں گے جب تک انتخابات اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ جاتے۔ پاکستان میں یوں بھی سیاسی طورپر بہت زندہ لوگ ہیں۔ سیاست پر یوں نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں جیسے اس سے زیادہ دلچسپ اور کوئی منظر نہ ہو۔ شاید یہ اس لئے ہے کیونکہ ہمارے لئے توجہ طلب معاملات ہی بہت کم ہیں۔ کرکٹ اور سیاست دونوں ہی ہماری دلچسپی کی باتیں تھیں اور دونوں میں ہی بد عنوانی نے معاملات کو تباہ کر رکھے ہیں۔ غریب ہونے کے باعث ہمارا بحیثیت قوم ہی سیاحت اور تفریح سے کوئی شغف نہیں۔ پھر سستی ہمارے مزاج میں شامل ہے۔

سب سے بہترین تفریح شام کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ جانا ہے۔ سو ہم وہی کیاکرتے ہیں‘ اب چونکہ انتخابات کاموسم ہے کبھی سیاستدانوں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی بات ہوتی ہے‘ کبھی ان کے ظاہر کئے گئے اثاثوں کی بابت سوال جواب ہوتے ہیں۔ کبھی مضحکہ اڑایا جاتا ہے کہ وہ ہمیں اس قدر بے وقوف سمجھتے ہیں کہ ہم یقین کرلیں گے کہ بس یہی چند کروڑ کے اثاثے انہوں نے بنائے ہوں گے۔ کبھی ہم اپنی اپنی پسند ناپسند کے دائروں میں ایسے الجھتے ہیں کہ منطق‘ عقل اور فہم کی کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پھر وہ صرف اس لئے بھٹو کو ووٹ ڈالتے ہیں کیونکہ ان کے آباء بھی یہی کرتے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ شریف برادران انہیں لوٹ لوٹ کھاتے رہے ہیں لیکن وہ خود اپنی بھی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ووٹ تو انہوں نے شیر کو ہی ڈالنا ہے۔

ہماری سیاست کاکمال ہی یہی ہے کہ منطق اور فہم کے پیمانے یہاں سب ٹوٹ جاتے ہیں اور دلیل میں وزن کس طرح بھر دیا جاتا ہے کچھ معلوم نہیں ہو پاتا۔ شاید اسلئے اس بار عمران خان پاکستانیوں کے طرز پر انتخابات میں شریک ہو رہے ہیں۔ انہیں نہ پارٹی کارکنوں کی فکر رہی ہے نہ ہی پارٹی امیج کا کوئی خیال باقی ہے۔ وہ صرف انتخابات میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں اس لئے وہ ان لوگوں کو اپنے حلقہ احباب میں شامل کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں عوام کی رائے کیسی ہے؟ لوگ انہیں زمینوں پر قبضہ کرنے الے گروہوں کے سرغنہ سمجھتے ہیں یا کردار کی گراوٹ کاشکار۔ ان کے بارے میں لوٹے کا خطاب زبان زد خاص و عام ہے یاکچھ اور عمران خان اس بار پاکستانیوں کی مرضی کی سیاست کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طور ان کی پارٹی کامیاب ہوسکے۔ وہ اتنی نشستیں حاصل کرلیں کہ کامیاب ہو جائیں‘ حکومت بنائیں اور پھر لوگوں کو بتائیں اور دکھائیں کہ پاکستان سے محبت کس چڑیا کا نام ہے۔ اس ملک کی اور عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے کام کس طرح کیاجاتا ہے۔ کیسے ان منصوبوں کو پروان چڑھایاجاتا ہے جن کے بارے میں سیاسی حکومتیں اس لئے فیصلہ کرتے کتراتی ہیں کیونکہ ان کی عمر بہت طویل ہوتی ہے اور ان کی حکومتوں کی عمر سے کہیں آگے بڑھ جاتی ہے۔ وہ لوگو ں کو اصل احتساب دکھانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی اس سوچ سے میں اور آپ متفق ہیں لیکن شاید ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہم ایسی باتوں سے اس وقت تک متفق ہوتے ہیں جب تک ان کے اثرات خود ہماری ذات پر مرتب نہ ہوتے ہوں۔ جیسے ہی ایسی کوئی بات محسوس بھی ہو ہم اس سے بدک جاتے ہیں اورعمران خان جیسے لیڈروں سے بھی بدک جایا کرتے ہیں۔ تبھی عمران خان سے پہلے اصغر خان کو بھی ہم نے پسند تو بہت کیا لیکن انہوں نے کبھی انتخابی کامیابی کا چہرہ نہ دیکھا۔ ہمارے کردار کے اپنے بھی کئی ایسے رنگ ہیں جو شاید سیاستدانوں کو خواب دیکھتے ہوئے یاد نہیں رہتے۔ تبصرے کرتے ہوئے تجزیہ نگار بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم کیسے لوگ ہیں‘ جس کا نالائق بیٹا بے روز گار ہو‘ اسے اس ملک میں میرٹ کی بالادستی سے کوئی سروکار نہیں۔ اسے وہ لیڈر چاہئے جو اپنے حکم پر اس کے بیٹے کو ملازم کرواسکے۔ اسے نہ ملک کی آب و ہوا سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی نظام کی درستگی سے۔ اس کے گھر کانظام درست رہے اس سے آگے وہ نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ ہی کسی بات کا احساس باقی رہتاہے۔ ابھی عمران خان کو کئی باتوں کا اندازہ نہیں۔ کے پی کے کے لوگوں کے مزاج بھی ذرا مختلف ہیں۔ پنجاب کی حکومت کو ساتھ لے کر چلنے میں اکثر اصول تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کی خواہشات منہ زور ہو جاتی ہیں۔ میری تو دعا ہے کہ اس ملک میں کوئی اچھا شخص حکمران ہو۔ میں نہیں جانتی کہ تحریک انصاف میں کیا صلاحیت ہے کیونکہ جو گروہ عمران خان نے اکٹھا کیا ہے اسے سیدھے راستے پر چلانا تقریباً نا ممکن لگتاہے۔ ہمارے لئے سوچ کے کئی دریچے وا ہیں۔ امید کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی لیکن سچ پوچھئے تو ہمارا ضمیر بحیثیت قوم اس امید کامتلاشی بھی نہیں۔ہم اپنی اسی حالت پر قانع رہنا چاہتے ہیں اورہر حال میں خوش رہنا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ حالات میں سدھار کی کوئی کرن نہ پھوٹے۔ میں اور آپ امیر ہونا چاہتے ہیں۔ بہتری چاہتے ہیں‘ دوسروں کا احتساب چاہتے ہیں اور تماشا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے زیادہ کی نہ تو ہماری خواہش ہے اور نہ ہی جستجو۔ عمران خان ہو‘ نواز شریف یا زرداری ہمارے لئے سب ایک ہی جیسے ہیں کیونکہ ہماری اپنی ترجیحات درست نہیں۔

متعلقہ خبریں