Daily Mashriq


رعایا کو زبان مل رہی ہے

رعایا کو زبان مل رہی ہے

2018ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے انتخابی گوشواروں پر ہونے والے تبصرے بہت دلچسپ ہیں۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نوازپانامہ سکینڈل کے دنوں میں تواتر کے ساتھ کہتی رہیں کہ لندن تو کیا میری پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں لیکن انتخابی گوشواروں میں انہوں نے جائیدادوں کی جو تفصیلات لکھیں وہ برکتوں کاکمال ہی ہوسکتا ہے۔ سسر سے 1500 ریال ماہوار خرچہ لینے کا اعتراف کرنے والے داماد اول کیپٹن صفدر کے اثاثے چلیں گھر جوائی کا اتنا تو حق بنتا ہے۔ محنت کش والد کے فرزند شہباز شریف اپنی خاتون اول کے مقابلہ میں اب بھی غریب ہیں۔ حمزہ شہباز اور سعد رفیق نے دو دو بیگمات کا اعتراف کیا ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھی رئیس ابن رئیس ہیں۔ پیشوائے بنی گالہ کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ اچھا غور طلب بات یہ ہے کہ ان اثاثوں کے اعلان کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ میری دانست میں جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ تین بڑی سیاسی جماعتوں نون لیگ‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے اب تک جن امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان کا تعلق معاشرے کے کن طبقات سے ہے؟ 95فیصد امیدواروں کا تعلق انہی استحصالی طبقات سے ہے جن کی چوتھی نسل ہماری گردنوں پر سوار ہے۔ 5فیصد کا تعلق قدرے متوسط گھرانوں سے ہے۔ انتخابی عمل جس قدر مہنگا ہے کون رسک لے گا درمیانے طبقے کے امیدوار لانے کا۔ ویسے ہمارے مرشد گرامی سید یوسف رضا گیلانی کے پاس گاڑی ہے نا کاروبار‘ پیری مریدی کوئی کاروبار تو نہیں نا صاحب۔ کمانڈومشرف بھی اہلیہ کے مقابلہ میں غریب ہیں۔

چند دن قبل شہباز شریف کو ڈی جی خان سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوانے والے سردار جمال لغاری کے ساتھ ان کے حلقہ انتخاب کے کچھ نوجوانوں نے جو سوال و جواب کئے ان پر سردار ابن سردار کو دانتوں پسینہ آگیا۔ انہیں توقع ہی نہیں تھی کہ پسماندہ ترین علاقے میں شستہ انگریزی بولنے والے نوجوانوں کا گروہ اس طرح آڑے ہاتھوں لے گا۔ سردار نے خفت مٹانے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے اس ویڈیو میں اسلامی اخوت و تعلیمات کا جو بھاشن انہوں نے دیا وہ ان کی ذاتی زندگی اور رعونت سے مختلف ہے۔ سوال کرنے والے نوجوانوں کو تو وہ کہہ رہے تھے کہ ایک ووٹ کی پرچی پر اتنا ناز کیوں مگر ویڈیو پیغام میں اسلامی بھائی چارے کا چورن فروخت کر رہے تھے۔ اپنے والد کی جدوجہد‘ خدمات اور قربانیاں گنوانے والے جمال لغاری کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہے کہ ان کے حلقہ انتخاب میں پچھلے 70برسوں کے دوران کتنے کالج‘ سکول‘ پینے کے صاف پانی کے مرکز ‘ ہسپتال اور بنیادی طبی مراکز قائم ہوئے۔ بھیڑ بکریوں جتنی اہمیت رعایا کو نہ دینے والے جب اسلامی اخوت کی بات کرتے ہیں تو رونا آتا ہے۔ جمعرات 21جون کو سندھ کے علاقے کشمور میں سردار سلیم جان مزاری باغی نسل کے سوالوں سے گھبرا کر بھاگ نکلے۔ سندھ کے اس پسماندہ ترین ضلع کی قسمت کا مالک مزاری خاندان صدیوں سے قیادت و سیادت پر قابض ہے۔ ایوان اقتدار کے اس لاڈلے خاندان نے اس ضلع کو کیا دیا۔ نوجوانوں کے سوالوں پر سردار سلیم جان کہنے لگے اگر ہماری قوم تھوڑا سا صبر کرلے تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ نوجوانوں نے جواب دیا 50سالوں سے صبر ہی تو کرتے آرہے ہیں سوال تو پہلی بار کئے ہیں۔ بتائیں ضلع میں 50سالوں کے دوران آپ کے خاندان نے کیا تعمیر و ترقی کروائی۔ سکول‘ کالج ‘ ہسپتال‘ پینے کا پانی‘ روزگار کے مواقع کہاں کہاں فراہم ہوئے۔ یونیورسٹی کیوں نہ بن پائی؟ سوالوں سے گھبرایا سردار بھاگ نکلا۔

مندرجہ بالا دو مثالیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رعایا کو زبان لگ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا جادو سر چڑھ کر بول رہاہے۔ سرداروں‘ پیروں میروں‘ مخدوموں‘ سیدوں‘ خانوں‘ وڈیروں اور چودھریوں کی رعونت اور لولی پاپ کا جادو اب نہیں چلنے والا۔ رعایا کو بتانا پڑے گا کہ کیسے طبقاتی خلیج دن بدن وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ جمال لغاری اور سلیم مزاری سے نوجوانوںکے سوالات ابتدائیہ ہیں ٹریلر ہے فلم ابھی چلنی ہے۔ ادھر بنی گالہ میں ملتان کے بوسن گینگ کے خلاف دھرنا تا دم تحریر جاری ہے۔ کپتان کو دھرنے کی پرواہ نہیں وہ الیکشن سائنس میں پی ایچ ڈی امیدواروں کو ٹکٹیں دے کر مطمئن ہیں۔ یہ الیکشن سائنس کیا ہے۔ صاف سیدھی بات ہے نظریہ نہیں زور آوری ہے۔ ہر قیمت پر الیکشن میں کامیاب ہونا‘ قیمت بھری جیبوں والے ادا کرتے ہیں یہی تین بڑی جماعتوں کے مالکان کی آنکھوں کے تارے ہیں۔ کاروباری سیاست کی چھتر چھایہ میں مزید دس الیکشن کروالیجئے تبدیلی نہیں آئے گی۔ تبدیلی کے لئے لازم ہے کہ رعایا چپ کا روزہ توڑے سوال کرے اپنا حق مانگے اور حقوق غصب کرنے والوں کو آئینہ دکھائے۔ پچھلے 70برسوں کے دوران جتنے بھی انتخابات ہوئے ان کے نتیجے میں بالا دست طبقات کی گرفت مضبوط ہوئی۔ ہمارے محبوب ذوالفقار علی بھٹو اشرافیہ کے برج الٹا کر اقتدار میں آئے تھے لیکن پھر ملاں اشرافیہ اور بیورو کریسی کی تگڑم نے انہیں گھیر لیا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انتخابی عمل پر خطرات کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ اللہ کرے الیکشن مقررہ وقت پر ہوجائیں ویسے التواء کے حامی ابھی نچلے نہیں بیٹھے لیکن الیکشن نہ ہوئے تو نقصان زیادہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں